اب عرب ملک سے پیسے اپنے وطن بھیجنے پر زیادہ خرچہ آئے گا کیونکہ۔۔۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کیلئے تشویشناک خبر آگئی

اب عرب ملک سے پیسے اپنے وطن بھیجنے پر زیادہ خرچہ آئے گا کیونکہ۔۔۔ بیرون ملک ...
اب عرب ملک سے پیسے اپنے وطن بھیجنے پر زیادہ خرچہ آئے گا کیونکہ۔۔۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کیلئے تشویشناک خبر آگئی

  

دبئی سٹی (مانیٹرنگ ڈیسک)متحدہ عرب امارات میں محنت مزدوری کرنے والوں کے لئے حالات پہلے بھی قابل رشک نہیں تھے مگر اب ان کے اخراجات میں ایک اور تشویشناک اضافہ ہو گیا ہے۔ خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق 1000 درہم سے کم رقم بھیجنے والوں کی فیس میں ایک درہم کا اضافہ کرتے ہوئے اسے 16 درہم کردیا گیا ہے، جبکہ 1000 درہم سے زائد رقم بھیجنے والوں کیلئے یہ فیس 20 درہم سے بڑھا کر 22 درہم کردی گئی ہے۔

فارن ایکسچینج اینڈ ریمیٹنز گروپ کے خزانچی راجیو پنچولیا نے بتایا کہ فیسوں میں یہ اضافہ ایکسچینج کمپنیوں کے بڑھتے ہوئے اخراجات کی وجہ سے کیاگیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ 5 اپریل سے نافذ العمل ہوچکا ہے۔ انڈسٹری ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ کچھ بڑے ایکسچینج ہاﺅسز نے اپنے طور پر کیا ہے۔

’اب اگر کفیل نے غیر ملکی ملازمین کو آتے ساتھ ہی یہ چیز نہ دی تو بھاری جرمانہ کریں گے‘ سعودی حکومت نے بڑا اعلان کردیا، غیرملکیوں کو خوش کردیا

متحدہ عرب امارات میں کام کرنے والے غیر ملکی سالانہ تقریباً 20ارب ڈالر (تقریباً 20کھرب پاکستانی) سے زائد رقوم اپنے ممالک کو بھیجتے ہیں۔ ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات بیرون ملک رقوم کے تبادلے کی عالمی فہرست میں چوتھے نمبر پر ہے۔ اس کے جی ڈی پی کا تقریباً 4.8 فیصد غیرملکیوں کی آمدنی کی صورت میں ان کے ممالک کو منتقل ہوتا ہے۔

اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ترسیل زر کی فیس میں اضافے سے کم آمدنی والے محنت کش سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ بڑھتی ہوئی فیسوں کے پیش نظر وہ بروقت رقم اپنے وطن بھیجنے میں مشکلات کا سامنا کریں گے، جبکہ رقم بھیجنے کے دوران وقفے بھی طویل ہوتے جائیں گے۔

مزید :

عرب دنیا -