پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ) ن( میں وکٹیں گرانے کا مقابلہ سننسی خیز مرحلے میں داخل ہو گیا

پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ) ن( میں وکٹیں گرانے کا مقابلہ سننسی خیز مرحلے میں داخل ...

صوبائی دارالحکومت پشاور گزشتہ ہفتہ سیاسی سرگرمیوں کا مرکز رہا۔ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے پشاور کا دورہ کر کے پہلی مرتبہ پارٹی کے کسی اجتماع سے خطاب کیا اور عمران خان کی ھوم گراونڈ پر تحریک انصاف کو ایک ناکام ترین حکومت قرار دیتے ہوئے سخت الفاظ میں تنقید کی اور دعوی کیا کہ پشاور میٹرو بس سروس صرف 5 ماہ میں مکمل کرائینگے ہر ڈویثرن میں 500 بستروں کا ہسپتال اور یونیورسٹٰی قائم کریں گے احتساب کا نعرہ لگانے والے اپنا احتساب کمیشن بھی نہ چلا سکے جس کے سربراہ ریٹائرڈ جرنیل نے احتجاجاً استعفی دے دیا ۔خان صاحب پنجاب آکر خیبر پختونخوا کی ترقی کے حوالے سے غلط بیانی کرتے ہیں خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کوئی بڑا ہسپتال نہیں بنا سکی ۔جو لیڈر جھوٹ بولے گا وہ عوام کی کیا خدمت کرے گا ورکر کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے میاں شہباز شریف نے تحریک انصاف کی دکھتی رگ کو دباتے ہو ئے دعویٰ کیا کہ بلین ٹری پراجیکٹ سب سے بڑا فراڈ ہے لاکھوں کروڑوں کے پودے مفت بانٹے گئے مگر زمین پر کچھ بھی نظر نہیں آتا شہباز شریف نے اپنے دورہ پشاور اور پہلی سیاسی تقریب میں تحریک انصاف کی اہم وکٹ گرانے میں بھی شاندار کامیابی حاصل کی وزیراعلیٰ پرویز خٹک کے حلقہ نیابت سے تعلق رکھنے والے تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی سراج محمد خان نے مسلم لیگ ) ن (میں شمولیت کا اعلان کیا اس سے قبل سراج محمد خان اور شہباز شریف کے درمیان انجینئر امیر مقام کی رہائش گاہ پر ملاقات ہو ئی جس میں معاملات کو طے کرتے ہوئے شمولیت کے فیصلے کو حتمی شکل دی گئی سراج محمد خان کی مسلم لیگ میں شمولیت تحریک انصاف کیلئے بڑا دھچکا ہے مگر تحریک انصاف نے اس معا ملے پر کسی قسم کا ردعمل ظاہر کرنے کی بجائے خاموشی اختیار کی اس شمولیت کے دو روز بعد جنوبی اضلاع سے تحریک انصاف کی خاتون رکن صوبائی اسمبلی دینا ناز نے پاکستان پیپلز پارٹی کے صدر آصف علی زرداری سے انکی رہائش گاہ پر ملاقات کی آصف علی زرداری نے اس موقع پر دینا ناز کی شمولیت کا خیر مقدم کرتے ہوئے انہیں روایتی اجرک بھی پہنائی یوں خیبر پختونخوا میں دو روز کے دوران تحریک انصاف کی دو وکٹیں گر گئیں۔

اراکین پارلیمنٹ پر مشتمل تحریک انصاف کی مزید وکٹیں گرنے کو پوری طرح تیار ہیں مگر وہ کسی موضوع وقت کا انتظار کر رہی ہیں جو کہ یقینامئی کا مہینہ ثابت ہو سکتا ہے تحریک انصاف کے ناراض ارکان کی ایک معقول تعداد پارٹی پالیسیوں خصوصاً وزیراعلیٰ پرویز خٹک کے رویے سے سخت دل برداشتہ ہو چکی ہے اور وقتاً فوقتاًاپنی ہی پارٹی اور اپنی ہی حکومت پر کرپشن کے سنگین الزامات بھی لگاتے آئے ہیں مستقبل کے عام انتخابات میں مذکورہ اراکین کو پارٹی کی طرف سے ٹکٹ ملنا تو درکار کسی قسم کا کوئی مقام ملنے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا مذکورہ اراکین اس صورتحال کو بخوبی سمجھتے ہیں اور وہ خود بھی پارٹیٰ کے ساتھ مزید چلنے کو دشوار بلکہ ناممکن سمجھتے ہیں یوں پنجاب میں جس رفتار سے تحریک انصاف مخالف پارٹیوں کی وکٹیں گرا رہی ہے یا مزید گرائے گی اس کے بر عکس خیبر پختونخوامیں اسی رفتار کے ساتھ اس کی اپنی وکٹیں بھی گرتی جائیں گی جس کیلئے کہا جاتا ہے ۔کہ انتظار کرو اور دیکھو اسی پالیسی کے تحت تحریک انصاف کی مخالف پارٹیاں آنے والے وقت کا انتظار کر رہی ہیں جب توڑ پھوڑ کی شدت سے ان پارٹیوں کی سیاست میں بہار کے پھول کھلیں گے ۔

دوسری طرف تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے بھی پشاور کا طوفانی دورہ کیا اپنے اس دورے کے موقع پر انہوں نے فاٹا کے انضمام کے ایشو کو فوکس کیا اور قبائلیوں کی ہمدردیاں لینے میں کامیاب ہوئے اس موقع پر انہوں نے جے یو آئی کے قائد مولانا فضل الرحمان پر کڑی تنقید کرتے ہوئے انہیں فاٹا دشمن کا خطاب دیا ،عمران خان کی تیز سرگرمیوں کے نتیجے میں مسلم لیگ ن کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات اور NA-4 سے پارٹی کے ناکام امیدوار ناصر خان موسی زئی نے مسلم لیگ کے ساتھ اپنی دیرنیہ وابستگی کو ختم کرکے تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا ناصر موسی زئی کی ایک سے زائد مرتبہ عام انتخابات میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ سے الیکشن میں حصہ لیتے رہے مگر حلقے میں مسلم لیگ ن کا ووٹ بنک نہ ہونے کی وجہ سے وہ ہر بار ناکام ہوتے رہے جس کی وجہ سے وہ خاصے دل برداشتہ ہوئے اور بالا آخر اپنا گھونسلہ تبدیل کر لیا۔پشاور سے مسلم لیگ ن کے اکلوتے رکن صوبائی اسمبلی وسیم حیات نے بھی پارٹی سے رشتہ توڑ کر تحریک انصاف میں اپنا گھر بسا لیا تحریک انصاف جنوبی اضلاع سے مسلم لیگ کے دیرینہ کارکن اور سیف اللہ خاندان کے سربراہ سلیم سیف اللہ خان کے ساتھ بھی مسلسل رابطے میں ہے اور ان کو تحریک انصاف میں شمولیت پر آمادہ کرنے کی کوشش کرر ہی ہے تحریک انصاف اپنی ان کو ششوں میں اس وقت تک کامیاب ہوئی جب سلیم سیف اللہ خان نے تحریک انصاف میں براہ راست شمولیت کرنے کی بجائے مروت قومی اتحاد کے نام سے تحریک انصاف کے ساتھ اتحاد کر کے اپنا ووٹ بنک ان کی جھولی میں ڈال دیا جبکہ سلیم سیف اللہ خان اس بار آزاد حیثیت سے الیکشن میں حصہ لینگے جس کا واضع مطلب یہ ہے کہ سلیم سیف اللہ خان عام انتخابات کے بعد دیکھیں گے کہ کون سی پارٹی حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے اس کے بعد اسی پارٹی میں شمولیت اختیار کرینگے ۔

مزید : ایڈیشن 1