ٹرمپ کا اردوان کو فون ، ریفرنڈم میں کامیابی پر مبارکباد

ٹرمپ کا اردوان کو فون ، ریفرنڈم میں کامیابی پر مبارکباد
 ٹرمپ کا اردوان کو فون ، ریفرنڈم میں کامیابی پر مبارکباد

  

انقرہ(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترک ہم منصب طیب رجب اردوان سے گزشتہ روز ٹیلی فون پر رابطہ کرکے تاریخی ریفرنڈم میں کامیابی پر مبارک باد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا ،اس موقع پر دونوں رہنماؤں کے مابین عالمی ، علاقائی امور اور بالخصوص شام کے بحران پر بھی تبادلہ خیال ہوا اور داعش کیخلاف مشترکہ کارروائیوں پر بھی اتفاق رائے پایا گیا۔طیب اردوان نے مبارکباد دینے پر اپنے امریکی ہم منصب کا شکریہ ادا کیا۔

ترکی کی دو بڑی اپوزیشن جماعتوں نے ریفرنڈم کے نتائج کو چیلنج کرنے کا اعلان کردیا۔ترکی کی اپوزیشن جماعت ری پبلک پیپلز پارٹی نے ریفرنڈم کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھادیئے جبکہ اپوزیشن نے اعتراض کیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے آخری لمحات میں ووٹنگ قوانین میں تبدیلی کی،اپوزیشن کے مطابق دارالحکومت انقرہ، استنبول اورازمیر میں صدارتی نظام کی مخالفت میں زیادہ ووٹ پڑے۔ جبکہ یورپی یونین کی جانب سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے وہ ریفرنڈم کے حوالے سے بین الاقوامی مبصرین کی رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں، جو آج پیر کے روز جاری کی جائے گی ،ترکی کے عوام نے ریفرنڈم میں صدارتی نظام کے حق میں ووٹ دیدیا۔51.3 فی صد نے ہاں اور 48.7 فی صد نے مخالفت کی۔ ترک صدر کے 2029 تک اقتدار میں رہنے کی راہ ہموار ہو گئی۔ دریں اثناء ترک صدر طیب اردوان نے فیصلے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا امور سیاست میں فوجی مداخلت کا دروازہ بند کردیا ہے ، مغربی طاقتیں بھی ترک عوام کے فیصلے کا احترام کریں۔ادھر استنبول میں اپنی رہائش گاہ پر حامیوں سے خطاب میں ترک وزیر اعظم بن علی یلدرم کا کہنا تھا ترکی جمہوری تاریخ کے نئے دور میں داخل ہورہا ہے۔ صدارتی نظام کے حق میں ووٹ دینے پرعوام کے شکر گزار ہیں ۔ ترکی کے ڈھائی کروڑ عوام نے تاریخ کی سب سے اہم اصلاحات کے حق میں ووٹ دیا ہے جس کے باعث سرکاری امور میں فوجی مداخلت کی طویل تاریخ کا دروازہ بندہوگیا ہے۔طیب اردوان نے امید ظاہر کی کہ ریفرنڈم سے ترکی کو فائدہ پہنچے گا۔یہ پہلی دفعہ ہے کہ اس اہم تبدیلی کیلئے ترک عوام نے پارلیمنٹ اور عوام کی خواہش کا ساتھ دیا ہے اور ہماری تاریخ میں پہلی بار ایسا ہورہا ہے کہ ہم نظام حکومت سیاست کے ذریعے تبدیل کررہے ہیں۔ترک وزیر اعظم بن علی یلدرم کا مزید کہنا تھا اب ہمارا اگلا ہدف 2019 کے انتخابات ہیں۔دوسری طرف یورپی یونین کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ یورپی یونین کے تین سرکردہ ترین نمائندوں یورپی کمیشن کے سربراہ ڑاں کلوڈ یْنکر، یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیدیریکا موگرینی اور یونین میں توسیع سے متعلقہ امور کے کمشنر یوہانیس ہان نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ وہ اس ریفرنڈم کے حوالے سے بین الاقوامی مبصرین کی رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں، جو آج پیر کے روز جاری کی جائے گی۔کچھ یورپی رہنما ابھی سے اس بات پر زور دینے لگے ہیں کہ ریفرنڈم کے بعد ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت کے حوالے سے انقرہ حکومت کیساتھ جاری مذاکرات ختم کر دیئے جانے چاہییں۔واضح رہے ترکی میں صدارتی اور پارلیمانی نظامِ حکومت کے انتخاب کیلئے تاریخی ریفرنڈم ہوا جس میں عوام نے صدارتی نظام کے حق میں ووٹ دیا ۔ صد ارتی نظام کے تحت ترک صدربجٹ، ایمرجنسی کا نفاذ اور پارلیمنٹ کی اجازت کے بغیر وزارتوں کو احکامات جاری کر سکیں گے۔

ترکی ریفرنڈم

مزید :

صفحہ اول -