کیا آپ کو معلوم ہے آپ کو کبھی بھی اپنے کوٹ کا سب سے نیچے والا بٹن بند نہیں کرنا چاہیے؟ ایسا کیوں ہے؟ وجہ ایسی کہ کوئی سوچ بھی نہ سکتا تھا

کیا آپ کو معلوم ہے آپ کو کبھی بھی اپنے کوٹ کا سب سے نیچے والا بٹن بند نہیں کرنا ...
کیا آپ کو معلوم ہے آپ کو کبھی بھی اپنے کوٹ کا سب سے نیچے والا بٹن بند نہیں کرنا چاہیے؟ ایسا کیوں ہے؟ وجہ ایسی کہ کوئی سوچ بھی نہ سکتا تھا

  

لندن (نیوز ڈیسک) اگر آپ کے کوٹ پر تین بٹن ہیں تو ”کبھی کبھار، ہمیشہ، کبھی نہیں“ کا اصول آپ کو ضرور معلوم ہونا چاہئیے، جس کا مطلب ہے کہ اوپر والے بٹن کو کبھی کبھار بند کیا جاسکتا ہے، درمیان والے بٹن کو ہمیشہ بند کرنا چاہیے اور آخر والے بٹن کو کبھی بھی بند نہیں کرنا چاہیے۔ اب بھلا آخری بٹن کے بارے میں ایسا اصول کیوں وضع کیا گیا؟ اس کا جواب آپ کو بیسویں صدی کے اوائل کی برطانوی تاریخ سے مل سکتا ہے، جو کہ بادشاہ ایڈورڈ ہفتم کا دور تھا۔

’کسی کو بھی سزائے موت نہیں دی جانی چاہیے کیونکہ میں نے دیکھا ہے کہ۔۔۔‘ 62 لوگوں کو سزائے موت دینے والے جلاد نے بالآخر ایسی بات کہہ دی کہ جان کر آپ بھی کانپ اٹھیں گے

بزنس انسائیڈر کی رپورٹ کے مطابق ایڈورڈ ہفتم کے دور میں مغربی طرز کا سوٹ تیزی سے مقبول ہونے لگا۔ بدقسمتی سے ان دنوں بادشاہ سلامت کا وزن بھی تیزی سے بڑھ رہا تھا۔ وہ جب بھی کوٹ زیب تن کرتے تو اپنی بڑھی ہوئی توند کی وجہ سے اکثر کوٹ کا نیچے والا بٹن کھلا چھوڑنا پڑتا تھا۔ ان کی تعظیم کیلئے درباریوں نے بھی نچلا بٹن کھلا چھوڑنا شروع کردیا۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ حکمرانوں کے انداز و اطوار عوام کو بہت متاثر کرتے ہیں۔ جلد ہی بادشاہ اور وزراءکا یہ انداز برطانوی معاشرے کے معززین، کاروباری طبقات اور پھر عام لوگوں میں بھی مقبول ہوگیا۔

تو جناب، اگر آپ بھی برطانوی فیشن کے مطابق کوٹ پہننا چاہتے ہیں تو اس کا نچلا بٹن ہمیشہ کھلا رکھئے، اور ساتھ اس بات کا لطف اٹھائیے کہ اس فیشن کا آغاز بادشاہ ایڈورڈ ہفتم کی موٹی توند کی وجہ سے ہوا۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -