قوم کی تربیت کی اشد ضرورت ہے

قوم کی تربیت کی اشد ضرورت ہے
 قوم کی تربیت کی اشد ضرورت ہے

  

مردان یونیورسٹی میں جو کچھ ہوا، اسے کسی اعتبار سے خوش آئند قرار نہیں دیا جاسکتا۔ مشال خان نے کیا کہا، کیا کیا، حمایت اور مخالفت میں سوشل میڈیا پر آرا ء موجود ہیں۔ مشال خان کو جس صورت حال سے گزرنا پڑا وہ ان کے والدین اور بہی خواہوں کے لئے انتہائی تکلیف دہ ہے۔ ان کی والدہ کو جواں سال بیٹے کی جدائی کا غم تو عمر بھر کھائے جائے گا۔ جواں سال اولاد کی جدائی کا غم تو زندگی بھر ساتھ چلتا رہتا ہے۔ جن لوگوں کے ہاتھوں مشال خان کی جان گئی انہیں کسی ماں کے غم کا کیا اندازہ ہوگا؟ یہ گلی گلی عدالتیں اور فیصلوں پر فوری عمل در آمد ہمیں کہاں لے جائے گا، یہ وہ سوال ہے، جسے دانشوروں، اساتذہ ، ذرائع ابلاغ کو سنجیدگی سے سوچنا ہوگا اور اس کے تدارک کے لئے مناسب اقدامات کی مشترکہ کوشش کرنا چاہئے ۔ ہجوم کے فیصلوں پر عمل درآمد کی آگ سے تو کسی کا بھی گھر کیوں محفوظ رہ سکے گا ؟ گزشتہ کئی سال سے ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ ہجوم عدالت لگاتے ہیں، فیصلہ کرتے ہیں اور فیصلے پر فوری عمل در آمد کرلیتے ہیں۔ چوری کا معاملہ ہو، لوٹ مار کا واقعہ ہو، مشال خان جیسا واقعہ ہو یا کوئی بھی اور واقعہ ہو، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور قانون کی عدالتوں سے ماورا فیصلے اور ان پر عمل در آمد کیوں ہو رہے ہیں ؟ کہاں غلطی ہوئی ہے یا کسی غلطی کا سلسلہ جاری ہے۔ کیا عدالتی نظام میں سقم موجود ہیں؟ کیا قانون کی عدالتوں پر لوگوں کو اعتماد نہیں ہے؟ کیا پولیس کے نظام تفتیش و تحقیق میں خامیاں موجود ہیں جن کی وجہ سے لوگ سمجھتے ہیں کہ اپنی عدالت لگائیں اور خود ہی فیصلہ کریں۔ جذبات میں بہہ جانے کے نتیجے میں کئے جانے اور ہونے والے اقدامات کے نتائج بہت پریشان کن ہیں۔

مشال خان اپنی جان سے گئے۔ انہیں مارنے والوں کا استدلال خواہ کچھ ہی کیوں نہ ہو، کیا کسی طور پر اسے اس لئے نظر انداز کیا جا سکتا ہے کہ لوگ جذبات میں بہہ گئے تھے۔ جو لوگ بھی ذمہ دار ہیں وہ یونیورسٹی جیسے اعلی تعلیمی ادارے میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ انہیں قانون کا علم ہونا چاہئے اور یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ قانون کو ہاتھ میں لینے کے نتائج کیا ہوتے ہیں۔ حیدرآباد کی میڈیکل یونیورسٹی کی جواں سال طالبہ اپنے گھر سے یونیورسٹی کا کہہ کر نکلتی ہیں اور غائب ہو جاتی ہیں۔ والدین پریشانی کا شکار ہوتے ہیں۔ دردر اپنی بیٹی کو ڈھونڈتے ہیں، کہیں سراغ نہیں ملتا، تو پولیس میں رپورٹ درج کراتے ہیں، پولیس کی تحقیقات کی صورت میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ وہ لاہور کی بس میں سوار ہوئی تھیں۔ پھر سوشل میڈیا پر ان کے حوالے سے یہ بیان نشر ہوتا ہے کہ وہ خلافت کی سر زمین پر پہنچ گئی ہیں۔ ان کے والد جو یونیورسٹی کے پروفیسر ہیں، اس بیان کو یہ کہہ کر رد کرتے ہیں کہ یہ تحقیقات کا رخ موڑنے کی کوشش ہے۔ بہر حال ہفتہ کے روز ذرائع ابلاغ پر خبر نشر ہوتی ہے کہ لاہور میں دہشت گردوں کے ساتھ ایک مقابلے میں ایک دہشت گرد مارا گیا ہے، اس کے دو ساتھی حراست میں لئے گئے ہیں جن میں ایک خاتون شامل ہے۔ ذرائع سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ خاتون نورین لغاری ہیں۔ ان کے والد کو کسی بھی سرکاری ذریعہ نے ابھی تک (پیر کے روز 17 اپریل تک) سرکاری طور پر نورین لغاری کی بر آمدگی کے بارے میں آگاہ نہیں کیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق محکمہ انسداد دہشت گردی لاہور نے انکشاف کیا ہے کہ نورین نے ایک دہشت گرد کے ساتھ شادی کر لی تھی؟ نورین لغاری چند روز پہلے ہی ملک شام سے واپس لوٹی تھیں۔ ان انکشافات کے بعد کئی سوالات جنم لیتے ہیں۔ کیا بغیر پاسپورٹ ملک شام جانا ممکن ہے؟ کیا کوئی ایسا زمینی راستہ موجود ہے جہاں سے کسی پوچھ گچھ کے بغیر آمدورفت کی جا سکے؟ کیا ملکی سرحدیں اس حد تک غیر محفوظ ہیں کہ جو جب چاہے، آمد و رفت کر سکتا ہے؟ اگر ایسا ہے تو پاکستانی حکام کو دہشت گردی کی بیخ کنی کے لئے کئے جانے والے اقدامات کو فوری طور پر بہتر کرنا ہوگا۔ نورین دہشت گردوں کے ہتھے کیوں اور کب چڑھیں۔ وہ کب اس بات کے لئے ذہنی طور پر تیار ہوئیں کہ انہیں دہشت گردوں کا ساتھ دینا چاہئے، کیوں دینا چاہئے۔ کیا یہ سب کچھ اچانک ہوا، کیا یہ سب کچھ کسی جذباتی فیصلے کا نتیجہ تھا؟ نورین نچلے متوسط گھرانے کی فرد ہیں، گھر میں نماز روزہ پر عمل کیا جاتا ہے، نورین خود بھی نمازی ہیں، وہ میڈیکل کی تعلیم حاصل کررہی تھیں، وہ کیوں اس طرف مائل ہوئیں کہ دہشت گردی کے ذریعہ ہی اپنے مقاصد حاصل کر سکتی تھیں۔ انہوں نے یہ فیصلہ کن جذبات میں کیا؟

دہشت گردی کے پے در پے واقعات کے بعد جس بات پرمیں حکام کی توجہ بار بار مبذول کرانے کی کوشش کررہا ہوں وہ یہ ہے کہ ہمیں اپنے بچوں کی تعلیم کے ساتھ ان کی تربیت بھی کرنا چاہئے۔ ہمیں قوم کو ہر طرح کی صورت حال سے نمٹنے کی تیاری کرانا چاہئے۔ مقصد یہ نہیں کہ جنگ و جدل کی تیاری کرائیں۔ یہ تیاری تو کرانا چاہئے کہ ہنگامی صورت حال میں لوگوں کو کیا طرز عمل اختیار کرنا چاہئے۔

انہیں کسی ہجوم کی بجائے کسی منظم گروہ کے طریقوں پر کیوں عمل کرنا چاہئے۔ ہمارے تعلیمی اداروں کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ کسی بھی ادارے میں نظم و ضبط، تحمل، برداشت، در گزر ، روادری کا کوئی سبق سرے سے نہیں دیا جاتا ہے۔ بڑی عمر کے بچے ہوں یا چھوٹی عمر کے بچے، انہیں کوئی نہیں بتاتا ہے کہ قانون پر عمل در آمد کے فوائد کیا ہوتے ہیں، کسی گھر یا معاشرے میں نظم و ضبط، تحمل، برداشت، در گزر یا رواداری کیوں ضروری ہوا کرتی ہے اور اس کے کیا فوائد ہوتے ہیں۔ بچوں کو دیکھیں تو بھاری بھر کم، اپنے وزن سے زیادہ وزن کے بستے اپنی پیٹھوں پر لادے ہوئے مشکل سے چلتے ہوئے سکول جاتے دیکھے جا سکتے ہیں، اتنی کم عمری میں پیٹھوں پر اس قسم کا بوجھ ان کی صحت پر کس طرح منفی اثرات پیدا کرے گا، حکام سوچنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ یونیورسٹیوں میں نوجوان چند کاپیاں لہراتے ہوئے جاتے ہیں، کلاس میں حاضری دی ، واپس چلے گئے۔ کیا صرف درسی کتابوں کی پڑھائی کافی ہے یا کوئی ایک سبق، کوئی ایسی گفتگو، جو کتابوں سے ہٹ کو ہو، طالب علموں کے ساتھ کی جانا ضروری ہوتی ہے یا نہیں۔ تعلیمی اداروں میں ابتدا سے ہی اگر نظم و ضبط، تحمل، برداشت، در گزر ، روادری کی اہمیت و فوائد اور قانون کو ہاتھ میں لینے، سڑکوں پر عدالتیں لگانے، فیصلے کرنے، اور ان پر عمل در آمد کرنے کے نقصانات سے آگاہ کیا جائے تو ہم بہت سارے معاشرتی مسائل سے دوچار ہونے سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔اس طرح کے تواتر کے ساتھ جاری عمل کے نتائج یقیناًقوم کے لئے ہی بہتر نکل سکتے ہیں، لیکن کون کرے گا؟ ایک ایسی قوم میں، جس کے حکمرانوں ، وزراء ،اراکین اسمبلی اور سیاسی رہنماؤں کو ایک دوسرے کے خلاف اوچھی اور بازاری زبان ااستعمال کرنے سے فرصت ملے تو وہ قوم کی تربیت کے لئے کچھ سوچ سکیں ۔ مشال خان کے والد محمد اقبال نے بہت درست کہا کہ’’ اس ملک میں نظام عدل کے بارے میں جب تجزیہ کرتے ہیں تو محسوس ہوتا ہیکہ قانون امرا کے لئے ایک چیز ہے اور غریب کے لئے کچھ اور ہے اور ہم غریب لوگ ہیں ‘‘ ۔

مزید :

کالم -