عام انتخابات کا پرامن انعقاد، الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری

عام انتخابات کا پرامن انعقاد، الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری

یوں تو ملک بھر کی طرح سندھ میں بھی انتخابی مہم سال بھر سے زیادہ عرصے سے جاری ہے۔ عمران خان کی طرح آصف علی زرداری نے بھی یہ دعویٰ کر رکھا تھا کہ وہ نوازشریف کو وزیراعظم نہ رہنے دیں گے اور نہ ہی سینیٹ کی چیئرمین شپ لینے دیں گے اور نہ ہی ان کی حکومت کی مدت پوری ہونے دیں گے۔ عمران خان اور آصف علی زرداری کے دو دعوے تو درست ثابت ہوئے ہیں، تیسرا دعویٰ سچ ثابت کرنے کے لئے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو قائل کرنے کی کوشش تو بڑی کی کہ وہ مدت پوری ہونے سے ایک روز قبل یعنی 31 مئی کی بجائے 30 مئی کو اسمبلی توڑنے کی سفارش کر دیں۔ وزیراعظم نے یہ کہہ کر تجویز رد کر دی کہ وہ 31 مئی تک قومی اسمبلی کا اجلاس جاری رکھیں گے تاہم پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف اب بھی مدت پوری نہ ہونے کی آس لگائے بیٹھی ہیں اور توقع کرتی ہیں کہ کوئی آسمانی یا زمینی ’’غیبی کمک‘‘ ان کے تیسرے دعویٰ کو بھی سچ ثابت کر دے گی۔

سنجیدہ حلقوں میں اضطراب اور تشویش کا سبب لاہور میں سپریم کورٹ کے جج جناب جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائش پر رات کی تاریکی اور دن کی روشنی میں نامعلوم دہشت گردوں کی فائرنگ کا واقعہ ہے(اگر یہ حملہ ہے؟) جس کے اصل مجرموں کو قانون کی گرفت میں لے کر قانون کی عدالت کے سامنے پیش کرنے میں تاخیر ہوئی تو انتخابات کا بروقت انعقاد تو کیا، سرے سے پرامن ماحول میں صاف شفاف آزادانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات پر ہی سوالیہ نشان لگ جائے گا۔ طویل انتخابی مہم اور کسی ثبوت کے بغیر دشنام طرازی پر مبنی الزامات کے ہولناک نتائج یہ قوم 1970ء کے انتخابات اور بعد ازاں سانحہ سقوط مشرقی پاکستان کی شکل میں بھگت چکی ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ ہماری سیاسی جماعتیں انتخابی مہم کو دشنام طرازی کے بجائے اپنی اپنی حکومت کی کارکردگی کو بنیاد بنائیں اور مستقبل کے لئے قابل عمل منشور دیں جو خلق خدا کی مشکلات و مصائب کو کم کرنے کا ذریعہ بنے۔ اس وقت انتخابی میدان میں کودنے والی تمام بڑی جماعتیں یا صوبوں اور مرکز میں ان کی حلیف جماعتیں اقتدار میں موجود ہیں، ساری سیاسی جماعتوں پر لازم ہے کہ وہ جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائش پر ہونے والی فائرنگ کو نہایت سنجیدگی سے لیں، اس کے مجرموں کو اور پشت پناہ اور سہولت کاروں کو بھی کیفر کردار تک پہنچانے کو قومی فریضہ کے طور پر ادا کریں۔ اس کو کسی فریق نے بھی سیاسی یا گروہی مفادات کے لئے پوائنٹ اسکورنگ کے لئے استعمال کیا تو اس سے ہماری قومی یکجہتی اور قومی سلامتی کی دشمن قوتیں فائدہ اٹھانے میں دیر نہیں لگائیں گی۔ آزادانہ، غیر جانبدارانہ صاف شفاف منصفانہ انتخابات کے بروقت انعقاد کے لئے بنیادی شرط داخلی طور پر پرامن ماحول اور امن و امان کی اطمینان بخش فضاء کو برقرار رکھنا لازم ہے جو حکومت اور حزب اختلاف کی تمام جماعتوں سمیت قانون نافذ کرنے والے تمام اداروں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی شرپسند گروہ کو وہ کھیل نہ کھیلنے دیں،جو لاہور میں جناب جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائش گاہ پر فائرنگ کرکے کھیلنے کی کوشش کی گئی ہے۔ عدالتی فیصلے پسند ہوں یا ناپسند، وہ صادر ہوتے ہی نافذ ہو جاتے ہیں۔ نااہلی کیس میں وہ نافذ ہو چکے ہیں۔ اس لئے میاں نواز شریف کے سیاسی مخالفوں کو اس مذموم اور ناقابل برداشت واقعہ کو ’’بلیم گیم‘‘ کے لئے استعمال کرنے سے احتراز کرکے اصل اور حقیقی مجرموں کو قانون کی گرفت میں لانے کے مشترکہ مطالبہ کی تائید و حمایت کرنے پر اتفاق رائے کرنا چاہئے۔

ہمیں اپنے پڑوسی ملک بھارت کی طرح اجتماعی طور پر بہ حیثیت قوم ’’خوشی و غمی‘‘ کے تہوار اکٹھے منانے کا سلیقہ سیکھ ہی لینا چاہئے۔ اس کے بغیر ہماری مشکلات و مصائب کم یا ختم ہونے کا کوئی دوسرا راستہ رہ نہیں گیا، پرامن ماحول میں کھیل کے سارے کھلاڑیوں کے لئے یکساں ہموار میدان فراہم کرنے کی آئینی ذمہ داری الیکشن کمیشن کو تفویض کی گئی ہے۔ آئین نگران حکومت سمیت تمام ریاستی اداروں کو اس سلسلے میں الیکشن کمیشن کی مدد اور تعاون کا پابند بناتا ہے۔ اللہ کرے اس بار الیکشن کمیشن اپنی آئینی ذمہ داری آئین کی منشا اور اس کی روح کے مطابق ادا کرنے میں کامیاب ہو سکے، کیونکہ اب الیکشن کمیشن کے پاس آئینی اختیارات بھی ہیں اور اس کا انتخاب 18 ویں آئینی ترمیم میں طے کردہ طریقہ کار کے مطابق عمل میں بھی آیا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ بروقت انتخابات کے انعقاد پر تمام جماعتوں کا بھی اتفاق ہے اور سپریم کورٹ کے عزت مآب چیف جسٹس جناب جسٹس ثاقب نثار بروقت انتخاب کے انعقاد کو آئین کی لازمی شرط بھی قرار دے چکے ہیں۔

سندھ میں انتخابی مہم کے حوالہ سے اہم بات یہ ہے کہ تحریک انصاف کے عمران خان، ایم ایم اے کے صدر اور جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کے بعد اب مسلم لیگ (ن) کے صدر اور پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں محمد شہبازشریف بھی انتخابی مہم چلانے آئے ہیں۔ پنجاب کے صوبائی وزیر رانا مشہود اور سینیٹر سلیم ضیاء پہلے سے یہاں موجود تھے۔ میاں شہباز شریف کے پروگرام کو حتمی شکل دینے میں کلیدی کردار گورنر سندھ محمد زبیر کا رہا ہے تاہم یہ بحث اپنی جگہ موجود ہے کہ وہ اپنے حلف کی رو سے سیاسی جماعت کے نہیں، وفاق کے نمائندے ہیں۔ صدر ممنون حسین کی طرح ان کے لئے بھی مناسب طرز عمل اپنے آپ کو جماعتی سیاست سے بالاتر رکھنے میں ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہبازشریف کا دورہ کراچی شیڈول کے مطابق تو دو روزہ تھا مگر ان کی تائی کے انتقال کے باعث ایک روزہ رہ گیا تھا۔ انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے صدر کی حیثیت سے بانی پاکستان قائداعظمؒ کے مزار کے احاطے میں مدفون تحریک پاکستان کے دیگر اکابرین کے مزاروں پر بھی فاتحہ خوانی اور پھولوں کی چادریں چڑھائیں اور گورنر ہاؤس میں سندھ مسلم لیگ اور کراچی مسلم لیگ کے تنظیمی عہدے داروں سے ملاقات کی۔ ساتھ ہی وکلاء تاجروں کے وفود اور کچھ سینئر صحافیوں کے گروپ سے ملاقات اور تبادلہ خیال کیا۔ صحافیوں سے ملاقات میں میاں شہبازشریف کی طرف سے ’’مکالمہ‘‘ کے ذریعہ مسائل کو مل جل کرحل کرنے کا موقف سامنے آیا ہے، جس کی تفصیل اجلاس میں موجود روزنامہ ’’پاکستان‘‘ کے کالم نگار اور ’’ڈان نیوز‘‘ سے وابستہ ملک کے معروف صحافی جناب علی حسن منگل کی اشاعت میں اپنے کالم میں پیش کر چکے ہیں۔ میاں شہبازشریف سے ملاقات کرنے والوں میں تاجر برادری اور صنعتکاروں کی اہم شخصیات بھی شامل تھیں۔ سب سے اہم شخصیت تو ایس ایم منیر کی تھی جن کا گروپ ملک بھر کے تاجروں اور صنعت کاروں کی نمائندگی کرنے والے ادارے وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت (فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری) میں برسراقتدار ہے۔ صنعت کاروں اور تاجروں کے اجلاس میں اہم کردار روزنامہ جنگ کے معاشی امور پر کالم نگار اور ملک کے معروف صنعتکار مرزا اشتیاق بیگ نے ادا کیا ہے۔ میاں شہبازشریف کے اعزاز میں گورنر ہاؤس میں ظہرانہ کا اہتمام بھی اشتیاق بیگ کی طرف سے تھا جس میں خاصی تعداد میں تاجر، صنعتکار موجود تھے۔

میاں شہبازشریف نے مقامی ہوٹل کے ایک بڑے آڈیٹوریم میں مسلم لیگ (ن) ورکرز کنونشن سے بھی خطاب کیا جس میں موجودہ حالات میں اتنی بڑی تعداد میں کراچی سے تعلق رکھنے والے کارکنوں کا جمع ہو جانا مسلم لیگ (ن) کے ذمہ داروں کے لئے بھی توقع سے کہیں زیادہ تھا۔ اس کا سہرا مقامی مسلم لیگی سندھ مسلم لیگ (ن) کے جنرل سیکرٹری شاہ محمد شاہ کے سر باندھ رہے ہیں۔ ورکرز کنونشن سے پہلے میاں شہباز شریف سے میئر کراچی وسیم اختر جن کا تعلق ایم کیو ایم (بہادر آباد) سے ہے اور ایم کیو ایم (پی آئی بی کالونی) کے دھڑے کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار اور اے این پی سندھ کے صدر شاہی سید نے گورنر ہاؤس میں الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ مسلم لیگ (ن) سندھ کے جنرل سیکرٹری شاہ محمد شاہ نے اس نامہ نگار کو بتایا کہ ہم سندھ میں ون پوائنٹ ایجنڈے پر جس میں بروقت صاف شفاف آزادانہ غیر جانبدارانہ انتخاب کا انعقاد ہے۔ ایم ایم اے اور دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا قابل عمل فارمولہ بنانے کی کوشش میں کامیاب ہو جائیں گے تو سندھ میں بھی پیپلزپارٹی کو پہلی بار دنیا الیکشن لڑتا دیکھے گی۔ اے این پی کے شاہی سید بھی ہمارے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے فارمولے پر متفق ہیں۔ ایم ایم اے سے بھی جلد مذاکرات ہوں گے۔ دیکھئے شاہ محمد شاہ اپنی کوشش میں کتنے کامیاب ہوتے ہیں، سردست تو مسلم لیگ(ن) کو سندھ میں کسی باقاعدہ تنظیم کے نہ ہونے کا مسئلہ درپیش ہے جو عہدے دار ہیں وہ باہم دست و گریبان نہ سہی ایک دوسرے سے ناراض ناراض تو ہیں جس کا مشاہدہ میاں شہبازشریف کے دورہ کراچی کے موقع پر بھی ہوا، اگرچہ مسلم لیگ (ن) کراچی کے سیکرٹری اطلاعات نوجوان دانشور ناصر الدین محمود نے اس نامہ نگار کو بتایاکہ سینیٹر مشاہد اللہ خان جب سے مسلم لیگ (ن) کے معاملات کے انچارج بنائے گئے ہیں ان کی کوششوں سے کراچی کی حد تک دھڑے بندی ختم ہو چکی ہے تاہم انتخابی سیاست کے لئے جس طرح تنظیمی نیٹ ورک کی ضرورت ہے اس کے فقدان سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کراچی کے سیکرٹری اطلاعات ناصر الدین محمود سے جب میڈیا کے لوگوں نے میاں شہبازشریف کے دورہ سے ایک دن قبل پروگرام کی تفصیل جاننے کے لئے رابطہ کیا تو ان کو یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ وہ گورنر ہاؤس میں ہونے والے عہدے داروں کے اجلاس میں مدعو کئے جائیں گے یا نہیں کیونکہ گورنر ہاؤس میں ہونے والے کسی اجلاس میں گورنر کی اجازت کی شرط لازمی ہے تاہم ناصر الدین محمود یا شاہ محمد شاہ یا سینیٹر مشاہد اللہ خان میاں شہبازشریف کے ساتھ آئے تھے۔ سینیٹر مشاہد حسین سید، سینیٹر سلیم ضیاء اور پنجاب میں مسلم لیگ کے صوبائی وزیر رانا مشہود بھی میاں شہبازشریف کے دورہ کراچی میں موجود تھے مگر ان کا اس دورہ میں کوئی رول نظر نہیں آ رہا تھا۔ ایم کیو ایم کے ٹکٹ پر سینیٹ کے رکن رہنے والے مولانا تنویر الحق تھانوی کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کر لی ہے۔ شاہ محمد شاہ نے کہا ہے کہ میاں شہباز شریف مئی کے پہلے ہفتے میں حیدر آباد اور سکھر ڈویژن میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرنے آنے والے ہیں اور مئی کے دوسرے ہفتے میں عوامی جلسوں سے خطاب کے ذریعہ سندھ میں انتخابی مہم کا اعلان کریں گے۔

مزید : ایڈیشن 1