ٹرمپ انتظامیہ سے ملکر کام کرنا چاہتے ہیں :نواز شریف ، پاکستان کسی پر اکسی میں نہ پڑے ، سفارتکاری کی راہ اپنائے: امریکی مشیر قومی سلامتی

ٹرمپ انتظامیہ سے ملکر کام کرنا چاہتے ہیں :نواز شریف ، پاکستان کسی پر اکسی میں ...

  

اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک /آن لائن)وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم پرامن ہمسائیگی کے لئے پرعزم ہیں بھارت کے ساتھ کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل بات چیت اور افغان بحران عالمی برادری کے ساتھ مل کر حل کرنا چاہتے ہیں ۔امریکہ سے مضبوط باہمی مفاد پر مبنی شراکت کے خواہاں ہیں ۔ باہمی تعاون سے دہشتگردی کا خاتمہ اور معاشی انقلاب برپا کر کے خطے کے مستقبل کو تابناک بنانا چاہتے ہیں انہوں نے ان خیالات کا اظہار امریکی قومی سلامتی کے مشیر ایچ آر میک ماسٹر سے ملاقات کے دوران کیا جس میں خطے کی سلامتی اور پاک امریکہ تعلقات پر بات چیت کی گئی جبکہ پاک افغان سرحدی معاملات اور تعلقات کے معاملات بھی زیر غور آئے ۔ اس موقع پر پاکستان میں تعینات امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل اور وزیر اعظم نواز شریف کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز سمیت پاکستان اور امریکہ کے سینئر حکام بھی موجود تھے ۔وزیر اعظم نواز شریف نے میک ماسٹر کو امن و امان اور معاشی اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری پاکستان میں امن و امان اور معاشی ترقی کے عمل کی معترف ہے حکومت نے ملک سے انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے اتفاق رائے پیدا کیا ا ور معاشی اصلاحات سے معتدل ، ترقی پسند اور جمہوری ملک کی بنیاد رکھ رہے ہیں حکومت اپنی حکمت کے تحت ہمسایہ ممالک سمیت اقوام عالم کے ساتھ معاشی و اقتصادی سمیت متعدد مشیروں میں تعلقات کو پروان چڑھانا چاہتی ہے امریکہ اور پاکستان قریبی دوست اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اتحادی ہیں اس رشتے کو مزید تقویت دینے کے لئے ہم امریکہ اور دیگر ممالک کے ساتھ معاشی تعلقات بڑھانے کے لئے تیار ہیں ۔ پاکستان نہ صرف اپنی معاسی ترقی کے لئے امریکہ کے ساتھ مضبوط اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری چاہتا ہے بلکہ خطے میں امن و سلامتی کے لئے نئی امریکی انتطامیہ کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں ۔ وزیر اعظم نواز شریف نے میک ماسٹر کو پاک بھارت تعلقات سے آگاہ کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ ہم پرامن ہمسائیگی پر یقین رکھتے ہیں اور اس کے لئے پرعزم ہں خطے کے امن و امان کی صورت حال کو یقینی بنانے کے لئے پاکستان بھی بھارت کے ساتھ کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل بات چیت سمیت افغان بحران عالمی برادری کے ساتھ مل کر بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں ۔انہوں نے پاک بھارت مسائل اور دوریاں ختم کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کے صدر ٹرمپ کے اقدام کو سراہا اور امید کا اظہار کیا کہ صدر ٹرمپ کے اس اقدام سے خطے میں پائیدار امن و خوشحالی آئے گی امریکی قومی سلامتی کے مشیر میک ماسٹر نے کہا کہ نئی امریکی انتظامیہ پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مستحکم بنانے کے لئے پرعزم ہیں اور جنوبی ایشیاء اور افغانستان میں امن و سلامتی کے لئے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لئے تیار ہیں خیال رہے کہ میک ماسٹر اور نئی امریکی انتظامیہ کی طرف سے اعلی عہدیدار کا پاکستان کا پہلا دورہ ہے ۔مشیر خارجہ سرتاج عزیز سے میک ماسٹر نے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات خطے کی سکیورٹی اور افغانستان میں قیام امن پر گفتگو کی گئی ۔ مشیر خارجہ سرتاج عزیز سے امریکی قومی سلامتی کے مشیر ریمنڈ میک ماسٹر نے ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات سمیت افغانستان میں قیام امن اور سکیورٹی سے متعلق امور بھی زیرغور آئے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے افغان مفاہمتی عمل کیلئے پاکستان کی کوششوں اور پاک افغان سرحد پر موثرسرحدی نظام کی اہمیت کے حوالے سے بھی آگا ہ کیا ملاقات میں مشیر قومی سلامتی ناصر جنجوعہ اور پاکستان میں امریکہ کے سفیر بھی موجود تھے وضع رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے کسی بھی اعلی عہدیدار کا پاکستان کا یہ پہلے دورہ ہے اور مریکی قومی سلامتی کے مشیر میک ماسٹر افغانستان دورے کے بعد پاکستان کے دورے پر آئے ہیں۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکا کے مشیر قومی سلامتی میک ماسٹر نے ملاقات کی جس میں پاک امریکا تعلقات دفاعی تعاون سمیت علاقائی سلامتی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پیر کے روز جی ایچ کیو راولپنڈی میں آرمی چیف سے امریکی مشیر قومی سلامتی میک ماسٹر نے ملاقات کی جس میں پاکستان اور امریکا کے درمیان دو طرفہ تعلقات، دفاعی تعاون سمیت علاقائی سلامتی خصوصاً افغانستان اور بھارت کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا ۔وزیر اعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے افغانستان کی بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال پر پاکستان کی تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ،افغانستان میں امن و مفاہمت کے لئے کوششوں میں تعاون کے سلسلہ میں عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لئے پرعزم ہے ۔ دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق مشیر خارجہ نے یہ بات امریکی قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل ایچ آر میک ماسٹر کے ساتھ باضابطہ مذاکرات کے دوران کہی۔ سرتاج عزیز کی معاونت وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے امور خارجہ سید طارق فاطمی ، قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر خان جنجوعہ اور وزارت خارجہ کے سینئر حکام نے کی جبکہ امریکی قومی سلامتی کے مشیر کی معاونت امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل ، پاکستان اور افغانستان کے لئے امریکہ کے قائمقام خصوصی نمائندہ لارل ملر ،امریکی قومی سلامتی کونسل کے جنوبی ایشیاء کے لئے سینئر ڈائریکٹر لیزا کرٹس اور پاکستان کے لئے ڈائریکٹر جے وائز نے کی ۔ سرتاج عزیز نے خطے میں پائیدار امن کے حصول کے لئے اقدامات کے حصہ کے طور پاکستان اور افغانستان کے درمیان مؤثر سرحدی نظام کی اہمیت اجاگر کی۔ انہوں نے امریکی وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان اور امریکہ عشروں پرانے دوست ہیں اور خطہ میں پائیدار امن و استحکام کے لئے دونوں ممالک کے درمیان جاری ٹھوس شراکت داری ضروری ہے ۔انہوں نے حکومت کی پالیسیوں کے متعلق تفصیلی بریفنگ دی جس کے نتیجہ میں پاکستان میں سلامتی کی فضاء بہتر ہوئی اور معاشی ترقی کو فروغ ملا ہے ۔ دہشت گردی کے خاتمے کے سلسلہ میں انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کے خاتمہ کے حوالے سے شاندار کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں

نواز شریف۔ امریکی مشیر

کابل /واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک/اے این این) امریکہ کے مشیر قومی سلامتی میک ماسٹر نے بھی دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کی نیت پر شک کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کیلئے یہی بہتر ہے وہ افغانستان سمیت کہیں بھی ’’پراکسی ‘‘ میں نہ پڑے اور سفارتکاری کی راہ اپنائے۔پاکستان اور افغانستان میں معاملات سفارتکاری سے حل کئے جائیں ۔طالبان کے تمام دھڑوں کے خلاف موثر کارروائیکی ضرورت ہے ، کسی چنیدہ دھڑے کو چھوڑ کر باقیوں کے خلاف اقدام کرنا ٹھیک نہیں، جیسا کہ ماضی میں کیا گیا،دہشتگردوں کیخلاف بلا تفریق کارروائی اس کے اپنے مفاد میں ہے ،پورے طالبان کو شکست دینا ہوگی ۔ کابل میں افغان ٹیلی ویژن سے خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اِس بات کی ضرورت ہے کہ طالبان کے تمام دھڑوں کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے۔ بقول ان کے، ''پاکستان کو سمجھنا ہوگا کہ یہ بات خود پاکستان کے اپنے مفاد میں ہے کہ کسی چنیدہ دھڑے کو چھوڑ کر باقیوں کے خلاف اقدام کرنا ٹھیک نہیں، جیسا کہ ماضی میں کیا گیا''۔ پاکستان کے اپنے بہترین مفاد میں ہوگا کہ افغانستان یا کہیں اور تشدد پر مبنی 'پراکسیز' میں پڑنے کی جگہ سفارت کاری کی راہ اپنائی جائے ''ہم سب کئی برسوں سے اِسی بات کی توقع کرتے آئے ہیں''۔ان سے پوچھا گیا کہ دورہ پاکستان سے قبل، اِس ضمن میں، وہ پاکستان کو کیا پیغام دینا چاہیں گے۔صوبہ ننگرہار میں گرائے جانے والے سب سے بڑے غیر جوہری بم سے متعلق ایک سوال پر، انھوں نے کہا کہ ''داعش کے شدت پسندوں کو من مانی نہیں کرنے دی جائے گی''۔ اس سلسلے میں، ان کا کہنا تھا کہ ''امریکی فوج کے علاوہ، بہادر افغان فوجی افغانستان کے امن و سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے دلیری سے لڑ رہے ہیں''۔داعش کے بارے میں، جنرل میک ماسٹر نے کہا کہ ''یہ وہ لوگ ہیں جو خواتین سے زیادتی کرتے ہیں اور ہسپتالوں میں داخل مریضوں تک کو گولیوں کا نشانہ بناتے ہیں۔ ہم اس قسم کی مزاحمت کرنے والی تنظیم کو کسی طور پر بھی برداشت نہیں کر سکتے۔ یہ لوگ مہذب دنیا کے لیے خطرہ ہیں۔ اِن گروپوں کے خلاف ہم طویل مدت سے مل کر اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ لازم ہے کہ اِن گروپوں کو شکست دی جائے''۔یہ پوچھنے پر کہ آیا طالبان پر بھی اِسی نوع کا دباؤ ڈالا جائے گا، انھوں نے کہا کہ ''طالبان کو شکست دینا بھی اتنا ہی ضروری ہے''۔انھوں نے کہا کہ ''طالبان کو شکست دی جائے گی، ماسوائے ان کے جو مصالحتی انداز اپناتے ہیں، جو افغان بھائیوں سے ملنے کے لیے تیار ہیں، افغان ریاست کو مضبوط کرنے کے خواہاں ہیں، جو سیاسی عمل کا حصہ بننا چاہتے ہیں، جس بات کا افغان صدر اور ملک کے چیف ایگزیکٹو خیرمقدم کریں گے''۔ ''اب اِس بات کا فیصلہ کرنا طالبان کا کام ہے''۔ انٹرویو کرنے والے نے جب یہ کہا کہ ''وہ اِس طرف نہیں آ رہے ہیں؟''، تو امریکی قومی سلامتی کے مشیر نے کہا ''جو ایسا نہیں کریں گے، انھیں میدانِ جنگ میں شکست دی جائے گی''۔مک ماسٹر نے واضح کیا کہ ''افغانستان کے بارے میں نئی حکمتِ عملی صدر ڈونالڈ ٹرمپ وضع کر رہے ہیں، جس کے تحت، افغان حکومت اور افغان سلامتی فورسز کو مضبوط کیا جائے گا، تاکہ مشکل میں گھرے افغان عوام کی مدد کی جاسکے، جنھوں نے طویل مدت سے مشکلات جھیلیں ہیں''۔روس کی سرپرستی میں ماسکو میں ہونے والے افغان مذاکرات کے بارے میں، جن میں امریکہ شریک نہیں، ایک سوال پر، انھوں نے کہا کہ ''کسی کو بھی طالبان، ان کی مسلح مزاحمت، یا افغان حکومت یا عوام کے خلاف کارروائیوں کی حمایت نہیں کرنی چاہیئے''۔ تاہم، انھوں نے کہا کہ ''امریکہ اس بات کے حق میں ہے کہ خطے کے ممالک حکومتِ افغانستان اور عوام کی مدد کے لیے مثبت کردار ادا کریں، ناکہ طویل عرصے سے جاری تنازع کو طول دینے کا باعث بنیں''۔''2017 کے حالات مختلف ہیں، اب یہ 2001 کا دور نہیں رہا''۔ ضرورت اِس بات کی ہے کہ افغانستان میں اب تک حاصل کردہ بہتری کی حفاظت کی جائے اور اصلاحات کے ذریعے مزید بہتری لائی جائے، جس ضمن میں، ان کا کہنا تھا کہ ''صدر اشرف غنی کی حکومت ضروری اصلاحات پر تیار ہے، جن سے ملکی سلامتی اور استحکام کو تقویت ملے''۔ اس سے قبل امریکی قومی سلامتی کے مشیر نے افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کی۔

میک ماسٹر

مزید :

صفحہ اول -