رینجرز کو خصوصی اختیارات،سندھ حکومت کاپنجاب ماڈل اپنانے پر غور

رینجرز کو خصوصی اختیارات،سندھ حکومت کاپنجاب ماڈل اپنانے پر غور

  

اسلا م آباد ، کرا چی (آن لائن) سندھ حکومت رینجرز کو خصوصی اختیارات دینے کے لیے 'پنجاب ماڈل' اپنانے پر غور کررہی ہے جس کے بعد پیراملٹری فورس دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی میں پولیس کی مدد کرے گی۔ ایک رپو رٹ کے مطا بق صوبائی حکومت کے ترقیاتی کاموں سے جڑے دو عہدیدار وں نے کہا ہے کہ سندھ حکومت 15 اپریل کو ختم ہونے والے رینجرز کے خصوصی اختیارات کی توسیع نہیں چا ہتی۔نام ظاہر نہ کرنے کے شرط پر ایک سینئرعہدیدار کا کہنا تھا کہ 'صوبائی حکومت سنجیدگی کے ساتھ رینجرز کو پولیسنگ کے خصوصی اختیارات نہ دینے پر غور کررہی ہے۔حکومت چاہتی ہے کہ رینجرز کا کردار جرائم پیشہ افراد کے خلاف صرف پولیس کی کارروائیوں میں معاونت کرنا ہو جس طرح پیراملٹری فورس کو پنجاب میں اختیارات دیے گئے ہیں عہدیدار کا کہنا تھا کہ رینجرز کو جو اختیارات سندھ میں حاصل ہیں پنجاب میں اس کے برعکس ہے۔ان کا کہنا ہے کہ سندھ میں ریجنرز کو پولیسنگ کے بنیادی اختیارات حاصل ہیں اور وہ چھاپے، مشتبہ گرفتاریاں اور ان کی تفتیش اور اپنے طور پر تلاشی لے سکتے ہیں جبکہ رینجرز کراچی میں اپنے پولیس سٹیشنز بھی بنانا چاہتی ہے اور ان کا وکیل ٹرائل کورٹ میں ان کی پیروی میں مصروف ہے۔پنجاب ماڈل' پیراملٹری فورس کو چھاپوں اور پولیس کی معاونت کا اختیار دیتا ہے۔سابق صدر آصف زرداری کی ڈیڑھ سال کی خودساختہ جلاوطنی کے بعد دسمبر 2016 میں وطن واپسی کے موقع پر جب رینجرز نے کراچی میں ایک کاروباری شخصیت کے دفاتر پر چھاپے مارے تو اس پر 'چند تحفظات' کا اظہار کیا گیا تھا۔دوسری جانب رینجرز پورے سندھ میں پولیسنگ کے اختیارات حاصل کرنا چاہتی ہے جبکہ صوبائی حکومت انھیں خصوصی اختیارات صرف کراچی ڈویژن کے لیے دے رہی ہے۔عہدیدار کا کہنا تھا کہ 'اس طرح کے اقدامات (رینجرز کے) سے سندھ حکومت کی پوزیشن خراب ہوجاتی ہے'۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس کا کراچی اور حیدرآباد میں آصف زرداری کے قریبی ساتھیوں کی حالیہ پراسرار گمشدگیوں کے معاملے سے تعلق نہیں ہے۔

مزید :

صفحہ اول -