مسٹر جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر دو بار فائرنگ، سیف سٹی پروگرام کا جواز سوالیہ نشان؟

مسٹر جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر دو بار فائرنگ، سیف سٹی پروگرام کا جواز سوالیہ ...

بارش والی مغربی ہواؤں کی آمد کے باعث پنجاب اور خیبر پختون خوا کا موسم بہتر ہوگیا، سورج کی تپش سے پیدا ہونے والی حدت میں کمی ہوئی اور ہوا بھی ٹھنڈی ہوگئی، موسم کی اس مہربانی کو لاہور والوں نے نعمت جانا اور اتوار کو تفریح گاہوں خصوصاً پارکوں کا رخ کیا، گریٹر اقبال پارک، باغ جناح،جیلانی پارک، گلش اقبال اور ماڈل ٹاؤن پارک میں بھی رونق تھی، اچانک یہ سب سنسنی میں تبدیل ہوگیا، جب یہ خبر چلی کہ سپریم کورٹ کے فاضل جج مسٹر جسٹس اعجازالاحسن کی رہائش گاہ پر دو بار فائرنگ ہوئی ہے، جلد ہی اس خبر نے نہ صرف پورے شہر بلکہ الیکٹرونک میڈیا کی بدولت پورے ملک کو اپنی گرفت میں لے لیا کہ مسٹر جسٹس اعجازالاحسن پاناما کیس سے اب تک اہم مقدمات والی بنچوں میں شامل رہے اور وہ شریف خاندان کے خلاف ریفرنسوں میں نگران جج بھی ہیں، یہ اطلاع میڈیا کے علاوہ عدلیہ اور سیاسی جماعتوں میں بھی دُکھ کا باعث بنی، چیف جسٹس موقع پر پہنچ گئے، انسپکٹر جنرل پولیس کو طلب کیا تو وہ بھی آ گئے، جرائم سے متعلق دیگر حکام اور آلات بھی طلب کر لئے گئے اور ہنگامی سی صورت حال پیدا ہو گئی، اور یہ موضوع ہی گفتگو کا موضوع بن گیا۔

اب تک کی اطلاعات کے مطابق اس واقع کی تفتیش کے لئے ایک بڑی اعلیٰ سطحی جے آئی ٹی بن چکی جس نے اپنا کام بھی شروع کردیا، ابھی تک کسی اہم سراغ کی اطلاع نہیں، موقع سے ملنے والے خول 9 ایم ایم پستول کے بتائے گئے ہیں، ہم اپنی رائے نہیں دیتے کہ اب اعلیٰ سطح پر تفتیش شروع ہے، نتیجے کا انتظار ہوگا تاہم ایک امر کی طرف ضرور توجہ دلائیں گے کہ کرائمز پر قابو پانے ہی کے لئے کئی ارب روپے سے لاہور سیف سٹی پروگرام شروع کیا گیا، انتظامیہ کے بقول آٹھ ہزار کیمرے لگا دیئے گئے ہیں جو کام کر رہے ہیں اور اسی پہلے مرحلے کا وزیراعلیٰ پنجاب نے افتتاح بھی کیا تھا، اس منصوبے کا مقصد جرائم کے ارتکاب کو روکنا ہے کہ یہ شہر میں گشت کرنے والی پولیس کی خصوصی ٹیموں (ڈولفن، ایلیٹ، پی آر یو وغیرہ) کو اس سے منسلک کیا جاتا ہے کہ کنٹرول روم میں جس مقام پر بھی واردات ہوتی نظر آئے اس علاقے میں گشت کرنے والی فورس کو اطلاع دے دی جائے جو موقع پر پہنچ کر حالات سنبھالے اور ملزموں کو گرفتار کرے، معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ افتتاح تو ہو گیا لیکن ابھی نظام مکمل نہیں ہوا اور اسے جرائم پر قابو پانے کی بجائے ٹریفک پولیس کی آمدن کا ذریعہ بنا لیا گیا اور ای ٹکٹنگ (چالان) کے لئے ’’ویٹس اپ‘‘ بنالی گئی ہے، اطلاعات کے مطابق جس مرحلے کا افتتاح ہوا تھا وہ بھی پوری طرح کام نہیں کر رہا، توسیع بھی کھوہ کھاتے میں چلی گئی ہے، اب یہ جدید نظام محض سی سی ٹی وی فوٹیج والا رہ گیا ہے کہ جرم کے بعد متعلقہ حصے میں سیف سٹی کے کیمرے نصب ہوں تو ان کی مدد سے ملزموں کا سراغ لگایا جائے، اس کیس میں بھی یہی ہورہا ہے اور ابھی تک کسی کامیابی کی اطلاع نہیں اور نہ ہی کسی چینل نے سب سے پہلے وہ فوٹیج حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے، یہ سوال بہر حال پوچھا جائے گا کہ سیف سٹی پروگرام کی اب تک کی کارکردگی سے آگاہ کیا جائے۔

لوڈشیڈنگ بہت بڑا مسئلہ ہے جو سابقہ حکومت کی سیاسی ہزیمت کا باعث تھا، موجودہ حکومت نے بڑے بلند بانگ دعوے کئے لیکن گرمی آتے ہی صورت حال خراب ہوگئی اور ملک بری طرح لوڈشیڈنگ کا شکار ہوگیا ہے، دعوے کئے گئے لیکن کسی نے موسمی تغیرات اور دریاؤں میں پانی کی کمی کا اندازہ نہیں لگایا تھا، زور بجلی کی پیداوار کے منصوبوں پر تھا، جو اب ڈھول کا پول ثابت ہو رہے ہیں،وزرا دعویٰ کرتے ہیں۔ لوڈشیڈنگ ختم اور اسی موسم میں بجلی نے برا حال کر دیا جو خاموشی سے قریباً پونے تین روپے فی یونٹ مہنگی بھی کردی گئی اور اب جو بل موصول ہوں گے ان سے صارفین کو یہ بوجھ بھی برداشت کرنا ہوگا۔

دوسری طرف مہنگائی نے برا حال کر دیا ہے، سبزیاں، دالیں، گوشت ،دودھ دہی اور پھل پہنچ سے باہر ہو چکے، گوشت،( بکرے کا) ایک ہزار روپے فی کلو تک پہنچ گیا، سیزن کی سبزیاں بھی سستی نہیں ہورہیں، کریلے اب تک 80 روپے فی کلو بک رہے ہیں، فوڈ اتھارٹی کی بہترین کوشش کے باوجود ملاوٹ والی اور خراب اشیا خوردنی کی فروخت بند نہیں ہوئی، عوام پریشان ہیں، اور سیاست میں گرما گرمی کے باعث حکام حکمران اور سیاسی جماعتیں ادھر توجہ ہی نہیں دے رہیں۔

مزید : ایڈیشن 1