امام کعبہ شیخ صالح کا تاریخی دورۂ پاکستان

امام کعبہ شیخ صالح کا تاریخی دورۂ پاکستان
امام کعبہ شیخ صالح کا تاریخی دورۂ پاکستان

  

امام کعبہ الشیخ صالح بن محمد ابراہیم آل طالب نے جمعیت علمائے اسلام کے اجتماع میں شرکت کے لئے پاکستان کا دورہ کیا۔اجتماع میں خطبہ جمعہ کے علاوہ انہوں نے اختتامی دُعا بھی کروائی،جبکہ اسلام آباد اور لاہور میں قومی شخصیات سے ملاقاتیں بھی کیں ۔امام حرم کا آبائی تعلق سخاوت اور دریا دلی میں اپنا ثانی نہ رکھنے والے مشہور زمانہ حاتم طائی کے خاندان ’’بنو طیٰ ‘‘ سے ہے۔ سخاوت اور دریا دلی میں امام کعبہ کا خاندان کسی طور پر بھی حاتم طائی سے کم نہیں ہے۔

امام کعبہ نے انفرادی طور پر سعودی عرب میں تحفیظ القرآن کے درجنوں تعلیمی ادارے قائم کر رکھے ہیں، جن کا انتظام و انصرام وہ خود کرتے ہیں،جبکہ دیار عرب سے باہر بھی سینکڑوں ادارے ایسے ہیں۔ جن کی سرپرستی امام کعبہ کرتے ہیں۔ امام کعبہ کے والد محترم الشیخ محمدابراہیم بن محمد آل طالب اور دادا الشیخ ابراہیم بن محمد بن ناصر آل طالب کا شمار سعودی عرب کے مشہور فقہااور حدیث کے ماہرین میں ہوتا تھا۔امام کعبہ الشیخ صالح بن محمد کا خاندان علماء ، حفاظ اور قاضیوں کی وجہ سے پورے خطہ عرب میں شہرت رکھتا اور جانا جاتا ہے۔30 جولائی 1974 ء کو پیدا ہونے والے شیخ صالح بن محمد ابراہیم آل طالب نے انتہائی کم عمری میں ہی سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے ایک مدرسے سے قرآن کریم حفظ کرنے کی سعادت حاصل کی، جبکہ اسی شہر میں سے ابتدائیہ اور ثانویہ کی تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ قرأت اور سبعہ عشرہ کے علوم میں بھی دسترس حاصل کی۔امام کعبہ نے ریاض کے شریعہ کالج سے گریجوایشن کرنے کے بعد ہائیر انسٹیٹیوٹ آف جسٹس سے ماسٹر ڈگری امتیازی نمبروں سے حاصل کی۔ امام کعبہ الشیخ صالح بن محمد آل طالب نے آکسفورڈ یونیورسٹی برطانیہ سے بین الاقوامی دستور میں پی ایچ ڈی کی ڈگر ی حاصل کرنے کے ساتھ واشنگٹن کے ایک بین الاقوامی ادارے سے قانون کی تعلیم اور سرٹیفکیٹ حا صل کیا۔امام کعبہ نے سعودی سپریم کورٹ میں تین برس تک جج کے فرائض انتہائی ذمہ داری کے ساتھ انجام دیئے، آج کل وہ بیت اللہ کی امامت و خطابت کے ساتھ مکہ المکرمہ کی سپریم کورٹ میں بطور قاضی فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔امام کعبہ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے 17برس کی عمر میں سعودی عرب کے شہر ریاض کی بڑی مسجد علیاء آل شیخ میں امامت کا باقاعدہ آغاز کر کے ایک بڑی سعادت حاصل کی تھی۔

امام کعبہ الشیخ صالح بن محمد ابراہیم آل طالب دنیا بھر میں پُر سوز آواز میں تلاوت قرآن کی وجہ سے مشہور و معروف ہیں ۔دُنیا بھر سے سعودی عرب حج اور عمرے کی سعادت حاصل کرنے کے لئے جانتے والے کروڑوں فرزندان توحید امام کعبہ الشیخ ڈاکٹرصالح بن محمد کی پُر کیف اور پُر سوز آواز سے نہ صرف آشنا ہیں، بلکہ رقت آمیز لہجے میں امام کعبہ کی مانگی جانے والی دعائیں حرم سے واپس آنے والوں کے دِلوں میں پیوست ہو جاتی ہیں۔امام کعبہ الشیخ صالح صرف امام و خطیب اور قاضی ہی نہیں،بلکہ ایک بہترین اور مایہ ناز مصنف و ادیب بھی ہیں ۔انہوں نے اصلاحی ،تربیتی،اجتہاد ،تقلید اور نفاق کے موضوعات پر کئی معرکہ آراء کتابیں لکھیں، جنہیں عرب و عجم میں بے پناہ پذیرائی حاصل ہوئی۔ان کی عربی زبان میں لکھی جانے والی ایک کتاب ’’تہذیب و ثقافت کی اشاعت میں مسجد الحرام کا کردار ‘‘ نے عالم عرب میں بے پناہ شہرت حاصل کی، اب اس کتاب کے کئی زبانوں میں تراجم کا کام جاری ہے۔۔۔امام کعبہ شیخ ابراہیم الصالح کے پشاور پہنچنے پر ان کاشاندار استقبال کیا گیا، سعودی وزیر مذہبی امور بھی ہمراہ تھے۔ گورنر خیبرپختونخوا اقبال ظفر جھگڑا، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن، ڈپٹی چیئرمین سینٹ نے ان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر بحرین کے ممبر پارلیمنٹ بھی استقبال کے لئے باچا خان ائیرپورٹ پر موجود تھے۔ امام کعبہ شیخ صالح نے جے یو آئی کے اجتماع میں نمازِ جمعہ کا خطبہ دیا، امام کعبہ شیخ صالح بن ابراہیم نے پارلیمنٹ ہاؤس میں ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی مرتضیٰ جاوید عباسی سے ملاقات کی۔ ملاقات میں اْمت مسلمہ کو درپیش چیلنجوں اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ امام کعبہ سے گفتگوکرتے ہوئے ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ پوری اُمت مسلمہ کو دہشت گردی اور انتہا پسندی کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے ان کے روزمرہ کے معاملات زندگی اورمعیشت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ یہ ہمارے مشترکہ دشمنوں کی سازش ہے جو اسلامی دُنیا کو خوشحال اور ترقی یافتہ نہیں دیکھنا چاہتے۔

صدر ممنون حسین نے ملاقات کے دوران کہا کہ انتہا پسندی کے خلاف جوابی بیانیے کے لئے عالم اسلام کے دانشور مل کر کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ انتہاپسندی سے نمٹنے کے لئے علماء کا عالمی گروپ تشکیل دیا جائے۔ موجودہ دور کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے عالم اسلام مل کر کام کرے۔ صدر نے کہا دینی مدارس کے طریقہ تعلیم میں دور جدید کے مطابق تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاسعودی عرب کے خلاف کسی قسم کی جارحیت کو پاکستان پر حملہ تصور کیا جائے گا،جس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے امام کعبہ نے کہا دہشت گردی مسلمانوں کے خلاف ہورہی ہے لیکن اس کا الزام بھی انہیں ہی دیا جاتا ہے۔دہشت گردی کے خلاف پاکستان کا کردار تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ عالم اسلام رہنمائی کے لئے پاکستان اور سعودی عرب کی طرف دیکھتا ہے۔بعد ازاں وزیراعظم نواز شریف سے امام کعبہ نے ملاقات کی۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہا پاکستان کے عوام سعودی عرب سے مذہبی اور روحانی طور پر منسلک ہیں اور دو نوں ممالک جغرافیائی طور پر تو ایک دوسرے سے دور ہیں، لیکن ان کے دِل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں اور ان کی اسلامی اور ثقافتی اقدار مشترک ہیں۔وزیراعظم نے کہا پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات مزید مستحکم ہورہے ہیں اور دونوں ملکوں کے عوام ایک دوسرے کو احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے کہااسلام امن ، محبت ، تحمل ، درگزر اور احترام انسانیت کا درس دیتا ہے۔ ہمیں اسلام کے پیغام کو پوری دُنیا میں پھیلانا ہو گا۔انہوں نے کہا مذہبی رہنما اور دانشور اسلام کے خلاف منفی پروپیگنڈے کو زائل کرنے میں کردار ادا کریں۔ وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف سے امامِ کعبہ الشیخ صالح محمدبن طالب نے وفد کے ہمراہ ملاقات اور ظہرانے میں شرکت کی۔ ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب کے باہمی تعلقات کے فروغ اور امت مسلمہ کے مسائل کے حل پر بات چیت ہوئی۔ ظہرانے میں ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی ، وفاقی وزراء، سینیٹرز ، ارکانِ اسمبلی سمیت تمام مسالک کے علماء کی کثیر تعداد شریک تھی۔

امامِ کعبہ شیخ صالح نے پاکستان میں انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے علماء و مشائخ کونسل کے قیام کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ آج کے دور میں مسلم اُمہ بہت سے فتنوں میں بٹی ہوئی ہے۔ ہمیں آپس کے تمام اختلافات بھلا کر اس اُمت کے لئے ایک ہونا پڑے گا اور احترام و محبت کے رشتے کو فروغ دینا ہو گا۔انہوں نے واضح کیا کہ اعتدال پسندی دین کا خاصہ ہے۔ ہم بڑوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم جوانوں کی صحیح رہنمائی کریں۔ پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ زاہدمحمود قاسمی اور مولانا حنیف جالندھری کی قیادت میں وفود سے بھی امام کعبہ نے ملاقات کی۔ اس موقع پر امام کعبہ شیخ صالح بن ابراہیم نے کہا ہے کہ دہشت گردی اور تشدد کو اسلام کا نام دینے والے کسی طور پر درست نہیں ہو سکتے۔اُمت مسلمہ اِس وقت ابتلاء اور آزمائش کے دور سے گزر رہی ہے،اتحادواتفاق وقت کی ضرورت بھی ہے اور حالات کا تقاضا بھی ،علمائے کرام نے ہمیشہ انسانی فلاح وبہبود کے لئے نمایاں کردار ادا کیا ہے، اب بھی وہ اپنا قائدانہ کردار ادا کرتے ہوئے عالم اسلام کو بحرانوں سے نکالنے کے لئے عملی جدوجہد کریں۔جما عت الدعوۃسیاسی امور کے سربراہ پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی نے کہا کہ امام کعبہ الشیخ صالح بن محمد کا خطبہ جمعہ انتہائی اہمیت کا حامل، ہر حوالے سے قابلِ تحسین اور صحیح معنوں میں امت مسلمہ کے جذبات کی ترجمانی ہے۔ اسلام سلامتی اور امن کا دین ہے، اس کا فرقہ واریت اور دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ آج کے حالات میں بہت ضروری ہے کہ علمائے کرام امام کعبہ کے فرمودات پر عمل کرتے ہوئے فرقہ واریت اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہاکہ امام کعبہ کی پاکستان آمد پر پوری پاکستانی قوم خوشی سے سرشار ہے اور اُنہیں دِل کی گہرائیوں سے خوش آمدیدکہتی ہے۔ بادشاہی مسجد میں نماز مغرب کی امامت کے بعد وہاں نمازیوں کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے امام کعبہ الشیخ صالح بن محمدبن ابراہیم آل طالب نے کہا کہ اُمت مسلمہ جب تک اللہ کی کتاب اور سنت رسولؐ سے جڑی رہے گی، اسے دُنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی ۔ مسلمان بھائی بھائی ہیں، جب تک ہم متحد ہیں، اسلام کے خلاف کوئی سازش کامیاب نہیں ہوسکتی، اہلِ پاکستان کو میرا پیغام ہے کہ وہ کسی قسم کی تفرقہ بازی کا شکار نہیں ہوں۔ دین اسلام اتحاد اور محبت کا درس دیتا ہے۔ سعودی حکمران، علماء اور عوام کی طرف سے پاکستانیوں کے لئے محبت کا پیغام لایا ہوں۔

امام کعبہ الشیخ صالح بن محمد آل طالب پاکستان کے دورے کے بعد واپس سعودی عرب پہنچے تو انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لوگ بڑے مہمان نواز ہیں اور میں ان کی محبت، اسلا م پسندی اور مہمان نوازی کو کبھی نہیں بھلا پاؤں گا۔ پاکستان میں اپنے دورے کے دوران انہوں نے کہا کہ مسلم اٍمہ کے مسائل کا حل اتحاد میں ہے، اسلامی ممالک کے خلاف ہتھیار اٹھانے والے دہشت گردی کو تقویت دے رہے ہیں۔پاکستان سعودی عرب کی اسلامی اور ثقافتی اقدار مشترک ہیں۔امت مسلمہ کا خون پوری دُنیا میں بہایا جارہا ہے، مگر دہشت گردہونے کا الزام پھر بھی مسلمانوں پر لگایاجاتا ہے۔علمائے کرام دہشت گردوں کے نظریات کے مقابلے کے لئے عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق اپنے آپ کو تیار کریں، مسائل اورمصائب کے دن ختم ہونے والے ہیں،اسلام اپنے پیغام حقانیت کی وجہ سے پوری دُنیا میں پھیل رہا ہے،پاکستان کے عوام کی طرف سے والہانہ محبت دیکھ کر دُل خوش ہوا۔

مزید :

کالم -