سب اپنے اپنے قرینے سے منتظر اس کے

سب اپنے اپنے قرینے سے منتظر اس کے
سب اپنے اپنے قرینے سے منتظر اس کے

  



پاناما کیس کا فیصلہ محفوظ ہے۔ سپریم کورٹ کی طرف سے ابھی تک کوئی حتمی تاریخ نہیں بتائی گئی کہ کب فیصلہ سنایا جائے گا۔ مختلف حلقے اپنے اپنے اندازے سے بات کر رہے ہیں کہ فلاں تاریخی کو جج صاحبان فیصلہ سنائیں گے۔ فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے بنچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے خلاف توقع یہ الفاظ کہے تھے ’’ایسا فیصلہ سنایا جائے گا کہ لوگ 20سال تک مثالیں دیں گے۔ گزشتہ روز جسٹس آصف سعید کھوسہ نے فیصلے کے بارے میں اس سے بھی آگے کی بات کر دی۔ فاضل جج صاحب نے کہا کہ پاناما کیس کسی ایک فرد کے خلاف نہیں، یہ قانون کا معاملہ ہے۔ ایسا فیصلہ دیا جائے گا، جو صدیوں یاد رکھا جائے گا۔ ایسے لگتا ہے کہ سپریم کورٹ کے اس بنچ میں شامل فاضل جج صاحبان اس جانب اشارہ کر رہے ہیں کہ پاناما کیس میں لاء پوائنٹ کو بنیادی اہمیت حاصل ہے اور اس کے حوالے سے یادگاری فیصلہ لکھا جا رہا ہے۔ جب فیصلہ سنا یا جائے گا تو صرف بیس سال تک نہیں، صدیوں تک اس کی مثال دی جاتی رہے گی۔

یوں تو سبھی پاناما کیس کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں، لیکن پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اس کیس پر اپنے خاص نقطہ ء نظر پیش کرتے رہتے ہیں۔ گزشتہ روز ہی انہوں نے تفصیلی بیان دیا ہے، جس میں دانشورانہ انداز میں ’’نوشتہ ء دیوار‘‘ کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاناما کیس کے فیصلے میں وزیراعظم نوازشریف کی نااہلی ’’دیوار‘‘ پر لکھی جا چکی ہے۔ فیصلہ آنے پر قوم شکر ادا کرے گی۔ آئین کے آرٹیکل 62اور 63 کی حقیقی تشریح بھی اس فیصلے میں شامل ہوگی۔ عمران خان کے دانشورانہ بیان کے مختلف نکات پر ہم بعد میں تبصرہ کریں گے، پہلے ہم اپنے قارئین کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ عمران خان کا یہ دانشورانہ موڈ یوں ہی نہیں بن گیا۔ ان سے خوبصورت ماحول میں سابق وزیر قانون بابر اعوان نے طویل ملاقات کی۔ ظاہر ہے، ننانوے فیصد گفتگو پاناما کیس کے متوقع فیصلے پر ہوئی ہوگی۔ بابر اعوان نے انہیں فیصلہ وزیراعظم نوازشریف کے حق میں آنے پر آئندہ حکمت عملی کے اہم نکات بھی بتائے ہوں گے۔ اس کے علاوہ عمران خان نے اپنے قریبی دوست سابق وفاقی وزیر شیخ رشید سے بھی علیحدگی میں ملاقات کی۔ ان ملاقاتوں کے نتیجے میں اگر عمران خان نے دانشورانہ انداز اختیار کیا، تو اس پر حیرت نہیں ہونی چاہئے۔

اب ہم دانشور عمران خان کے اہم نکات پر تبصرے کا آغاز کرتے ہیں۔ موصوف نے کہا ہے کہ جو فیصلہ سنایا جانے والا ہے، وہ دیوار پر لکھا ہوا ہے۔ یعنی ادبی انداز میں ’’نوشتہ ء دیوار‘‘ کے الفاظ استعمال کئے گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ دیوار پر صاف لکھا ہوا ہے کہ پاناما کیس کا فیصلہ حکمرانوں کے خلاف ہوگا۔ ہمارے معاشرے میں نوشتہ ء دیوار پڑھنے کا مشورہ دینے اور تلقین کرنے والوں کی کبھی کمی نہیں رہی، اگر عمران خان نے بھی بطور سیاستدان نوشتہ ء دیوار پڑھنے کی تلقین کر دی ہے تو اس پر حیران نہیں ہونا چاہیے کہ کپتان نے دانشورانہ موڈ کے تقاضوں کو پورا کرنے کی کوشش کی ہے۔ شاید کپتان نے سوچا کہ ممکن ہے، لوگ ان کے کہنے کے باوجود دیوار پر لکھا ہوا نہ پڑھیں تو انہوں نے بتایا کہ دیوار پر کیا لکھا ہوا ہے۔۔۔ بقول کپتان عمران خان دیوار پر وزیراعظم نوازشریف کی نااہلی کا فیصلہ لکھا ہوا ہے۔ یار لوگ تو کہتے ہیں کہ اگرچہ لاہور اور دوسرے شہروں میں دیواروں پر لکھنا ممنوع قرار دیا گیا، لیکن ہو سکتا ہے کہ عمران خان نے کسی دیوار پر مسلم لیگ (ن) کے کسی مخالف کا لکھا ہوا نعرہ پڑھ لیا ہو۔ ’’پاناما کیس کے فیصلے میں وزیراعظم نوازشریف نااہل ہوں گے‘‘۔ عمران خان کی کمزوری ہے کہ وہ بعض اوقات سوچے سمجھے اور کسی تصدیق کے بغیر بات کر دیتے ہیں، یہاں بھی ایسا ہی لگتا ہے۔ ایک صاحب بتا رہے تھے کہ میٹروبس میں سفر کے دوران ایک شخص نے جب گفتگو کے دوران عمران خان کے الفاظ با آواز بلند ادا کئے کہ نوازشریف پاناما فیصلے میں نااہل ہوں گے تو ایک آواز جواباً سنائی دی ’’بلی کو چھیچھڑوں کے خواب ہی آتے ہیں!‘‘ اب مسئلہ یہ ہے کہ تبصرہ کرنے والے نے عمران کو مذکر سے مونث بنا دیا۔ اسے ’’بلی‘‘ نہیں ’’بلا‘‘ کا لفظ استعمال کرنا چاہیے تھا۔’’بلا‘‘ بھی پورے اہتمام سے کہنا چاہیے تھا، یعنی ب کے نیچے زیر اور ل کے اوپر شد کے استعمال سے ’’بِلاّ‘‘ واضح کرنا چاہیے تھا۔ عمران کے کارکن ’’بَلّا‘‘ سمجھ کر ناراضی کا اظہار نہ کر دیں کہ ہمارے انتخابی نشان (جسے پارٹی الیکشن نہ کرانے پر پاکستان الیکشن کمیشن نے ضبط کر لیا ہے) ’’بَلّے‘‘ کو چھیچھڑوں کے خواب کیوں دکھائے گئے۔

عمران خان نے انکشاف کیا ہے کہ پاناما کیس کے فیصلے سے آئین کے آرٹیکل 62اور 63 کی بھی حقیقی تشریح ہو جائے گی۔ یہ سن کر تو (ن) لیگ کے کارکن بے ساختہ پکار اٹھیں گے ’’بت ہم کو کہیں کافر، اللہ کی مرضی ہے!‘‘ عمران خان خود مذکورہ آرٹیکلز کی زد میں آسکتے ہیں۔ ان کی طلاق یافتہ بیوی جمائما پچھلے کئی سال سے ان کی فرمائش پر ایک کمسن لڑکی کی تربیت کا فریضہ نہایت کامیابی سے ادا کر رہی ہیں کہ اس کی شادی کی جاسکتی ہے۔ اگر کسی طرف سے آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے حوالے سے معاملہ چیلنج کر دیا تو جمائما کی ساری محنت ضائع ہو جائے گی۔ بہرحال خان صاحب مرضی کے مالک ہیں، جو چاہیں ارشاد فرمائیں! انہیں تو مسلم لیگ (ن) والے شوکت خانم ہسپتال کے فنڈز کے غلط استعمال پر عدالت سے رجوع کرنے کی بھی دھمکیاں دیتے رہتے ہیں۔ جہاں تک عمران خان کی اس بات کا تعلق ہے کہ پاناما کیس کا فیصلہ آنے پر قوم شکر ادا کرے گی۔ سب سے پہلے تو یہ بات ذہن میں آتی ہے کہ قوم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے گی کہ انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ قوم سپریم کورٹ کے فاضل جج صاحبان کا ’’شکریہ‘‘ ادا کریں۔ وہ ’’شکریہ‘‘ دو طرح کا ہو سکتا ہے، یعنی عمران کا کام بن گیا تو پی ٹی آئی والے شکریہ ادا کریں گے اور اگر وزیراعظم نوازشریف سرخرو ہوئے تو مسلم لیگ (ن) والے بھرپور انداز میں شکر گزار ہوں گے۔ ہر صورت میں شکریہ کی گنجائش تو موجود ہو گی۔ اللہ کرے کہ بہتری سے فیصلہ سامنے آئے۔

پاناما کیس کا فیصلہ ہر صورت میں ہماری سیاست پر غیر معمولی اثرات مرتب کرے گا۔ قوم تو آرام اور سکون کے ساتھ فیصلے کا انتظار کر رہی ہے۔ سیاسی لوگوں کی اکثریت ’’بے چین‘‘ روح کی طرح ماری ماری پھر رہی ہے۔ عجیب تماشا بنا رکھا ہے اس ایشو کو۔ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے، فاضل جج صاحبان نے تفصیلی سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کیا، سینئر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے فیصلے کے حوالے سے دو مرتبہ خصوصی ریمارکس دے کر معاملہ دو آتشہ کر دیا اور یار لوگ خواہ مخواہ پریشان پھر رہے ہیں ۔ احمد فراز نے اپنے ایک شعر میں ’’انتظار‘‘ کی کیفیت پر منتظر لوگوں کے جذبات کی کچھ یوں عکاسی کی تھی۔

سب اپنے اپنے قرینے سے منتظر اس کے

کسی کو شُکر، کسی بھی شکائتیں کرنی

کچھ بھی کہہ لیں، انتظار کو ’’بُری بَلا‘‘ کہا گیا ہے۔ انسانی فطرت ہے کہ انتظار میں بے چینی ضرور شامل کر دی جاتی ہے۔ دیکھئے پاناما کیس کا فیصلہ کب سنایا جاتا ہے اور انتظار کی گھڑیاں ختم ہونے پر کون خوش ہوتا ہے اور کس کے گھر کی دیواروں پر اداسی بادل کھول کر سو جاتی ہے۔

مزید : کالم