نگران وزیراعظم کون، مشاورت کا سلسلہ جاری، فیصلہ ہو جائے گا

نگران وزیراعظم کون، مشاورت کا سلسلہ جاری، فیصلہ ہو جائے گا

موجودہ اسمبلیاں اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت اپنی مدت اقتدار پوری کرنے جارہی ہیں ،نگران حکومت کے قیام کے لئے صلاح مشورے جاری ہیں گزشتہ دنوں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور قائد حزب اختلاف سید خورشیدشاہ کے مابین بھی میٹنگ ہوئی،جبکہ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے بھی اس حوالے سے رابطے جاری ہیں تحریک انصاف نے تو نگران وزیراعظم کے لئے تین نام بھی فائنل کر لئے ہیں عبدالرزاق داؤد، تصدق حسین جیلانی اور عشرت حسین کے ناموں پر اتفاق کیا گیا ہے، ،پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی خورشید شاہ سے ملاقات میں تینوں نام پیش کریں گے۔ اپوزیشن کی جانب سے نگرن وزیراعظم کے لئے نام فائنل کئے جانے کے بعد خورشیدشاہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کریں گے اور باہمی مشاورت سے نگران وزیراعظم کا فیصلہ کیا جائے گا، آنے والے چند روز تک نگران وزیراعظم کا نام طے ہو جائے گا اور اگر حکومت اور اپوزیشن باہم مل کر فیصلہ نہ کر پائے تو معاملہ الیکشن کمیشن میں بھی جا سکتا ہے، لیکن زیادہ ترامکان یہی ہے کہ نگران وزیراعظم کا معاملہ خوش اسلوبی حل ہو جائے گا۔

گزشتہ جمعہ کے روز سپریم کورٹ نے ایک انتہائی اہم کیس کا فیصلہ جو کچھ عرصہ قبل محفوظ کیا گیا تھا سنا دیا، جس کے مطابق مسلم لیگ (ن)کے قائد و سابق وزیراعظم نواز شریف اور تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کی نااہلی کی مدت کا تعین کرتے ہوئے انہیں تاحیات نااہل قرار دے دیا گیا، جس پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا مسلم لیگ(ن) کے حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل ظاہر کیا اور فیصلے کو پہلے سے طے شدہ قرار دیا گیا،جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے اسے آئین و قانون کی حکمرانی قرار دیتے ہوئے سراہا اوریہ بھی کہا گیا کہ پہلی بار طاقتور لوگوں پر آئین وقانون کا اطلاق کیا گیا،وزیر مملکت اطلاعات، نشریات مریم اورنگزیب نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو ہوئے سپریم کورٹ کی جانب سے نواز شریف کی تاحیات نااہلی کے فیصلے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اہلیت اور نااہلیت کا فیصلہ پاکستان کے عوام کریں گے ،اس فیصلے کے بعد محمد نواز شریف کی سیاست کا ایک اور دور شروع ہوا ہے، پہلے وزارت عظمیٰ سے نااہل پھر پارٹی صدارت سے ہٹانا اور سینیٹ الیکشن سے روکنے کے بعد تاحیات نااہل کرنے کا فیصلہ عوام کے فیصلوں کو تبدیل نہیں کر سکتا، منتخب وزیراعظم کو پہلے نااہل کیا جاتا ہے اور ٹرائل بعد میں ہوتا ہے، آج سپریم کورٹ کے فیصلہ کا ٹرائل احتساب عدالت میں جاری ہے،ایسے ہی فیصلوں سے شہید بھٹو کو پھانسی چڑھایا گیا اور محترمہ بے نظیر بھٹو کو شہید کیا گیا تھا، آج ایک بار پھر پاکستان کے تیسری دفعہ منتخب وزیراعظم کو تاحیات نااہل کیا گیا ہے،یہ وہی مذاق ہے جو پاکستان میں 17 وزیراعظم8 کے ساتھ مختلف ادوار میں مختلف طریقوں سے ہوتا آیا ہے، یہ وہی فیصلہ ہے جو علی بابا اور 40چوروں نے نامکمل دستاویزات کے ذریعے جے آئی ٹی رپورٹ میں پیش کیا، وہ شخص جس نے ملک کا آئین توڑ کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا وہ آج بھی ملک سے باہر ہے ‘ آئین توڑنے پر کسی قسم کا ازخود نوٹس نہیں لیا گیا ، جب کچھ نہیں ملتا تو نظریہ ضرورت کا سہارا لیا جاتا ہے،لیکن اس وقت نظریہ ضرورت صرف پاکستان کے عوام استعمال کریں گے اور وہ ہے ووٹ کو عزت دو،پاکستان مسلم لیگ (ن) اور بالخصوص محمد نواز شریف نے ہمیشہ عدلیہ کی عزت و وقار، پاکستان میں آئین اور قانون کی بالادستی کی بات کی ہے، فیصلہ اور فیصلے پر ردعمل پاکستان کے عوام اور نواز شریف کا حق ہے ‘پاکستان کے آئینی ادارے ہم سب کے لئے قابل عزت ہیں،ہم سب کو پاکستان کے آئینی اداروں کی عزت کرنی چاہئے۔

ایک طرف نوازشریف تاحیات نااہل ہو گئے تو دوسری جانب احتساب عدالت میں ایون فیلڈ ریفرنس نیلسن اینڈ نیسکول سے متعلق کیس کی سماعت گزشتہ پیر کو ہوئی نیب عدالت نے دستاویزات کے حصول کے لئے بی وی آئی حکام کو جے آئی ٹی کی جانب سے لکھے گئے خطوط کی نقول طلب کر لیں، واجد ضیا کو خطوط کے جواب بھی ہمراہ لانے کی ہدایت کی گئی، خرابی موسم کی وجہ سے نواز شریف اور مریم نواز لاہور سے اسلام آباد نہ آ سکے،عدالت نے باپ بیٹی کی ایک دن کی عدالت سے حاضری کے استثنیٰ کی درخواست منظور کر لی، تاہم کیپٹن صفدر عدالت میں پیش ہوئے۔امجد پرویز ملک نے نیب کے گواہ واجد ضیا پر جرح کی ۔

احتساب عدالت کے باہر سابق وزیر اعظم کے داماد کیپٹن (ر) صفدر نے لاہور میں جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر ہونے والی فائرنگ کی مذمت کی، ان کا کہنا تھا کہ جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ کا واقعہ قابل مذمت ہے۔تمام عدالتیں اور جج پاکستان کی امانت ہیں،سیاست دان آئین بناتے اور عدالتیں ان کی تشریح کرتی ہیں ،ہم آئین پر فائر نہیں کر سکتے،آئین بنانے اور ان کی تشریح کرنے والوں کے ساتھ ہیں اورجو آئین کو پھاڑتے اور پھینکتے ہیں ان لوگوں کے خلاف ہیں ،دوسری جانب ایک اور کیس میں وزیر خارجہ خواجہ آصف کی طرف سے اضافی دستاویزات اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرائی گئی ہیں،یو اے ای کمپنی کا نمائندہ خواجہ آصف کی نوکری اور شرائط پر پاکستان کی عدالت میں گواہی دینے پر آمادہ ہو گیا۔دستاویز کے مطابق خواجہ آصف کے ساتھ معاہدہ کے تحت ان کی کمپنی میں فل ٹائم موجودگی ضروری نہیں،کمپنی کا کہنا ہے کہ خواجہ آصف سے کسی معاملہ پر تجاویز فون یا ان کے دورہ دبئی کے دوران لے لی جاتی ہیں،یاد رہے خواجہ آصف کی نا اہلی کے لئے تحریک انصاف کے عثمان ڈار کی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ ہو چکا ہے عدالت نے فریقین کو اضافی دستاویزات جمع کرانے کی لئے گزشتہ پیر تک کا وقت دیا تھا۔

سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے بھی دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ احتساب صرف مسلم لیگ (ن)کا ہو رہا ہے نواز شریف ہی ’’نظریہ‘‘ ہے (ن) لیگ اسی پر ہی انتخابات میں حصہ لے گی، ادارے پر کوئی تنقید کرتا ہے اور نہ کرے گا، لیکن فیصلے پر تنقید کرنا حق ہے ،وہ فیصلے جن سے اتفاق نہیں ان پر اعتراض اور تنقید بھی ہو گی،جو لوگ جماعتیں اور قبلے بدلتے ہیں ان کا تاریخ میں کہیں ذکر نہیں ہوتا‘ جتنے لوٹے تحریک انصاف میں جانا چاہیں چلے جائیں،لیکن پھر بھی وہ کامیاب نہیں ہو سکیں گے،جنہوں نے غلط فیصلے کئے ان کا انجام کیا ہوتا ہے وہ تاریخ میں لکھا ہے ،جو ادارہ حدود سے باہر جائے گا وہ اپنا اور اپنے ادارے کا نقصان کرتا ہے، ہر ادارہ اپنے دائرہ کار میں رہے تو اس سے پاکستان کی ترقی کرے گا، وزیراعظم کے ترجمان سینیٹرمصدق ملک نے بھی فیصلوں پر اپنا تبصرہ کچھ یوں کیا کہ ہماری آواز کو بند کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، کیا ہمارا ملک اتنا کمزور ہے کہ ایک شخص کے بولنے سے ملکی سلامتی کو کوئی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد پیپلز پارٹی کی جانب سے بہت سخت زبان استعمال کی گئی اس کے باوجود کئی سال تک پریس میں بھٹو صاحب کا نام نہیں لیا جا سکتا تھا، پاکستان میں جب بھی مارشل لاء لگائے گئے تو عدالتوں نے ان کی توثیق کی، آرٹیکل 58-2/B کی بھی عدالتوں نے توثیق کی اپنا موقف بیان کرنا بغاوت نہیں ہے،سپریم کورٹ نے نواز شریف اور مریم نواز کے خلاف توہین عدالت کے تمام مقدمات کیوں خارج کئے ہیں؟ ان کو سزا کیوں نہ دی گئی، کیا سڑکوں پر آنا لوگوں کا جمہوری حق نہیں ہے۔

مزید : ایڈیشن 1