ڈان لیکس پر اتفاق رائے کا جواب اور وزیر داخلہ سے لیں :ڈی جی آئی ایس پی آر ، میجر جنرل آصف غفور کا کمیٹی سے کوئی تعلق نہیں : نثار

ڈان لیکس پر اتفاق رائے کا جواب اور وزیر داخلہ سے لیں :ڈی جی آئی ایس پی آر ، ...
 ڈان لیکس پر اتفاق رائے کا جواب اور وزیر داخلہ سے لیں :ڈی جی آئی ایس پی آر ، میجر جنرل آصف غفور کا کمیٹی سے کوئی تعلق نہیں : نثار

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر/مانیٹرنگ ڈیسک)ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے انکشاف کیا ہے کہ کالعدم تنظیم جماعت الاحرار اور تحریک طالبان پاکستان کے سرکردہ رہنماء احسان اللہ احسان نے فوج کے آگے سرنڈر کردیا ہے ا ور وہ اب فوج کی تحویل میں ہے ، ڈان لیکس کی رپورٹ دو چار روز میں منظر آنے کے حوالے سے وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے جو وعدہ کیا وہ انکوائری کمیٹی کے مینڈیٹ کے مطابق پورا ہوگا، بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو سزاد ینے کے معاملہ پر سمجھوتہ نہ کیا نہ ہی کرینگے ، ہر آنیوالے دن امریکہ کی جانب سے ڈو مور کے مطالبہ میں کمی واقع ہورہی ہے ،آرمی چیف کی اور عمران خان کی ملاقات کے بارے میں پہلے ہی پریس ریلیز جاری کردی تھی ۔ملاقات ملک کی بہتری کیلئے ہی تھی ۔ امریکی قومی سلامتی کے مشیر نے آرمی چیف سے ملاقات میں پاکستان کے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں کردار کو سراہا ہے ۔ پریس بریفنگ میں ، میجرجنرل آصف غفور نے بتایا کہ ڈان لیکس کے حوالے سے انکوائری کمیٹی کا مینڈیٹ واضح تھا کہ زمہ داروں کا تعین کیا جائے ، انکوائری کمیٹی کے مینڈیٹ کے مطابق اس کے ارکان کے اتفاق رائے کا معاملہ نہیں بتایا جاسکتا ، وزیر داخلہ اگر کہتے ہیں کہ اتفاق رائے ہو گیا ہے تو ان سے ہی پوچھیں۔ڈان لیکس کے ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگیَ انہوں نے واضح کیا کہ داعش کا نظریاتی خطرہ موجود ہے اس خطرے کو پاکستان کے ہر گھر سے شکست دینا ہوگی ۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ آپریشنز کے دوران گزشتہ 15سال کے دوران اہم کامیابی حاصل ہوئی ہے اورکالعدم تنظیم کے جماعت الاحرار کے سرغنہ احسان اللہ احسان نے خود کو سکیورٹی فورسز کے حوالے کردیا ہے، دہشتگرد اور ان کے ساتھی کہیں بھی ہوں گے خاتمہ کیا جائے گا،22فروری کو شروع آپریشن ردالفساد کے تحت ،15بڑے آپریشنز 723جوائنٹ چیک پوسٹیں قائم ،ملک بھر میں 4510مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا،غیررجسٹرڈ 1859افغان باشندوں کوحراست میں لیا یا، اب تک 4083ہتھیار قبضے میں لئے گئے ۔ 6لاکھ22ہزار691مختلف اقسام کے ہتھیار پکڑے گئے،پنجاب میں دوبڑے آپریشن کے دوران سینکڑوں مشتبہ افراد حراست میں لیے گئے 558فراریوں نے خود کو قانون کے حوالے کیا، فاٹا میں راجگال اور خیبرایجنسی کا کچھ علاقہ کلیئرہونا ابھی باقی ہے،مغربی سرحد کو محفوظ بنانے کیلئے نئے فورٹ بنائے جارہے ہیں، فوجی عدالتیں اب تک 274مقدمات کا فیصلہ دے چکی ہیں،فوجی عدالتوں نے 161ملزموں کو سزائے موت دی،پنجاب،سندھ اور بلوچستان میں مردم شماری کا پہلا مرحلہ مکمل کرلیا گیا ہے،مردم شماری کے عمل کو شفاف بنانے کیلئے ٹیکنالوجی کا استعمال بھی کیا جارہا ہے،تمام پاکستانی اپنے اردگرد مشکوک سرگرمیوں پر نظر رکھیں،ریاست کے ساتھ کوئی لڑائی نہیں کرسکتا،آپریشن ردالفساد کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں،بھارت نے 2014سے لے کر اب تک سینکڑوں بار سیزفائرمعاہدے کی خلاف ورزی کی،سرحد پار بیٹھی قیادت بھی جانتی ہے کہ پاکستان کے حالات اب پہلے جیسے نہیں،آئی ایس آئی ایس کا ہدف نوجوان ہیں،نورین لغاری نے داعش میں شمولیت کا اعلان فیس بک کے ذریعے کیا، وہ لاہور سے بازیاب ہوئی ، شام نہیں گئی تھی،ڈان لیکس کے ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ سیکیورٹی اداروں اور عوام کی مدد سے تمام آپریشن کامیاب ہوئے،سب نے مل کر آپریشن کو کامیابی کی طرف گامزن کیا ہے،ردالفساد ایک ارادہ ہے کہ فساد کو رد کرنا ہے،یہ عہد ہے جس میں ہم سب شال ہیں اس سے پہلے سارے آپریشن بڑے پیمانے پر تھے،ردالفساد کا مقصد دیگر آپریشنز کی کامیابیوں کو مستحکم بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ ادارے اور سسٹم وقت کے ساتھ ساتھ مضبوط ہوتے ہیں،مدرسہ،جوڈیشل،ایجوکیشن ،پولیس اور فاٹا اصلاحات ردالفساد کا حصہ ہیں،دہشتگرد اور ان کے ساتھی کہیں بھی ہوں گے خاتمہ کیا جائے گا،22فروری کو آپریشن ردالفساد شروع کیا گیا،15بڑے آپریشن کیے گئے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 723جوائنٹ چیک پوسٹ قائم کی گئی ہیں،ملک بھر میں 4510مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا،غیررجسٹرڈ 1859افغان باشندوں کو گرفتار کیا گیا،آپریشن ردالفساد کے دوران اب تک 4083ہتھیار قبضے میں لئے گئے ہیں،6لاکھ22ہزار691مختلف اقسام کے ہتھیار پکڑے گئے،پنجاب میں دوبڑے آپریشن کے دوران سینکڑوں مشتبہ افراد حراست میں لیے گئے۔انہوں نے کہا کہ 558فراریوں نے خود کو قانون کے حوالے کیا،لاہور آپریشن کے دوران حیدرآباد سے لاپتہ لڑکی کو بازیاب کرایا گیا،آرمی چیف نے ایم آئی کو لڑکی بازیاب کرانے کی خصوصی ہدایت کی،ڈی جی خان میں سیکیورٹی فورسز نے رینجرز کے ساتھ مل کر آپریشن کیا۔آپریشن کے دوران 10دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا،ہلاک دہشتگردوں میں سے دو کا تعلق لشکر جھنگوی سے تھا،چمن کے علاقے میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کیا گیا،چمن سے پکڑی گئی گاڑی میں سے 120کلو بارودی مواد نصب تھا،لورالائی میں آپریشن کے دوران بڑی مقدار میں گولہ بارود برآمد کیا گیا۔میجر جنر آصف غفور نے کہا کہ فاٹا میں راجگال اور خیبرایجنسی کا کچھ علاقہ کلیئرہونا ابھی باقی ے،مغربی سرحد کو محفوظ بنانے کیلئے نئے فورٹ بنائے جارہے ہیں،42فورٹ بنائے جاچکے ہیں جبکہ 63فورٹس پر کام جاری ہے،پاک افغان سرحد پر پہلے مرحلے میں 744کلومیٹر علاقے میں تاریں لگائی جارہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ فاٹا میں حکومت اور فوج کے تعاون سے بہت سے ترقیاتی منصوبے مکمل کیے گئے،فاٹا سے پاکستان ملٹری اکیڈمی میں 82کیڈٹس زیرتربیت ہیں،فاٹا کے 1100سے زائد بچے آرمی کے زیراہتمام سکولوں میں پڑھ رہے ہیں،سوات میں 23مارچ سے اے پی ایس سکول 700بچے زیرتعلیم ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے فائربندی معاہدے کی خلاف ورزیوں میں اضافہ ہوا ہے،بھارت مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے توجہ ہٹانے کیلئے سیز فائر کی خلاف ورزی کرتا ہے،بھارت نے 2014سے لے کر اب تک سینکڑوں بار سیزفائرمعاہدے کی خلاف ورزی کی،پنجاب،سندھ اور بلوچستان میں مردم شماری کا پہلا مرحلہ مکمل کرلیا گیا ہے،مردم شماری کے عمل کو شفاف بنانے کیلئے ٹیکنالوجی کا استعمال بھی کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ فوجی عدالتیں اب تک 274مقدمات کا فیصلہ دے چکی ہیں،فوجی عدالتوں نے 161ملزموں کو سزائے موت دی،آپریشن ردالفساد کسی ایک ادارے کا آپریشن نہیں ہے،تمام پاکستانی اپنے اردگرد مشکوک سرگرمیوں پر نظر رکھیں،ریاست کے ساتھ کوئی لڑائی نہیں کرسکتا،ابھی بہت سا کام کرنا ہے۔آپریشن ردالفساد کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں انہوں نے کہا کہ سرحد پار بیٹھی قیادت بھی جانتی ہے کہ پاکستان کے حالات اب پہلے جیسے نہیں،کسی بھی آپریشن کی کامیابی کا مقصد ریاستی رٹ کی بحالی ہوتا ہے۔ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد میں تمام اداروں میں تعاون میں بہتری آرہی ہے،مغربی سرحد پر باڑ اپنی سرحدی حدود کے اندر لگائی جارہی ہے،نوجوان طبقہ داعش کا ہدف ہے،والدین بچوں پر کڑی نظر رکھیں،دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کامیابیوں کو عالمی سطح پر سراہا جارہا ہے،دہشتگردی کے مکمل خاتمے کیلئے پرعزم ہیں،انجام تک پہنچائیں گے،کوئی دہشتگرد اگر راہ راست پر آجائے تو اس سے بڑی کوئی کامیابی نہیں،پاکستان کے اندرون معاملات میں کسی کو اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں،دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان سے زیادہ کسی نے قربانیاں نہیں دیں،دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں جس نے دہشتگردی کا پروفیشنل طریقے سے مقابلہ کیا ہو۔آئی ایس آئی ایس کا ہدف نوجوان ہے،نورین لغاری نے داعش میں شمولیت کا اعلان فیس بک کے ذریعے کیا،نورین لغاری لاہور سے بازیاب ہوئی وہ شام نہیں گئی تھی۔اپنے اس بیان پر قائم ہوں کہ ڈان لیکس کی سفارشات مرتب ہونے میں تاخیر کمیٹی میں اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے ہوئی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا نہ تو کمیٹی سے تعلق ہے اور نہ وہ اس وقت ڈی جی آئی ایس پی آر تھے جب یہ کمیٹی تشکیل دی گئی۔ کمیٹی کے قیام کے وقت جسٹس عامر رضا خان نے اسکی سر براہی اس شرط پر قبول کی کہ وہ صرف اس وقت کمیٹی کی رپورٹ پر دستخط کریں کے جس پر سب کا اتفاق رائے طے پائے گا۔ اگر شروع میں ہی کمیٹی کی سفارشات پر سب اراکین کا اتفاق رائے ہو جاتا تو اس کمیٹی کو اپنی حتمی رپورٹ مرتب کرنے میں پانچ مہینے سے زیادہ کیوں لگتے

فوجی ترجمان، نثار

مزید :

صفحہ اول -