فلمی ، ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط 63

فلمی ، ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط 63
فلمی ، ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط 63

  

دلچسپ بات یہ ہے کہ ’’سسی‘‘ کی بے پناہ کامیابی کے بعد ’’سوہنی‘‘ اور بھی زیادہ اہتمام کے ساتھ بنائی گئی تھی لیکن یہ فلم فلاپ ہو گئی۔

’’سوہنی ‘‘ کی شوٹنگ شروع ہونے لگی تو ہماری بھی خان صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ ’’سوہنی‘‘ میں وہ انڈر واٹر فوٹر گرافی کا تجربہ بھی کریں گے۔ اس مقصد کے لئے لاہور اقبال پارک میں سوئمنگ پول کے آس پاس پہاڑیوں کا سیٹ لگایا گیا۔ پانی کے اندر فوٹو گرافی اسی سوئمنگ پول میں کرنی تھی۔

ہم نے کہا ’’خان صاحب‘ فلم انڈسٹری والے آپ کا مذاق اڑا رہے ہیں‘‘

قسط نمبر 62 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’وہ کیوں؟‘‘

’’آپ ’’ سوہنی‘‘ کو پانی میں تیرتے اور غوطے لگاتے ہوئے دکھائیں گے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ماہر تیراک تھی۔ تو پھر وہ دریا میں کیسے ڈوب گئی ؟‘‘

خان صاحب نے سگریٹ ہونٹوں سے نکالی اور مسکرائے۔ بولے ’’فلم والوں کو یہ پتا ہی نہیں ہے کہ میں کیا دکھانا چاہتا ہوں۔ پھر وہ کیوں اعتراض کررہے ہیں۔‘‘

ہم نے پوچھا ’’آپ کیا دکھانا چاہتے ہیں؟‘‘

ہنس کر کہنے لگے ’’یہ میرا بزنس سیکریٹ ہے۔ کیوں بتاؤں؟‘‘

ان مناظر کے لئے صبیحہ خانم کو خاص طور پر تیراکی سکھائی گئی۔ جاڑوں کے دن اور پانی میں بھیگنا قیامت سے کم نہ تھا۔ ہم بھی پتلون کے پائنچے چڑھائے سیٹ پر گھومتے رہے تھے۔ خان صاحب بھی پتلون کے پائنچے چڑھائے گھومتے تھے۔ اس سیٹ پر سبھی اپنے پائنچے سمیٹ کر کام کرتے نظر آتے تھے جو کہ بذات خود ایک دلچسپ منظر تھا۔ ستم ظریفی یہ ہوئی کہ یہ ساری محنت اکارت گئی کیونکہ انڈر واٹر فوٹو گرافی کا مناسب بندوبست نہ ہو سکا۔ جو بندوبست خان صاحب نے کیا تھا اس میں خامیاں پیدا ہو گئیں۔ بہر حال ’’سوہنی‘‘ بہت بری طرح فلاپ ہو گئی۔

ایم اے خان جوفلمی صنعت کے سب سے بڑے فلم ساز بلکہ مغل اعظم کہلانے لگے تھے اس منصب سے ہٹا دیے گئے۔ بلندی پستی کے ایسے تماشے فلم کی دنیا میں عام ہیں۔

’’سسی‘‘ کے ہدایت کار داؤد چاند بھی بہت پرانے اور تجربہ کار آدمی تھے۔ داؤد چاند احمد نگر کے رہنے والے تھے اور ’’چاند بی بی ‘‘ کے خاندان سے ان کا تعلق تھا۔ چاند بی بی ہندوستان کی تاریخ کا ناقابل فراموش کردار ہیں۔ ان کے خاندان سے تعلق رکھنے والوں نے اپنے نام کے ساتھ ’’چاند‘‘ لگانا شروع کر دیا۔ اس طرح داؤد صاحب بھی چاند بن گئے حالانکہ ان کا رنگ سیاہ تھا۔ آغا سلیم رضا انہیں کالا چاند کہا کرتے تھے اور داؤد صاحب ہنس کر چپ ہو جاتے تھے۔

’’سسی‘‘ کا ایک لطیفہ یہ بھی ہے کہ جب فلم کا سنسر پرنٹ نکالا گیا تو شریک فلم ساز چوہدری عید محمد نے فلم دیکھ کر سر پکڑ لیا اور کہا کہ یہ فلم تو کامیاب نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے داؤد چاند سے کہا کہ اس فلم میں بہت سے فالتو سین ہیں۔ آپ کل آئیں اور انہیں کاٹ کر فلم سے نکال دیں۔ داؤد صاحب کو یہ بات اچھی تو نہیں لگی مگر وہ اگلے دن ’’رتن‘‘ سنیما میں پہنچ گئے جو چوہدری عید محمد کا تھا اور یہیں ان کا دفتر بھی تھا۔ سنیما میں فلم دیکھی گئی تو چوہدری صاحب یہ نہیں بتا سکے کہ کون سا سین فالتوہے۔ اس طرح فلم ویسی کی ویسی ہی ریلیز کر دی گئی اور اس نے ریکارڈ قائم کر دیا۔

ہم داؤد چاند کے بارے میں بتا رہے تھے۔ انہوں نے اپنے کیرئیر کا آغاز بمبئی سے کیا تھا۔ فلم کے شوق میں گھر سے بھاگے تو سیدھے بمبئی کے فلمی نگار خانے میں پہنچ گئے۔ مزدوری کی‘ ایکسٹراؤں میں بھی شامل رہے۔ پھر چھوٹے چھوٹے کردار بھی کیے۔ اس کے بعد ہومی واڈیا کے اسسٹنٹ ہو گئے۔ ہومی واڈیا وہی صاحب ہیں جو واڈیا موویٹون کے ادارے کے مالک تھے اور ناڈیا کی فلمیں ہنٹر والی‘ سائیکل والی‘ طوفان میل وغیرہ انہوں نے ہی بنائی تھیں۔ داؤد چاند کا بمبئی سے جی بھر گیا تو کلکتہ چلے گئے وہ بھی فلم کا بہت بڑا مرکز تھا۔ میڈن تھیٹر ز کا معروف ادارہ دیوالیہ ہو کر ختم ہو گیا تھا اور ایک کروڑ پتی سیٹھ سکھ لال کرنانی نے اسے خرید لیا تھا۔ اس ادارے میں داؤد چاند نے پہلے ایڈیٹنگ کی اور پھر ہدایت کار بن گئے۔ کلکتہ میں انہوں نے ایک فلم ’’سسی پنوں ‘‘ کی ہدایت کاری کی جو بہت کامیاب رہی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس فلم میں صبیحہ کی والدہ اقبال بیگم نے ہیروئن کا کردار ادا کیا تھا۔ بعد میں داؤد چاند نے ان کی بیٹی صبیحہ سے اسی نام کی فلم میں ہیروئن کے طور پر کام لیا۔ یہ دونوں فلمیں کامیاب رہیں۔

دوسری عالمگیر جنگ کے زمانے میں داؤد چاند لاہور آگئے۔ یہاں انہوں نے ’’پرائے بس میں‘‘ کے نام سے فلم بنائی جو بہت کامیاب ہوئی۔ داؤد چاند بہت پرانے اور تجربہ کار ہدایت کار تھے۔ ’’سسی‘‘ کے بعد انہوں نے چاند پروڈکشن کے نام سے ذاتی فلم ساز ادارہ بنا لیا تھا۔ ’’بلبل‘‘ ان کی پہلی فلم تھی اور ہٹ ہو گئی تھی۔

داؤد چاند سادہ دل اور سادہ مزاج آدمی تھے۔ ہم نے انہیں جب بھی دیکھا معمولی سے لباس میں ہی دیکھا۔ کسی قسم کی بڑائی کا اظہار نہیں کرتے تھے۔ اردو ان کی زبان تھی نہ پنجابی۔ مگر انہوں نے دونوں زبانوں میں کامیاب فلمیں بنائیں۔ ان کے بارے میں لطیفے بھی مشہور ہوتے رہتے تھے۔ مثلاً ایک فلم میں مصنف نے مکالمے میں لکھ دیا کہ میں تمہاری اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا۔ داؤد صاحب نے مکالمہ سن کر فوراً دو اینٹیں منگائیں اور جس وقت یہ مکالمہ بولا گیا تو اسکرین پر دو ہاتھ اینٹ پر اینٹ مارتے ہوئے دکھائے گئے۔(جاری ہے)

قسط نمبر 64 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

(علی سفیان آفاقی ایک لیجنڈ صحافی اور کہانی نویس کی حیثیت میں منفرد شہرہ اور مقام رکھتے تھے ۔انہوں نے فلم پروڈیوسر کی حیثیت سے بھی ساٹھ سے زائد مقبول ترین فلمیں بنائیں اور کئی نئے چہروں کو ہیرو اور ہیروئن بنا کر انہیں صف اوّل میں لاکھڑا کیا۔ پاکستان کی فلمی صنعت میں ان کا احترام محض انکی قابلیت کا مرہون منت نہ تھا بلکہ وہ شرافت اور کردار کا نمونہ تھے۔انہیں اپنے عہد کے نامور ادباء اور صحافیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور بہت سے قلمکار انکی تربیت سے اعلا مقام تک پہنچے ۔علی سفیان آفاقی غیر معمولی طور انتھک اور خوش مزاج انسان تھے ۔انکا حافظہ بلا کا تھا۔انہوں نے متعدد ممالک کے سفرنامے لکھ کر رپوتاژ کی انوکھی طرح ڈالی ۔آفاقی صاحب نے اپنی زندگی میں سرگزشت ڈائجسٹ میں کم و بیش پندرہ سال تک فلمی الف لیلہ کے عنوان سے عہد ساز شخصیات کی زندگی کے بھیدوں کو آشکار کیا تھا ۔اس اعتبار سے یہ دنیا کی طویل ترین ہڈ بیتی اور جگ بیتی ہے ۔اس داستان کی خوبی یہ ہے کہ اس میں کہانی سے کہانیاں جنم لیتیں اور ہمارے سامنے اُس دور کی تصویرکشی کرتی ہیں۔ روزنامہ پاکستان آن لائن انکے قلمی اثاثے کو یہاں محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہے)

مزید :

فلمی الف لیلیٰ -