مختار مسعود:تعمیر ،تخلیق اور تحریک کا نشان

مختار مسعود:تعمیر ،تخلیق اور تحریک کا نشان

  

یہ نوے کی دہائی کی بات ہے۔ عطاء الحق قاسمی اور امجد اسلام امجد کی ادارت میں چھپنے والے ادبی جریدے ’’معاصر‘‘ کے تازہ شمارے کی رسمِ اجراء کے لئے علامہ اقبال ٹاؤن کے ایک ریستوران میں شہر کے ممتاز ادیب اور شاعر جمع تھے۔ قاسمی صاحب نے صدارت کے لئے مختار مسعود صاحب کو چنا تھا۔ میرے لئے ان کی شخصیت خاصی پُراسرار تھی۔ اس زمانے کی سب سے بڑی ادبی شخصیت یعنی احمد ندیم قاسمی صاحب بھی وہاں موجود تھے۔ ان سے میرا اگرچہ ادب، احترام، محبت اور عقیدت کا تعلق تھا لیکن اس کے باوجود ان سے بے حجابانہ ہر موضوع پر گفتگو ہو جایا کرتی تھی لیکن مختار مسعود ایک سنجیدہ طبع آدمی تھے۔ سب کے سامنے نہیں کھلتے تھے۔ لیے دیے رہتے تھے۔ ہم عصروں ہم مشربوں اور ہم خیالوں میں کھلتے ہوں گے۔ اسی محفل میں جب مختار مسعود صاحب کے بولنے کی باری آئی تو انہوں نے نہایت شگفتہ اندازِ بیاں اپنایا۔ کہنے لگے: ’’خواتین و حضرات! آپ نے دیکھا ہوگا کہ کوچوان اپنے تانگے میں گھوڑے کے ساتھ ساتھ گھوڑے کے ایک چھوٹے سے بچے کو بھی جوت لیتا ہے۔ اس طرح وہ دراصل اپنے تانگے کے لئے نئے اور توانا گھوڑے کو تیار کر رہا ہوتا ہے۔ یہ چھوٹا گھوڑا، تجربہ کار گھوڑے کے ساتھ ساتھ دوڑتا ہے۔ اس چھوٹے گھوڑے کو اردو میں ’’پخ‘‘ کہتے ہیں۔ خواتین و حضرات!یہ بات مجھے آج عطاء الحق قاسمی اور امجد اسلام امجد کا رسالہ ’’معاصر‘‘ دیکھ کر یاد آئی ہے۔ میں ہمیشہ انہیں ایک ساتھ دیکھتا ہوں۔ تمام ادبی تقریبات میں یہ اکٹھے دکھائی دیتے ہیں۔ حتیٰ کہ دونوں ایک ہی کالج میں پڑھاتے ہیں۔ میں ان دونوں کو دیکھ کر یہ سوچتا رہتا ہوں کہ دونوں میں سے پخ کون سی ہے؟‘‘

مختار مسعود صاحب کی شگفتہ بیانی نے تمام حاضرینِ محفل کو قہقہے لگانے پر مجبور کر دیا۔

15اپریل 2017ء کو یہی مختار مسعود ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہم سے جدا ہو گئے۔ یہ وہی مختار مسعود ہیں جنہوں نے اردو نثر کو ایک اچھوتا اسلوب دیا جس میں شتگفتگی بھی ہے اور دردمندی بھی۔ جس میں ہمارا ماضی بھی دھڑکتا ہے۔ اور ہمارا آج بھی چلتا پھرتا دکھائی دیتا ہے۔ یہ وہی مختار مسعود ہیں جنہوں نے ’’آواز دوست‘‘ ، ’’سفر نصیب‘‘ اور ’’لوحِ ایام‘‘ جیسی شاندار کتابیں لکھیں۔ آپ ان کی یہ تصنیفات پڑھیں تو آپ کو لگے گا کہ آپ مولانا ابوالکلام آزاد اور مشتاق احمد یوسفی سے ہم کلام ہیں۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ ان دونوں بزرگ نثر نگاروں کے اسلوبیاتی امتزاج کا نام مختار مسعود ہے۔ اللہ جانے کس سخن شناس نے لکھا ہے کہ ’’آوازِ دوست‘‘ لفظ لفظ قابل داد، بعض فقرے لا جواب اور بعض صفحات داد سے بالاتر ۔ ’’سفر نصیب‘‘ کے بارے میں کہا گیا: ’’چشمِ بینا کا سفر، جو زادِ حیات سمیٹے۔ تلاشِ حق میں سرگرداں ہے۔ اس میں شامل دو خاکے اردو کے بہترین خاکوں میں شمار کئے جا سکتے ہیں‘‘۔ ’’لوحِ ایام‘‘کے بارے میں کہا گیا : ’’موضوع ایران کا انقلاب، مخاطب اہلِ پاکستان، لکھنے والا انقلاب کا چشم دید گواہ، واقعات حیران کن، بیان مسحور کُن، نتیجہ ایک منفرد ادبی شاہکار مختار مسعود اُمید اور رجائیت کے آدمی تھے۔ ہم پاکستانیوں کی امید اور رجائیت کا سب سے بڑا نشان مینار پاکستان ہے جس کی تعمیر میں مختار مسعود کا حصہ سب سے زیادہ ہے اس کو مینارِ پاکستان کا نام بھی مختار مسعود ہی نے دیا۔ ان کی اُمیّد پسندی کی دلالت ’’لوحِ ایام‘‘ کا انتساب بھی کرتا ہے۔ انہوں نے لکھا چراغ اور دریچہ کے نام، وہ چراغ جس سے اندھیرے چھٹ جائیں گے۔ اجالا ہی اجالا ہو گا۔ بے سمت سفر کو سمت میسر آئے گی اور وہ دریچح جو ایک روشن مستقبل کی جانب کھلتا ہے جس سے تازہ ہَوا آئے گی اور جہانِ تازہ کی خبر لائے گی۔

’’لوحِ ایام‘‘ کا دیباچہ بھی خوب ہے۔ انہوں نے لکھا : ’’اس کتاب کو لکھنے میں اتنا وقت نہیں لگا۔ جتنا یہ طے کرنے میں لگا کہ لکھا جائے یا نہ لکھا جائے۔ اگر لکھا جائے تو اس کی حد بندی کیسے کی جائے۔ وجہ معلوم کرنے کے لئے آپ کو کتاب پڑھنا ہوگی اس کے بعد گریبان میں جھانکنا ہوگا۔ اگر وہ سلامت نظر آیا تو گویا انقلاب کے موضوع پر لکھنے کا فیصلہ کچھ ایسا درست نہ تھا۔ انقلاب خواہ کتنا ہی پرانا کیوں نہ ہو جائے اس کی داستان ہمیشہ تازہ رہتی ہے۔ امید اور عمل، بیداری اور خودشناسی، جنوں او رلہو کی داستان بھی کہیں پرانی ہو سکتی ہے؟ زمانہ اس کو بار بار دہراتا ہے۔ فرق صرف نام، مقام اور وقت کا ہوتا ہے‘‘۔

مختار مسعود صاحب ایک بیورو کریٹ کے طور پر ایک الگ شناخت رکھتے تھے۔ وہ آج کے افسروں کی طرح بکاؤ مال نہ تھے۔ کبھی کسی کی جیب خاص میں نہیں رہے۔ جو فیصلہ کیا، جو کام کیا اپنی مرضی سے اپنی شرائط پر کیا۔ اگر قدرت اللہ شہاب کی طرح وہ بھی اپنی سوانح عمری لکھ جاتے تو شاید بیورو کریسی کے لئے ایک اور آئینہ میسر آ جاتا۔ سنا ہے کہ وہ اپنی سوانح عمری لکھ رہے تھے۔ اگر یہ بات سچ ہے تو شاید ہم جلد ان کی ایک نئی شخصی جہت سے آشنا ہونے کے لائق ہو جائیں گے۔

میرے دوست اور صاحبِ اسلوب شاعر فرتاش سیّد نے لکھا ہے کہ 1999ء میں مختار مسعود صاحب کو چوتھا عالمی فروغِ اردو ایوارڈ دیا گیا۔ فرتاش سید نے ان کے بارے میں ایک نہایت شاندار تحریر لکھی ہے جو میں ان کے شکریئے کے ساتھ اس اشاعتِ خصوصی کا حصہ بنا رہا ہوں۔

’’دنیا میں بہت سی شخصیات ایسی بھی ہیں جو اپنی ذات میں خود تاریخ ہیں اور اپنی مخصوص صلاحیتوں سے خود کو ایک منفرد حیثیت میں تسلیم کرا لیتی ہیں۔ جناب مختار مسعود بھی انہی شخصیات میں سے ہیں۔ ان کی شخضیت کے دو اہم پہلو ہیں۔۔۔ ایک ذمہ دار، مہربان اور اصول پسند، اعلیٰ آفیسر اور دوسرے ایک مستند ادیب۔۔۔ مختار مسعود کا شمار صاحب اسلوب نثر نگاروں میں ہوتا ہے۔ اپنے بزرگوں سے اکثر ان کے تذکرے سنا کرتا تھا۔ ان کی شہرہ آفاق کتاب ’’آواز دوست‘‘ کے دلوں میں سرایت کر جانے والے تاریخی جملے ہمارے خاندان میں ضرب المثال کے طور پر استعمال کئے جاتے تھے اور میری بھی خوش نصیبی کہ اس قابل فخر شخصیت سے مجھے متعدد بار مکہ مکرمہ اور پاکستان میں ملاقات کا شرف حاصل ہوا ہے۔ وہ اپنی ذات کے بارے میں گفتگو سے گریز ہی کرتے تھے۔ یہی وہ سادہ طبیعت ہے، جس نے ان کی شخصیت کو مزید دلچسپ اور پُرکشش بنا دیا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد اعلیٰ ملازمتوں کے مقابلے کے امتحان (سی ایس پی) میں مختار مسعود نے نمایاں کامیابی حاصل کی۔ خاص بات یہ کہ وہ امتحان پاس کرنے والے چند سب سے کم عمر نوجوانوں میں سے ایک تھے۔انہوں نے تقریباً 40سال تک مختلف عہدوں پر اہم خدمات انجام دیں۔ ان میں مرکزی حکومت کی وزارت میں 15 سالہ خدمات بھی شامل ہیں۔1982ء تک وہ تہران میں آر سی ڈی کے سیکرٹری جنرل بھی رہ چکے ہیں۔

مختلف اعلیٰ انتظامی عہدوں پر نہایت اہم ذمہ داریوں کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ انہوں نے قلم اور قرطاس سے اپنا تعلق قائم رکھا اور اپنے خاص اسلوب میں معرکۃ الاراء کتابیں لکھیں، جو بلاشبہ اردو ادب میں نہایت قیمتی اضافہ ہیں، جن میں ’’آواز دوست‘‘، ’’سفر نصیب‘‘، ’’لوح ایام‘‘ جیسی کتابیں شامل ہیں۔ مختار مسعود کی نثر نگاری میں ممتاز ترین حیثیت ادباء کی نظر میں مستند سمجھی گئی ہے۔ ان کی سب سے پہلی تصنیف ’’آواز دوست‘‘ میں تخلیق پاکستان کی فلاسفی بیان کرنے کے علاوہ انہوں نے تحریک پاکستان کے ایک مجاہد کی حیثیت سے کئی سال پر مبنی اپنے مشاہدات ممتاز انداز میں قلمبند کئے ہیں۔وہ اپنی مثال آپ ہیں۔ ان کی دوسری تصنیف ’’سفر نصیب‘‘ ہے، جس میں انہوں نے سفرنامہ کے اسلوب کا غیر معمولی انداز اختیار کیا، جس کے جملے اپنی جگہ ایک مثال بن گئے ہیں۔ تیسری ’’لوح ایام‘‘ ایرانی انقلاب کے عینی شاہد کی حیثیت سے، جب وہ خود ایران میں آر سی ڈی کے چیئرمین کی حیثیت سے تعینات تھے۔

مختار مسعود کی تینوں کتابوں کے لفظ لفظ موتی اور ہر ہر جملے میں معانی کا بحر ذخار ہے۔ بہت ہی خوبصورت تحریر ہیں۔ ان کی تینوں کتب پڑھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔ مختار مسعود علی گڑھ سے تعلیم یافتہ تھے، جہاں ان کے والد بھی معاشیات کے استاد رہ چکے ہیں۔ وہ محکمہ ماحولیات کے ایڈیشنل سیکرٹری پی آئی ڈی سی کے چیئرمین اور ایگریکلچر ڈویلپمنٹ بنک آف پاکستان (ADBP) کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ مینار پاکستان (لاہور) مجلسِ تعمیر کے صدر بھی تھے۔ مختار مسعود نے اپنی پی آئی ڈی سی کی سربراہی کے دوران ایک تاریخ وضع کی کہ جب ادارے کے مرکزی دفتر کی نئی عمارت اسلام آباد میں تعمیر ہو چکی اور روایت کے مطابق ایسی اہم عمارت کا افتتاح صدر یا وزیراعظم کرتے ہیں لیکن انہوں نے تمام تر خطرات کے باوجود اس عمارت کا افتتاح پی آئی ڈی سی کے سب سے پرانے ملازم، یعنی ایک چپڑاسی سے کروا کر حیران کر دیا۔ مختار مسعود کو پاکستان کے اعلیٰ ترین سویلین ایوارڈ، یعنی ستارۂ امتیاز‘‘ سے بھی نوازا گیا ہے۔

1927ء میں پروفیسر عطاء اللہ کو یہ علم کہاں تھا کہ ان کے گھر میں جس بچے کی ولادت ہوئی ہے، آئندہ زندگی میں وہی ان کی شہرت کا باعث اور وجہ افتخار ٹھہرے گا اور دنیائے ادب و انشاء کا ایک معتبر نام کہلائے گا۔ مختار مسعود نے بسم اللہ کی کتاب ’’ب‘‘ سے ایم اے معاشیات تک کی تعلیم علی گڑھ میں حاصل کی۔ 1948ء میں انہیں جب فرسٹ کلاس فرسٹ کی ڈگری اور طلائی تمغے سے سرفراز کیا جا رہا تھا تو لوگوں نے دیکھا کہ والد کی پلکوں پر خوشی کے آنسو جگمگا رہے ہیں۔ علی گڑھ کی جس سیاسی فضا اور ادبی و علمی ماحول میں انہوں نے تعلیم حاصل کی، اس کے اثرات ان کی آئندہ زندگی پر مرتب ہونے لازم تھے، اسی لئے اپنی تحریر و تقریر میں وہ اپنی مادر عملی کا ذکر ثواب سمجھتے ہیں اور اپنی علمی کاوشوں میں عام طور پر علی گڑھ کا تذکرہ کچھ اسی انداز سے کر جاتے ہیں کہ نہ ان پر غیر ملکی ایجنٹ کا لیبل لگ سکے اور نہ مادر علمی سے بے وفائی اور بے اعتنائی کا الزام ان کا گریبان پکڑ سکے۔ ’’آواز دوست‘‘ میں وہ نواب حمید اللہ کے تذکرے میں علی گڑھ کا ذکر کیسے نفیس اور دلکش پیرائے میں کرتے ہیں جو خود ان پر بھی صادق آتا ہے۔

علی گڑھ میں گزارا ہوا زمانہ کبھی ماضی بعید کے صیغے میں نہیں آتا۔ بیشتر وقت وہ حال کا صیغہ ہوتا ہے اور اگر فراموش بھی ہو جائے تو وہ ماضی قریب بن کر رہتا ہے۔ طالب علمی کے زمانے کو بھی یاد کرتے ہیں، مگر وہ شدت اور لذت جو علی گڑھ کی یاد میں ہے، وہ کہاں کسی درسگاہ کو نصیب ہو گی۔ ہندوستان جو بیسویں صدی کی چوتھی دہائی میں آزادی کے نعروں سے گونج رہا تھا، رفتہ رفتہ یہی فلک شگاف نعرے زبانوں سے اتر کر دلوں میں گھر کر گئے۔ تحریک پاکستان اپنے شباب پر تھی۔ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے نوجوانوں کا دستہ جدوجہد حصول پاکستان کے جذبے سے سرشار مسلم لیگ کا جھنڈا اٹھائے جس گلی کوچے سے گزرتا تھا، خالی ہاتھ واپس نہیں آتا تھا۔ اس کے دامن میں چاندی کے سکوں کی کھنک، ماؤں اور بہنوں کے دمکتے ہوئے جھومر اور چوڑیوں کی صرف جھنک ہی نہ ہوتی، بلکہ استقامت، استقلال، ہمت، جوانمردی کی پُر خلوص دعائیں بھی ہوتیں۔ ضعیفوں کی دعائیں، بچوں کی معصوم التجائیں اور نوجوانوں کا جوش و ولولہ ایک طوفان بن کر اُمڈ پڑا تھا، جس سے ٹکرانا اور جس کو روکنا آسان کام نہیں تھا۔ مختار مسعود کی رگ و پے میں بھی ایک خود دار قوم اور غیرت مند خاندان کا خون گردش کر رہا تھا۔ انہوں نے اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

پاکستان کا سورج کرۂ ارض پر طلوع ہوئے 64سال ہو گئے۔ اس نظریاتی ملک کی سرزمین پر عجب عجب حالات رونما ہوئے، لیکن ان دلخراش حالات میں بھی مختار مسعود جیسے کچھ اور دیانتدار بزرگ ہمارے درمیان موجود ہیں، جن کے دل و دماغ اسی جوش و جذبے سے سرشار ہیں۔ ابھی تک ان کے لبوں پر وہی نغمے مچل رہے ہیں، جس کی خوشگوار فضا نے ان کے قلب و جگر کو ایسی فرحت و تازگی بخشی تھی، جس کا لطف وہ آج بھی محسوس کر رہے ہیں۔ ان سب کا تعلق پاکستان کے اس ہر اول دستے سے ہے، جس نے پاکستان کی تحریک میں حصہ لیا۔ اسے بنتے دیکھا اور اس کی خدمت کی اور اپنے تن من دھن کی بازی لگا کر اس چمن کی آبیاری اپنے خون جگر سے کی ہے۔ جب 1971ء میں ملک دولخت ہوا تو ان کا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ خون کے آنسو بہائے، آنسوؤں کا یہ سیلاب ابھی تک تھما نہیں، ابھی زخم ہرے ہیں، خدا معلوم ان زخموں پ رمرہم کب اور کون رکھے گا؟

معروف ادیب محمد واصل عثمانی اپنے ایک مقالے میں مختار مسعود کے بارے میں لکھتے ہیں کہ مختار مسعود نے ہر ذیشان علم و حکمت سے علوم اخذ کرنے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا، اگر ماں کی آغوش نے اپنی شیریں بیانی سے خوش گفتار بنایا تو مادر علمی نے ان کے نیک طور اور پاکباز رہنے کی شہادت دی۔ مختار مسعود اپنے خیالات کو مرتب و جمع کرنے اور مناسب و موزوں الفاظ کا جامہ پہنانے میں بڑے صبر و تحمل سے کام لیتے ہیں۔ انہوں نے صرف تین کتابیں تصنیف کی ہیں جو 23 سال کے وقفے میں زیور طبع سے آراستہ ہو کر منظر عام پر آ چکی ہیں۔۔۔ ’’آواز دوست‘‘ جنوری 1973ء میں ’’سفر نصیب‘‘ جنوری 1981ء میں ’’لوح ایام‘‘ جنوری 1996ء میں طبع ہوئیں۔ یہ کتابیں برسوں کی ریاضت اور تجربات کا حاصل ہیں۔ ’’سفر نصیب‘‘ اور ’’لوح ایام‘‘ میں درد جگر کا اظہار ہے۔’’آواز دوست‘‘ ماضی کی داستان ہے اور سفر نصیب و لوح ایام حال کے منظر نامے ہیں۔ ماضی ہمیشہ اثر انگیز ہوتا ہے اور حال صرف کہنی کی چوٹ کی قائم مقامی کرتا ہے، البتہ ان منظر ناموں میں ذاتی تجربات اور مشاہدات کے بیش قیمت موتی جگمگا رہے ہیں، جنہیں گرہ میں باندھ رکھنے سے بُرے وقتوں کے خوف و خطر سے بچ نکلنے کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ یہ کتابیں ان اکابرین کا جیتا جاگتا خاکہ ہیں‘‘۔

مزید :

ایڈیشن 1 -