حکومت سندھ نے وکلاء کو 231ملین سے زائد فیس ادا کی،ضیاالحسن نجار

حکومت سندھ نے وکلاء کو 231ملین سے زائد فیس ادا کی،ضیاالحسن نجار

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر ) سندھ کے وزیر قانون ضیاء الحسن لنجار نے بتایا ہے کہ حکومت سندھ نے مختلف عدالتوں میں 9 وکلاء کی خدمات حاصل کر رکھی ہیں ، جنہیں مختلف مقدمات میں پیروی کرنے پر 231.2 ملین فیس کی ادائیگی کی گئی ۔ یہ فیسیں 2010 سے 2013 کے عرصے میں ادا کی گئیں ۔ پیر کو ایوان میں ارکان کے مختلف توجہ دلاؤ نوٹس کے موقع پر ایم کیو ایم کے کامران اختر کے ایک توجہ دلاؤ نوٹس کے جواب میں وزیر قانون نے کہا کہ جن وکلاء کی خدمات حاصل کی گئی ہیں ، ان میں فاروق ایچ نائیک ، انور منصور ، آغا فیصل ، خالد جاوید ، یاور فاروقی اور حفیظ پیرزادہ لاء ایسوسی ایٹ کے وکلاء بھی شامل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ قانون کے پاس بھی اپنے وکیل بھی موجو دہیں ، جو باصلاحیت ہیں لیکن سرکاری وکلاء کی کم تعداد کے باعث باہر سے بھی وکلاء کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں ۔ محکمہ قانون کے وکلاء ہائیکورٹ اور ماتحت عدالتوں میں سرکار کی پیروی کرتے ہیں ۔ محکمہ قانون وکیلوں کی خالی اسامیوں کو پر کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور اس بارے میں اخبارات میں اشتہارات بھی دے دیئے گئے ہیں ۔ ایم کیو ایم کے قمر حسین رضوی کے ایک توجہ دلاؤ نوٹس کے جواب میں وزیر تعلیم جام مہتاب حسین ڈاہر نے کہا کہ گورنمنٹ بوائز عرفان سیکنڈری اسکول سولجربازار میں بجلی کا کنکشن منقطع ہے حالانکہ سندھ حکومت واپڈا اور کے الیکٹرک کو باقاعدگی سے بجلی کے واجبات ادا کر رہی ہے ۔ انہوں نے اسکول کی بجلی کی بحالی کے لیے کے الیکٹرک حکام سے ذاتی طور پر بات کی ہے لیکن علاقے کے منتخب نمائندوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ اسکول کی بجلی باہر کے غیر متعلقہ لوگ استعمال نہ کریں اور اسے چوری نہ کیا جائے ۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -