پنجاب میں جیتنے کے لئے اتحاد کی ضرورت

پنجاب میں جیتنے کے لئے اتحاد کی ضرورت
 پنجاب میں جیتنے کے لئے اتحاد کی ضرورت

  

الیکشن میں ابھی ایک سال کی مدت باقی ہے، (قانونی طور پر) ویسے وزیراعظم کی مرضی ہے کہ ابھی الیکشن کا اعلان کردیں، چونکہ ایک سال پہلے ہی ہر بڑی چھوٹی سیاسی پارٹی نے 2018ء میں ہونے والے الیکشن کی تیاری شروع کردی ہے ان کی خواہش ہے کہ الیکشن مدت سے پہلے ہوجائیں، ما سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے الیکشن جیت کر اپنے اپنے حلقے کے عوام سے رابطہ نہیں کیا۔ تقریباً تمام سیاسی پارٹیوں کی نظریں پنجاب پر لگی ہوئی ہیں، جہاں اصل انتخابی معرکہ ہوگا۔ جو سیاسی جماعت پنجاب سے جیتے گی، وہی وفاقی حکومت بنائے گی۔ (ن) لیگ کے صدر میاں نواز شریف نے اپنی پارٹی کو الیکشن کی تیاری کے لئے کہہ دیا ہے اور اپنے تمام ممبران اسمبلی کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے اپنے حلقوں میں الیکشن کی تیاری کریں۔ اس سلسلے میں وفاقی حکومت ان کو کافی فنڈز دے گی تاکہ وہ اپنے علاقوں میں زیادہ سے زیادہ ترقیاتی کام کرواسکیں۔ معذرت کے ساتھ جتنے ترقیاتی فنڈز زیادہ ملیں گے، اس سے قد آور لوگوں کو وافر کمیشن حاصل ہوجائے گی جو الیکشن لڑنے کے کام آسکتی ہے۔ یہ الزام تراشی نہیں ہے، کمیشن سسٹم میں رائج ہے۔ چھوٹے چھوٹے مکان بھی کمیشن کے بغیر کرائے پر نہیں ملتے، پانچ مرلے کے پلاٹوں پر کمیشن ہے۔ نقشے پاس کروانے پر کمیشن ہے، باہر کے ملکوں میں جو لوگ جائیدادیں بناتے ہیں، اپنی آمدن چھپاتے ہیں، وہ زیادہ تر کمیشنوں کی آمدن ہوتی ہے۔ وزیراعظم بھی پاکستان کے مختلف علاقوں کا دورہ کررہے ہیں۔ وہ اپنی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے اربوں کھربوں کے منصوبوں کا اعلان کررہے ہیں۔ ن لیگ کے موجودہ ایم این اے اور ایم پی ایز میں سے اکثریت ہی اگلے الیکشن میں اس کے امیدوار ہوں گے اور ان کو یقین ہے کہ وہ اگلا انتخابی معرکہ آسانی سے جیت جائے گی، تاہم سندھ، جس کو وزیراعظم نواز شریف نے بالکل نظر انداز کیا ہوا تھا، اب کچھ اس طرف دھیان دیا گیا۔ اس میں بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔

وزیراعظم نے کہا ہے کہ الیکشن اگلے سال ہوئے تو اس طرف کافی توجہ دیں گے تاکہ وہاں سے کچھ سیٹیں حاصل کرسکیں۔ ن لیگ بلوچستان کے میں زیاد فکر مند نہیں ہے، کیونکہ وہاں اس کی پوزیشن بھی اچھی ہے۔ سرداری نظام ہے، ن لیگ نے تمام بڑے بڑے سرداروں کو نوازنا شروع کیا ہے اور اس کے اتحادی پختونخوا ملی پارٹی، عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی بھی کافی نشستیں جیت سکتے ہیں، مولانا فضل الرحمن کی پارٹی بھی بلوچستان میں ن لیگ کا ساتھ دے گی، کے پی کے میں بھی یہ پُر امید ہیں کہ 2013ء کے مقابلے میں 2018ء میں ن لیگ بہتر کارکردگی دکھائے گی، پی ٹی آئی کے مقابلے میں کے پی کے میں ن لیگ نے وفاقی خزانے کے منہ کھول دیئے ہیں۔ وہ وفاقی سرکاری خرچے پر صوبائی حکومت کے خلاف کھل کر جلسے جلوس کررہے ہیں، لیکن مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا میں اپنے حق میں کرنے میں ابھی تک کامیاب نہیں ہوسکی، کیونکہ کے پی کے میں ن لیگ کے لیڈروں کا تعلق جنرل پرویز مشرف کے ساتھ رہا ہے، لوگ ان پر اعتبار نہیں کرتے۔ اصل نظریں عدالت عظمیٰ کے پانامہ کیس میں ہونے والے فیصلے پر لگی ہیں جو وزیراعظم میاں نواز شریف کے سیاسی مستقبل کے لئے انتہائی اہم ہے، ہر کوئی بے چینی سے فیصلے کا منتظر ہے، انتظار کی گھڑیاں لمبی ہوگئی ہیں، وزیراعظم اور ان کی جماعت سمجھتی ہے کہ کہیں یہ فیصلہ انہیں سیاسی نقصان نہ پہنچا دے، جبکہ وہ حکومت کی کارکردگی کے لحاظ سے دلی طور پر مطمئن ہیں، لیکن گرمیوں کے موسم میں اور حکومتی چار سال پورے ہونے پر بھی بجلی کا بحران خطرناک ہوگیا ہے۔ بجلی کی کمی کو 6 ماہ اور ایک سال میں ختم کرنے کا ٹارگٹ پورا کرنا پڑے گا۔ حکومتی وزیر، مشیر یا ایم این اے جو ٹی وی چینلز پر اپنے مخالفین کے خلاف اچھی بری باتیں کریں، عوام بہر حال موجودہ حکومت سے مطمئن نہیں ہیں۔ وزیراعظم ابھی الیکشن کا اعلان کریں یا 2018ء میں، حکومت کو ٹف ٹائم ملے گا، اگر عمران خان اور ان کے ساتھی سیاسی سوجھ بوجھ سے کام لیں تنہا پرواز کرنے کی بجائے اچھے سیاسی لوگوں سے اتحاد کرنے کی کوشش کریں اور الیکشن کامیابی کی صورت میں ان کو ساتھ لے کر چلنے کا وعدہ کریں تو پھر پاکستان خصوصاً پنجاب میں پی ٹی آئی کی پوزیشن بہتر ہوسکتی ہے۔ چونکہ پی ٹی آئی ابھی تک وفاقی حکومت میں نہیں آئی، پی پی پی کی کارکردگی پنجاب میں اچھی نہیں رہی ہے، کراچی کی بد امنی نے پی پی پی کی صوبائی حکومت کو زچ کردیا ہے۔

2018ء کے ہونے والے الیکشن کو سامنے رکھتے ہوئے سابق صدر آصف علی زرداری نے بھی بڑی گھن گرج شروع کردی ہے اور زبانی کلامی ان کا ٹارگٹ ن لیگ ہے اور ن لیگ نے اپنا ٹارگٹ آصف علی زرداری کو بنا لیا ہے، حالانکہ پی پی کا ووٹ بینک پی ٹی آئی نے حاصل کیا ہے لیکن اس کو پی پی کھل کر ٹارگٹ نہیں کررہی ، سابقہ ادوار میں دونوں ایک دوسرے کی حکومت بچانے والے نواز شریف اور آصف علی زرداری سیاسی مخالفت کے ساتھ ساتھ ان کے لیڈر ذاتیات تک بھی آگئے ہیں۔ آصف علی زرداری کی سیاست کی وجہ سے بلاول بھٹو بیک گراؤنڈ میں چلے گئے ہیں، آصف علی زرداری کی ملک سے غیر حاضری کے وقت بلاول سیاست کے میدان میں کافی سرگرم تھے، بہت سے لوگوں اور پی پی پی کے رہنماؤں کا خیال تھا کہ بلاول بھٹو اپنی پارٹی کو خراب صورت حال سے بہتری کی طرف لانے میں کامیاب ہوجائیں گے، مگر یہ امیدیں اب دم توڑ رہی ہیں۔ پی پی پی کے کئی سینئر لیڈر نہیں چاہتے کہ اب آصف علی زرداری کا سایہ پارٹی پر پڑے، ان کی خواہش تھی کہ بلاول بھٹو کو مکمل فری ہینڈ ملے، مگر ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ کوئی سیاست دان اپنی چودھراہٹ سے دست کش ہونے کو تیار نہیں ہوتا، بے شک گدی اس کے بیٹے کو ہی ملنی ہو۔

آصف علی زرداری کو سو فیصد یقین ہے کہ ان سے زیادہ عقل مند سیاست دان نہ صرف پی پی، بلکہ پوری سیاست میں نہیں ہے، لہٰذا وہی پی پی پی کو اصل حالت میں واپس لائیں گے اور بلاول ابھی بچہ ہے، وہ اس قابل نہیں کہ پارٹی کی باگ دوڑ مکمل طور پر اس کے حوالے کردی جائے، حالانکہ تلخ حقیقت یہ ہے کہ پی پی پی کو زیادہ نقصان آصف علی زرداری نے اپنے دور میں پہنچایا۔ بہت جتن کررہے ہیں کہ پنجاب میں پی پی پی کی عزت بحال کی جائے، ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنا ڈیرہ لاہور میں لگائیں گے، لیکن آصف علی زرداری کے لئے بڑا چیلنج آئندہ الیکشن ہوں گے، جن میں انہیں قد آور لیڈروں کی ضرورت ہوگی جو ذاتی طور پر الیکشنوں میں کامیابی حاصل کرسکیں۔ پی پی پی ابھی تک بہتر پوزیشن میں نہیں آسکی۔ اگر پاکستان کے عوام حالات کی وجہ سے ن لیگ سے ناراض ہیں تو پی پی پی سے بھی خوش نہیں ہیں۔ عوام میں یہ تاثر پھیل چکا ہے کہ دونوں پارٹیوں کے لیڈر اپنے مفادات کے لئے لڑتے ہیں اور اپنے مفادات کے لئے صلح کرلیتے ہیں۔ اب اگر عمران خان سیاسی عقل مندی کا ثبوت دیں تو ان کی پارٹی میں سرمایہ دار اور سمجھ دار لوگ بھی شامل ہیں، پانامہ کیس کا فیصلہ کچھ بھی آئے، عمران خان کو اکیلے پرواز کی پالیسی چھوڑ کر پنجاب میں سمجھ دار ڈیرے دار سیاست دانوں سے اتحاد کرنا وقت کی اہم ضرورت ہوگا۔ اگلے الیکشن میں اگر عمران خان نے ن لیگ کو شکست دینی ہے تو دوسرے لوگوں کو بلاوجہ للکارنا اچھی بات نہیں، شاید الیکشن بہت جلدی ہوجائیں۔ پی ٹی آئی کا دوسری جماعتوں سے اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جوش سے زیادہ ہوش کی ضرورت ہے۔ عمران خان اکیلے اپنی پارٹی کو ایک صوبے میں تو کامیاب کرواسکتے ہیں، لیکشن وفاق کے لئے سلجھے ہوئے سیاست دانوں کا اتحاد ضروری ہے۔

مزید :

کالم -