حبیب ظاہر کا کلبھوشن کو پکڑنے والی ٹیم سے کوئی تعلق نہیں

حبیب ظاہر کا کلبھوشن کو پکڑنے والی ٹیم سے کوئی تعلق نہیں

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ کرنل (ر) حبیب ظاہر کا کلبھوشن کو پکڑنے والی ٹیم سے کوئی تعلق نہیں ہے ‘ وہ 2014ء میں فوج سے ریٹائر ہو گئے تھے ‘ کلبھوشن یادیو کو سزا فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے تقاضوں کے مطابق دی گئی۔ پیر کو ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے پریس بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ کرنل (ر) حبیب پاکستانی شہری ہیں مگر ان کا کلبھوشن یادیو کو پکڑنے والی ٹیم سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ وہ 2014ء میں فوج سے ریٹائر ہو گئے تھے۔ میجر جنرل آصف غفور نے کہاکہ کلبھوشن یادیو کو سزا فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے تمام تقاضوں کے مطابق دی گئی۔ کلبھوشن کو جعلی نام ‘ جعلی شناخت اور جعلی پاسپورٹ کی بنیاد پر پکڑا۔ ہم نے کلبھوشن کے معاملے پر سمجھوتہ کیا نہ ہی کریں گے۔ وہ جاسوس ہے،جاسوس کو قونصلر رسائی نہیں دی جاتی۔ر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ لاہور سے بازیاب ہونے والی ایم بی بی ایس کی طالبہ نورین لغاری کے والد نے بازیابی کے لیے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے رابطہ کیا تھا،نورین لغاری کبھی شام گئی ہیں نہیں اسے لاہور سے بازیاب کرایا گیا۔پریس بریفنگ کے دوران نورین لغاری کا ریکارڈ شدہ ویڈیو پیغام بھی دکھایا گیا، جس میں انھوں نے بتایا کہ وہ حیدرآباد سے تعلق رکھتی ہیں جن کے والد سندھ یونیورسٹی میں کیمسٹری کے پروفیسر ہیں۔صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی کے دوران حراست میں لی جانے والی میڈیکل کی طالبہ نورین لغاری کا ویڈیو میں کہنا تھا کہ انہیں نے کسی نے اغوا نہیں کیا، وہ اپنی مرضی سے گئی تھیں۔انھوں نے بتایا کہ میں خود لیاقت میڈیکل یونیورسٹی میں ایم بی بی ایس ایس سیکنڈ ایئر کی طالبہ ہوں۔ساتھ ہی انھوں نے واضح کیا کہ مجھے کسی نے اغوا نہیں کیا، میں اپنی مرضی سے لاہور کے لیے روانہ ہوئی تھی۔نورین نے بتایا کہ علی کی شروع سے ہی دہشت گردانہ کاروائیوں کی منصوبہ بندی تھی، جیسے کہ خودکش حملہ کرنا اور سیکیورٹی اہلکاروں کو اغوا کرنا وغیرہ'۔انھوں نے بتایا کہ علی کے ساتھ ابو فوجی نام کا ایک لڑکا بھی ملوث تھا، ان کارروائیوں کے لیے یکم اپریل کو 'تنظیم' نے سامان فراہم کیا، جن میں خودکش جیکٹس، 4 ہینڈ گرنیڈز اور کچھ گولیاں شامل تھیں۔نورین نے بتایا کہ ان خودکش جیکٹس کا استعال مسیحیوں کے مذہبی تہوار ایسٹر کے موقع پر کسی چرچ میں کرنا تھا اور خوکش حملے کے لیے مجھے استعمال کیا جانا تھا، لیکن اس سے پہلے ہی 14 اپریل کی رات سیکیورٹی فورسز نے ہمارے گھر پر ریڈ کیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حبیب ظاہر

مزید :

صفحہ اول -