زرعی ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل ہمارا مشن ہے،محمد محمود

زرعی ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل ہمارا مشن ہے،محمد محمود

لاہور (کامرس رپورٹر)محمد محمود،سیکرٹری زراعت پنجاب نے شعبہ زراعت توسیع و اڈاپٹیو ریسرچ کی تیسری سہ ماہی کارکردگی کے منعقدہ جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ تمام شعبہ جات کے ہیڈز اپنے دفاتر کی کارکردگی کو مانیٹر کریں تاکہ کسانوں کو درپیش مسائل کو بہتر انداز میں حل کیا جا سکے۔ یہ جائزہ اجلاس زراعت ہاؤس لاہور میں منعقد ہوا جس میں ڈاکٹر غضنفر علی خان ایڈیشنل سیکرٹری زراعت (پلاننگ) ، سید ظفر یاب حیدر ڈائریکٹر جنرل زراعت (توسیع)، ڈائریکٹر اڈایپٹو ریسرچ سمیت شعبہ کے ڈپٹی ڈائریکٹرز ، اسسٹنٹ ڈائریکٹرزو افسران نے شرکت کی۔ اس موقع پر سیکرٹری زراعت پنجاب کو پچھلی سہ ماہی کارکردگی کے متعلق بریفنگ بھی دی گئی۔ سیکرٹری زراعت نے کہا کہ اڈاپٹیو ریسرچ فارمز پر ہائی ویلیو کراپس کی کاشت کو فروغ دیا جائے اور ان زرعی ریسرچ کی غرض سے قائم فارمز کی حالت زار میں بہتری لائی جائے۔محکمہ زراعت (توسیع )کے تمام افسران و عملہ مقرر کردہ سٹینڈرڈز، گائیڈ لائنز پر من و عن عمل کریں تاکہ محکمہ کی کارکردگی میں مزید بہتری لائی جاسکے اورمطلوبہ اہداف کے حصول کو یقینی بنایا جائے۔سیکرٹری زراعت پنجاب نے شعبہ کی غیر تسلی بخش کارکردگی پر برہمی کا اظہار کیا اور متعلقہ افسران کو اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی ہدایت کی۔ سیکرٹری زراعت نے مزید کہا کہ پیسٹی سائیڈز یا فرٹیلائزر کی سیمپلنگ دئیے گئے اہداف اور طریقہ کے مطابق کی جائے۔انہوں نے مزید کہا زرعی ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل ہمارا مشن ہے۔ زرعی شعبہ کے تحت مقرر کردہ اہداف حاصل کیے بغیر معاشی ترقی ممکن نہیں۔ کسان دوست منصوبوں کی مقررہ مدت میں تکمیل ہماری ذمہ داری اور اولین ترجیح ہے اس سلسلہ میں کسی قسم کی سستی یا کوتاہی قابل برداشت نہیں۔ محکمہ زراعت کے تحت جاری پنجاب حکومت کے کسان دوست منصوبوں کے ثمرات نہایت شفاف انداز میں کاشتکاروں کی دہلیز تک پہنچائیں۔ سرکاری فارمز کو ماڈل سیڈ فارمز میں تبدیل کرنے کیلئے درکار فنڈز مہیا کردئیے گئے ہیں اب زراعت(توسیع) کے افسران ان ماڈل فارمز کو کسانوں کیلئے رول ماڈل بنا کر پیش کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ ملکی زراعت کا مستقبل ہائی ویلیو ایگریکلچر خصوصاً تیلدار اجناس، سبزیوں اور پھلوں کی پیداوار سے منسلک ہے لہذا زراعت( توسیع) کے کارکنان کاشتکاروں کو ہائی ویلیو ایگریکلچرکی کاشت کی ترغیب دیں تاکہ کاشتکار بھرپور منافع کما سکے۔سیکرٹری زراعت نے مزید کہا کہ محکمہ زراعت (توسیع)کاشتکاروں تک جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کو یقینی بنائے،اس ضمن میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

مزید : کامرس