ضمنی بلدیاتی انتخاب میں دھاندلی ،متحدہ کا سندھ اسمبلی سے واک آؤٹ

ضمنی بلدیاتی انتخاب میں دھاندلی ،متحدہ کا سندھ اسمبلی سے واک آؤٹ

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر ) سندھ اسمبلی میں پیر کو متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی جانب سے سکھر کے حالیہ ضمنی بلدیاتی انتخاب میں حصہ لینے والے امیدواروں کو مبینہ طور پر دھمکیاں دینے کے خلاف ایم کیو ایم کی جانب سے ایوان سے احتجاجاً علامتی واک آؤٹ کیا گیا اور ایم کیو ایم کے ارکان نے اس پر سخت احتجاج کیا ۔اجلاس کی کارروائی کے آغاز میں قائد حزب اختلاف خواجہ اظہار الحسن نے پوائنٹ آف آرڈر پر کھڑے ہو کر اسپیکر آغا سراج درانی کی توجہ اس جانب مبذول کرائی کہ وہ پڑسوں سکھر سے واپس آئے ہیں جہاں ضمنی بلدیاتی انتخاب کے دوران متحدہ کے کامیاب امیدواروں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جارہی ہیں ۔نتائج کو تبدیل کردیا گیا ہے ۔نتائج عوام اور میڈیا کے سامنے آگئے تھے لیکن الیکشن کمیشن کو ہائی جیک کرنے کے بعد 200اضافی ووٹ ڈلوائے گئے اور اتنی ہی تعداد میں ہمارے ووٹ پر دوہری مہر لگاکر ان کومسترد کرادیا گیا ۔اس حوالے سے متعلقہ ڈپٹی کمشنر پر بھی بہت زیادہ دباؤ ہے ۔اس واقعہ کے خلاف ہم ایوان میں احتجاج اور علامتی واک آؤٹ کریں گے ،جس پر اسپیکر آغا سراج درانی نے کہا کہ آپ کو احتجاج یا واک آؤٹ الیکشن کمیشن کے خلاف کرنا چاہیے ۔اس پورے معاملے میں ایوان کا کیا قصور ہے ۔اسپیکر کے روکنے کے باوجود ایم کیو ایم کے تمام ارکان ایوان سے علامتی واک آؤٹ کرگئے تاہم مسلم لیگ(فنکشنل) اور پی ٹی آئی کے ارکان نے ان کا ساتھ نہیں دیا ۔تھوڑی دیر بعد ایم کیو ایم کے ارکان واپس ایوان میں آگئے ۔اس موقع پر سینئر وزیر پارلیمانی امور نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ سکھر کے حوالے سے ان کے پاس جو اطلاعات ہیں ان کے مطابق قائد حزب اختلاف اور اپوزیشن کے دوسرے ارکان دو تین روز تک وہاں قیام پذیر تھے ۔ضمنی بلدیاتی انتخابات کے دوران بلوے اور جھگڑے بھی ہوئے اور الیکشن کمیشن نے دوبارہ پولنگ کا حکم دیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ رب کی رضا پر تو سب کو راضی ہونا چاہیے اس کے باوجود ایم کیو ایم کے ارکان اگر احتجاج یا واک آؤٹ کرتے ہیں تو ان کی مرضی ہے ۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -