منصفی، مصلحت اور زمینی حقائق

منصفی، مصلحت اور زمینی حقائق
 منصفی، مصلحت اور زمینی حقائق

  

جب بھی کوئی پاکستان میں ’’سٹیٹس کو‘‘ توڑنے کی بات کرتا ہے، جی چاہتا ہے اس کا منہ گھی شکر سے بھر دوں۔ ’’سٹیٹس کو‘‘ ایک ایسی بیماری ہے، جس نے وطن عزیز کے ہر شعبے کو اپنے آہنی شکنجے میں جکڑ رکھا ہے، اس لئے جب کوئی اس آہنی شکنجے کو توڑنے کا ارادہ کرتا ہے، تو خوامخواہ اس کے لئے دل سے دعائیں نکلنا شروع ہو جاتی ہیں۔ اس بار یہ عزم کسی اور نے نہیں ، لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس منصور علی شاہ نے ظاہر کیا ہے۔ جسٹس صاحب جب سے اس منصب پر فائز ہوئے ہیں، مسلسل اپنے ججوں کو حوصلہ دے رہے ہیں۔ انہیں احساس دلا رہے ہیں کہ وہ منصف کی مسند پر بیٹھے ہیں اور یہ بہت بڑا فریضہ ہے، جو قوم اور قدرت نے انہیں سونپا ہے۔ اس فریضے کی ادائیگی میں کسی مصلحت یا بزدلی کو آڑے نہیں آنا چاہئے۔ لاہور میں جوڈیشل اکیڈیمی کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس منصور علی شاہ نے کلمۂ اناالحق کہتے ہوئے جج صاحبان سے کہا کہ بدقسمت ہے، وہ جج جو مصلحتوں کا شکار ہو کر فیصلے کرتا ہے۔ جج کا کام یہ دیکھنا نہیں کہ کون اس کے فیصلے سے ناراض ہوتا ہے، اسے حق اور سچ کے مطابق فیصلہ دینا چاہئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عدلیہ کو ’’سٹیٹس کو‘‘ سے ہٹ کر کام کرنا چاہئے۔ مجھ جیسے کوتاہ نظر اور دودھ میں مکھیاں تلاش کرنے والے یقیناًچیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کی ان باتوں میں بھی اگر مگر نکال لیں گے، لیکن اصل چیز یہ ہے کہ پہلی بار سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کی سطح پر ایک ایسی قیادت موجود ہے، جو ملبہ کسی اور پر نہیں گرا رہی، بلکہ پہلے اپنے گھر کو ٹھیک کرنے کی راہ اختیار کئے ہوئے ہے۔ اصل مسئلہ یہی ہے کہ ہمارے منصفین مصلحت کا شکار ہوتے رہے ہیں، نظریۂ ضرورت کو قبول کرکے انہوں نے آمروں کو جمہوریت پر شب خون مارنے کے راستے دکھائے ہیں۔ نچلی سطح کی جوڈیشری نے طاقتوروں کے سامنے مظلوموں کی دادرسی میں مصلحت کے تحت انصاف سے کام نہیں لیا۔ بہت سی خرابیاں نظام کی بجائے انسانی کمزوریوں کے باعث پیدا ہوئیں۔ چیف جسٹس منصور علی شاہ کی باتوں سے لگتا ہے کہ وہ مرض کی تشخیص تک پہنچ گئے ہیں۔ وہ ججوں سے جرأت مندی اور مصلحت سے ماورا طرزِ عمل کا تقاضا کررہے ہیں۔ منصف کی مسند پر بیٹھا ہوا جج اگر اپنے قلم کو حق سچ کی راہ میں چلانے کا مصمم ارادہ کرلے تو معاشرے میں ظلم، زیادتی اور جرم کرنے والوں کو سومرتبہ سوچنا پڑے۔ ہاں یہ بات مان لینی چاہئے کہ یہ کام اتنا آسان بھی نہیں ہے۔

یہ سنتے ہوئے تو کان پک گئے ہیں کہ بار اور بنچ میں ہم آہنگی کے بغیر فوری انصاف کی فراہمی ممکن نہیں، کبھی کبھی تو یہ خوشگوار بیانات بھی سامنے آتے ہیں کہ بار اور بنچ میں مثالی ہم آہنگی ہے، حالانکہ میرے نزدیک ان دونوں میں ایک واضح ٹکراؤ موجود ہے۔ججوں کی خواہش ہوتی ہے کہ مقدمات کے بروقت فیصلے کئے جائیں، لیکن وکلاء ہر مقدمے کو شیطان کی آنت بنانا چاہتے ہیں۔ سابق جسٹس کاظم ملک نے ایک جگہ لکھا ہے کہ مقدمات کے فیصلے جلد ہونے لگیں تو وکلاء بھوکوں مرجائیں،اس لئے وہ کسی بھی صورت میں بھوکا نہیں مرنا چاہتے۔ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے ججوں کے سامنے تو وکلاء کے پر چلتے ہیں اور وہاں سر نہیں اُٹھاتے، لیکن لوئر جوڈیشری کے ججوں کے ساتھ وکلاء کا رویہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔عدالتوں میں ججوں کو مارا پیٹا بھی گیا اور ان پر جوتے بھی اُچھالے گئے، گالم گلوچ کو تو اتنا بڑا واقعہ سمجھا ہی نہیں جاتا۔ میں سمجھتا ہوں، ماتحت عدلیہ کے جج صاحبان اگر کسی وجہ سے مصلحت کا شکار ہوتے ہیں، تو وہ یہی وجہ ہے،اس کا علاج کس کے پاس ہے؟ کہنے کو وکلاء کے بہت سے ادارے موجود ہیں،جو اسی مقصد کے لئے بنائے گئے ہیں کہ وکلاء کو ضابطہ اخلاق میں رہنے کا پابند کریں، مگر آج تک کیا کسی وکیل کو جج صاحب سے گستاخی کے جرم میں کوئی بڑی سزا ہوئی ہے؟ چار دن کی معطلی کے بعد وہ پھر وکیل بن کر عدالتوں میں پیش ہو رہے ہوتے ہیں۔ابھی چند روز پہلے لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ کے احاطے میں کروڑوں روپے کی کرپشن میں مطلوب ایک ڈی ایس پی کو ضمانت خارج ہونے پر جب نیب حکام نے پکڑنا چاہا ،تو وکلا نے ان پر دھاوا بول دیا۔ اسی دھکم پیل میں ڈی ایس پی فرار ہوگیا۔ میں جب یہ خبر پڑھ رہا تھا کہ نیب حکام نے پنجاب بار کونسل کو ایک چٹھی لکھی ہے ، جس میں مذکورہ وکلاء کے خلاف کارروائی کے لئے کہا گیا ہے، تو مجھے ان کی معصومیت پر ترس آرہا تھا۔ یہ بار کونسلیں وکلاء کے ووٹوں سے بنتی ہیں اور اب ان کے انتخابات میں بھی کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں،بھلا وہ اپنے کسی ووٹر کے خلاف کارروائی کیسے کرسکتی ہیں؟ سو جہاں سب کچھ سیاسی و مفاداتی ہو گیا ہو، وہاں بہتری کیسے آسکتی ہے؟

مگر اس کے باوجود ایک جج کو انصاف کرتے رہنا چاہئے۔ہمارے ایک دوست ہیں عباس خان، بہت معروف افسانہ نویس اور ناول نگار ہیں، وہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج تھے، احتساب عدالت لاہور کے جج بھی رہے۔ انہوں نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لی۔ وہ ایک حساس آدمی ہیں، ایک تخلیق کار تو ویسے ہی حساس ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی جج محسوس کرتا ہے کہ وہ درپیش حالات میں انصاف نہیں کرسکتا، تو اسے اپنے عہدے سے الگ ہوجانا چاہئے۔ منصفی کے ساتھ منافقت نہیں چل سکتی۔ وہ اکثر کہتے تھے کہ میں قتل کے کیس سنتے ہوئے اکثر اس خوف کا شکار ہو جاتا تھا کہ جس طرح گواہیاں،پولیس تفتیش اور وکلاء کی قانونی موشگافیاں جج کے سامنے رکھی جاتی ہیں، اس میں سو فی صد امکان ہوتا ہے کہ آپ انصاف کی بجائے بے انصافی کے مرتکب قرار پائیں،پھر قاتلوں کے ورثا،جج کو بھی اپنا دشمن سمجھنے لگتے ہیں، وہ اگر شواہد کے مطابق کسی قاتل کو موت کی سزا سنادے تو وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جج نے پیسے لے کر ان کے خلاف فیصلہ دیا ہے، اسے دھمکیاں ملتی ہیں، خوفزدہ کیا جاتا ہے،جبکہ ریاست صرف بڑے ججوں کو تحفظ دیتی ہے،زیریں عدالتوں کے ججوں کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سب سے زیادہ دباؤ کا شکار ماتحت عدلیہ ہے، مگر نظامِ انصاف کی پہلی سیڑھی بھی وہی ہے،اگر پہلی سیڑھی کمزور ہو تو عمارت کیسے مضبوط ہو سکتی ہے؟ عباس خان کی باتیں ہم سنتے تو اس شش و پنج میں پڑجاتے کہ انہیں مرد حُر کہیں یا بزدلی کا طعنہ دیں۔۔۔ ایسے ہی نجانے کتنے جج صاحبان ہوں گے جو روزانہ اسی کشمکش اور صورت حال سے گزرتے ہیں۔اب ایسے ہی ججوں سے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے یہ کہا ہے کہ وہ مصلحت کا شکار نہ ہوں، ان کے نزدیک وہ جج بہت بد قسمت ہے، جو مصلحت کا شکار ہو کر قانون اور ضمیر کے مطابق فیصلے نہ کرسکے۔

اب سوال یہ ہے کہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے صرف کہہ دینے سے جج صاحبان کی کمزوریاں دور ہو سکتی ہیں ، کیا وہ چیف جسٹس صاحب کے پندو نصائح سے متاثر ہو کر مصلحت اور بزدلی کی روش چھوڑ سکتے ہیں یا اس کے لئے خارجی حالات کو بھی بہتر کرنا پڑے گا؟۔۔۔ماتحت عدلیہ کو تحفظ دیئے بغیر یہ بیل منڈھے نہیں چڑھ سکتی۔ عدلیہ کا سب سے اہم کردار وہ سول جج ہے، جو چھوٹے سے کونے میں بیٹھ کر مقدمات سنتا ہے، جس کی عدالت کے باہرنہ تو کوئی گارڈ ہوتا ہے اور نہ ہی اس کے کمرے میں ائر کنڈیشنر۔اسے سو طرح کے چیلنجوں کا سامنا رہتا ہے۔ چلیں وہ سب سے نمٹ سکتا ہے، مگر جب اس کے سامنے وکلاء خوف کی دیوار بن کر کھڑے ہوجاتے ہیں، تو اسے کوئی روزن نظر نہیں آتا۔اب تو چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ یہ واضح پیغام دے رہے ہیں کہ وکلاء کے برے سلوک کو برداشت نہیں کیا جائے گا، مگر جب تک ایسا کوئی ٹیسٹ کیس سامنے آئے گا اور زیریں عدلیہ کے جج صاحبان کے خلاف کسی واقعہ کی بنیاد پر اعلیٰ عدلیہ اور بار کونسلیں ذمہ داروں کے خلاف سخت نوٹس لیں گی، تب یہ بات کھلے گی کہ اب حالات بدل گئے ہیں۔وکیل اور جج انصاف دینے کے لئے متحد ہو جائیں، تو یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ باقی تمام ادارے ، جن میں پولیس بھی شامل ہے، من مانی سے تائپ ہو جائیں گے۔اچھی بات ہے کہ عدلیہ کی قیادت’’سٹیٹس کو‘‘ توڑنا چاہتی ہے، تاہم اس کے لئے صرف ججوں کو مصلحت چھوڑنے کا مشورہ دینے سے بات نہیں بنے گی، کچھ اچھی مثالیں بھی قائم کرنا ہوں گی۔

مزید :

کالم -