سندھ یونیورسٹی جام شورو کا بے بس شاہکارمجسمہ

سندھ یونیورسٹی جام شورو کا بے بس شاہکارمجسمہ
سندھ یونیورسٹی جام شورو کا بے بس شاہکارمجسمہ

  

مجھے یقین ہوچلا ہے کہ ہم سب بدذوق لوگ ہیں ۔فن کی قدر کرنا نہیں جانتے۔فن سے ثقافت اور علم کا جھرنا پھوٹتا ہے تو فنکار کا سینہ خوشی سے سیراب ہوجاتا ہے۔ سندھ یونیورسٹی کیلئے بنائے گئے ایک خوبصورت مجسمے کو دیکھتا ہوں تو بہت افسوس ہوتا ہے کہ یونیورسٹی طلبا اس کے ساتھ کیسا کھلواڑ کررہے ہیں۔ یہ ایک سال کی سخت محنت کے بعد سندھ یونیورسٹی جام شورو کو ایک نوجوان طالب علم نے تحفہ میں دیا تھا۔ سندھ یونیورسٹی جام شورو میں طلبہ کی پڑھائی کو مدنظر رکھتے ہو نادر علی جمالی نے ایک ایسا مجسمہ بنایاتھا جو یونیورسٹی کی آج بھی زینت بنا ہوا ہے۔ مجسمے کو سابق وائس چانسلر مرحومہ عابدہ طاہرانی کی فرمائش پہ نادر جمالی نے تیار کیاتھا اور اس مجسمے کو درختوں کا بڑا حصہ کاٹ کرسینٹرل لائبریری کے سامنے رکھا گیا۔

اس روز میں نے ایم فل کے پیپر دینے کیلئے سندھ یونیورسٹی کا رخ کیا تو نگاہ اس مجسمے پر پڑی تو دل خوش ہوگیا کہ کتنا پُرمعنی مجسمہ بنایا گیا ۔مجسمہ ساز نے اس میں پڑھائی کا انہماک دکھا کر پیغام دیا ہے کہ مادر علمی میں آنا ہے تو پڑھائی پر توجہ دو ۔میں قریب گیا ۔دیکھا کہ مجسمہ دھول مٹی سے اٹا ہوا ہے۔ میں نے ے رومال کے ساتھ اسکو صاف کیا اورمیں نے اس مجسمے کو پیٹھ دینا بھی گوارا نہ کیا۔یہ فن کا لاجواب شاہکار ہے۔ اگلیروز میں یہ دیکھ کے حیران ہوا کہ سندھ یونیورسٹی کے کچھ منچلوں نے اس مجسمے کوتفریح بنا رکھا ہے۔انکی نظر میں یہ کوئی جھولا تھا ۔ ایک نوجوان طالب علم مجسمے کو سگریٹ کے کش لگوا رہا تھا۔جبکہ دوسرا طالب علم اس مجسمے پہ گھوڑے کی طرح سوار ہو گیا تھا

شاید اس طالب علم کو گھوڑوں پہ بیٹھنے کا بہت شوق تھا جبکہ دوسرا طالب علم اس کا ناک صاف کر رہاتھا۔ شایداسکو اپنی گندی ناک اس کو نظر نہ آ رہی تھی۔ ایک اور منچلہ مجسمے کے ہاتھوں میں رکھی کتاب میں استراحت فرما رہا تھا ،شاید اس کو ہاسٹل میں آرام کرنے کیلئے یہی جگہ ملی تھی۔ مجھے گمان ہے کہ

سندھ یونیورسٹی کے طلباروزانہ اس مجسمہ کو کھیل کا ذریعہ بناتے ہیں اور انتظامیہ یہ دیکھ کر خاموش ہے۔ حیرانی اس بات پر ہے کہ اس شاہکار کو یونیورسٹی میں ایستادہ کرنے کے لئے جو تگ و دو کی گئی ،اس کا کیا ہوا؟

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -