سینیٹ اجلاس، مجموعہ تعزیرات پاکستان 1860ء میں مزید ترمیم کے 2بل منظور

سینیٹ اجلاس، مجموعہ تعزیرات پاکستان 1860ء میں مزید ترمیم کے 2بل منظور

  

اسلام آباد(این این آئی) سینیٹ نے مجموعہ تعزیرات پاکستان 1860ء میں مزید ترمیم کے دو بلوں کی اتفاق رائے سے منظوری دیدی جن کے تحت آرٹیکل 323، 273، 274 اور 275 میں ترامیم کی جائیں گی۔ پیر کو سینیٹ اجلاس کے دوران سینیٹر اعظم خان سواتی نے یہ بل زیر غور لانے کیلئے تحریک پیش کی جس کی حکومت نے مخالفت نہیں کی جس کے بعد انہوں نے یہ بل ایوان میں پیش کیا۔ چیئرمین نے شق وار منظوری حاصل کرنے کے بعد بل حتمی منظوری کیلئے ایوان میں پیش کیا۔ ایوان بالا نے اتفاق رائے سے بل کی منظوری دیدی۔ قبل ازیں پیر کے روز سینیٹ اجلاس سے خطا ب میں چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہا کہ ایوان کے وقارو تقدس کی بحالی کیلئے حکومت اور سینیٹرز کو اپنے استعفیٰ کی پیشکش کی تھی، وزیراعظم نواز شریف نے اسحاق ڈار اور راجہ ظفر الحق کے ذریعے یقین دہانی کرائی کہ وہ ایوان کے تقدس کی بحالی کیلئے کردار ادا کرنے سمیت مراسلہ بھی جاری کریں گے۔گزشتہ جمعہ کے روز کا واقعہ اچانک نہیں ہوا ، ہمیشہ کہا سینیٹ کو حکمران سنجیدہ لیا کریں پارلیمانی بالادستی کیلئے ہمیشہ کردار ادا کیا۔ مشرف دور میں پارلیمان کے نظام کی مضبوطی کیلئے دھرنا بھی دیا۔ سینیٹ کا آئینی کردار ہمیشہ برقرار رکھنے کی بات کی، ممبران اور ہاؤس کے وقار کو بلند کرنے کی کوشش کی۔ پارلیمان کی تاریخ میں ہمیشہ پارلیمانی وقار کی بحالی و وقار کیلئے سپیکرز نے جان بھی دے دیں ہمیشہ دعا کی کہ خدایا میرا نام بھی انہی شہداء میں لکھنا، ریکارڈ گواہ ہے ایوان میں حکومتی بنچز خالی ہوتے ہیں جس کا میں نے نوٹس لیا سیاسی ڈرامہ کبھی نہیں کیا۔ اب ہاؤس کی رولنگ اور دیگر معاملات کو حل کرنے کی حکومت نے یقین دہانی کروائی ہے سینیٹ کے اختیارات میں اضافے کیلئے حکومت سینیٹ اور اسمبلی کے درمیان مذاکرات شروع ہونگے سینیٹ کو پاور فل بنانے کیلئے اقدامات کریں گے۔انہوں نے یکجہتی کا اظہار کرنیوالے حکومتی اور اپوزیشن رہنماؤں اور اراکین پارلیمنٹ کا شکریہ بھی ادا کیا۔

انہوں نے کہا میں پارلیمنٹ کی بحالی اور اس کے وقار کیلئے ہمیشہ جنگ لڑتا رہوں گا ۔ قبل ازیں سینیٹ میں قائد ایوان راجہ ظفر الحق نے رضا ربانی کوچیئرمین کی نشست پر دوبارہ براجمان ہونے پر مبارکبادی تو ایوان میں موجود اراکین نے ڈائس بجا کر استقبال کیا۔ وزیر مملکت پانی و بجلی عابد شیر علی نے کہا پاکستان خطرناک دور سے گزر رہا ہے ۔ 25 فیصد لوگوں کو صاف پانی میسر نہیں ، یہ کسی ایک صوبے نہیں پورے پاکستان کا مسئلہ ہے۔ صوبے پانیوں کے مسئلے پر جنگ کریں گے۔ 1960,70کے بعد ہم ڈیم نہیں بنا سکے۔ پانی کو ضائع ہونے سے بچانے کیلئے ہمارے پاس ڈیم نہیں ، پانی کو زخیرہ کرنے کیلئے مرکز اور صوبوں کو مل کر اقدامات کرنا ہونگے ۔ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کی زد میں ہے۔62بلین ڈالرز کا پانی سالانہ بنیادوں پر ضائع ہو رہا ہے، پالیسی بنانا ہو گی، ورنہ دہشت گردی سے بڑا بحران پانی کا پیدا ہو جائیگا۔ چیئر مین سینٹ نے مستقبل میں بہتر حکمت عملی کیلئے معاملہ سینٹ کمیٹی کے حوالے کر دیا۔ اجلاس میں اراکین سینٹ نے مردان یونیورسٹی واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے ملوث عناصر کو سخت ترین سزائیں دینے کا مطالبہ کیااور کہا توہین رسالت قانون کے غلط استعمال کو روکنے کی ضرورت ہے جب تک ریاست اپنی رٹ قائم نہیں کرے گی لوگ قانون کو ہاتھوں میں لیتے رہیں گے۔ اے این پی، پی ٹی آئی، پشتونخوا ، جماعت اسلامی، پی پی پی ، ن لیگ و دیگر سیاسی جماعتوں کے اراکین کا کہنا تھا عبدالولی خان یونیورسٹی میں شہید ہونیوالے طالبعلم مشال خان کیساتھ بے حد ظلم کیا گیا ہے ،بد قسمتی سے بعض لوگ دین و مذہب کو اسلحہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں ، اسلام مذہب و فرقہ واریت کے نام پر ہزاروں گلے کاٹے گئے ہیں۔ ملک میں مساجد اور مدارس محفوظ نہیں ہیں اب یونیورسٹی میں بھی یہ جہالت ہو گئی ہے۔ شہید طالبعلم کا جنازہ نہ پڑھانے کے بارے میں مولوی نے بھی زیادتی کی ۔ مرکزی حکومت کی جانب سے غمزدہ خاندان کی طرف کوئی بھی نہیں گیا ، موجودہ واقعہ خیبر پختونخواہ حکومت کیلئے ٹیسٹ کیس ہے اور اسکا جلد فیصلہ ہونا چاہیے ۔ ہماری سوسائٹی صبرو برداشت سے عاری ہو چکی ہے،بدقسمتی سے قانون موجود ہے مگر اس پر عملدرآمد نہیں ہو رہاہے اور یہی چیز ایسے واقعات کو جنم دیتی ہے۔ توہین رسالت اور حدود آرڈیننس میں سابق آمر جنرل ضیاء نے اپنے مقصد کیلئے بنایا ۔کیا ہمارے پاس ایسے لیڈر نہیں ہیں جو ہمیں امن دے سکیں۔ پورے ملک میں 70فیصد یونیورسٹیوں میں وائس چانسلر نہیں ہیں ،اس واقعے میں ملوث افراد کو دہشتگردی ایکٹ کے تحت سزا دی جائے۔

سینیٹ اجلاس

مزید :

علاقائی -