جنوبی پنجاب صوبہ بناؤ محاذ، اعلان کے بعد توقعات پوری نہ ہوئیں

جنوبی پنجاب صوبہ بناؤ محاذ، اعلان کے بعد توقعات پوری نہ ہوئیں

مسلم لیگ (ن) میں جنوبی پنجاب صوبہ بناؤ محاذ کے قیام اور 8 ارکان اسمبلی کے استعفوں سے جو بڑا سیاسی ’’اپ سیٹ‘‘ سامنے آیا تھا وہ وہیں رک گیا ہے اور اس کے بعد کوئی رکن اسمبلی یا قد آور سیاسی شخصیت ابھی تک اس محاذ کو جوائین نہیں کر پائی اور نہ ہی اس کے بعد ’’محاذ‘‘ والوں کی کوئی سیاسی بڑھک سامنے آئی ہے جو دعویٰ کر رہے تھے کہ ادھر وہ اس محاذ کی بنیاد رکھیں گے ادھر جھٹ سے بیسیوں ارکان اسمبلی اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے کر ان کے ساتھ شامل ہو جائیں گے لیکن ایسا نہیں ہو سکا ہاں البتہ یہ ضرور ہوا کہ کچھ ایسے سیاسی دھڑوں، خاندان اور شخصیات نے اس نئی سیاسی صورتحال پر غور کرنے کا وعدہ ضرور کیا لیکن کسی کی کوئی آواز تک سامنے نہیں آئی ہاں یہ ضرور ہوا کہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں کچھ سیاسی لوگوں کے حوالے سے قیاس آرائیوں پر مبنی خبروں نے اتنا ضرور کر دیا کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے خصوصاً جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی اور سیاستدانوں سے میل ملاقات شروع کر دی اور کچھ کو تو اعتماد میں بھی لے لیا جو ایک بروقت سیاسی قدم تھا ، کسی حد تک کامیاب بھی رہا لیکن اس کے باوجود ابھی تک کچھ سیاسی ناراضیاں اپنی جگہ قائم ہیں جس کا نتیجہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے دورہ اوچ شریف میں نظر آیا، جہاں ن لیگ کے رکن اسمبلی علی حسن گیلانی سمیت بہاولپور سے تعلق رکھنے والے متعدد دوسرے ارکان اور اہم سیاسی شخصیات اس تقریب میں شامل نہیں ہوئیں اور اطلاعات کے مطابق حاضرین کی تعداد بھی مایوس کن تھی شاہد یہی وجہ ہو گی کہ وزیر اعظم جو وہاں اوچ شریف تا جلال پور پیروالہ سیکشن روڈ کے افتتاح کے لئے آئے تھے کو یہ کہنا پڑا کہ اب سیاست بہت آگے جا چکی ہے اور انتخابات میں فیصلہ عوام ووٹ سے کرتے ہیں لہذا وفا داریاں بدلنے کا زمانہ اب گذر چکا ہے۔ اس کا اندازہ انہیں جولائی میں پولنگ کے بعد ہو جائے گا، البتہ انہوں نے ایک بات بڑی اہم اور پتے کی کہی کہ انتخابات سے چند ماہ قبل پریس کانفرنسوں سے مسئلے حل نہیں ہوا کرتے، اگر انہیں کچھ ’’درد‘‘ تھا اور باقی سیاسی جماعتیں بھی یہیں چاہتی ہیں تو پھر انہیں ایک ٹیبل پر بیٹھ کر اس کا حل تلاش کرنا چاہیے اور یہ مذاکرات کے ذریعے ہی ہو سکتا ہے مگر صوبے کے قیام کے نام پر سیاست نہ چمکائیں۔

یہی بات وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے ماڈل ٹاؤن لاہور میں جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی سے ملاقات میں کہی کہ ن لیگ حکومت نے جنوبی پنجاب کے لئے ریکارڈ ترقیاتی فنڈز مہیا کئے ہیں اور رواں سال ترقیاتی بجٹ کا 36 فیصد جنوبی پنجاب پر خرچ کیا جا رہا ہے جو 229 ارب روپے بنتے ہیں ماضی کی حکومتوں نے جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کے نعرے کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا لیکن ہماری حکومت نے جنوبی پنجاب صوبے کے قیام اور بہاولپور صوبے کی بحالی کی قرار دادیں پنجاب اسمبلی سے منظور کروائیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم نئے صوبوں کے قیام کے مطالبے کے لئے پر عزم ہیں اس لئے میں ہمیشہ جنوبی پنجاب کے عوام کے ساتھ کھڑا رہا ہوں اور اس خطے میں ترقیاتی کاموں کی رفتار کو تیز کر دیا ہے انہوں نے وفاقی وزراء سردار اویس لغاری، عبدالرحمان کانجو اور اراکین اسمبلی سردار امجد فاروق خان کھوسہ، ملک سلطان محمود ہنجرا، سردار عاشق حسین گوپانگ ارکان صوبائی اسمبلی ذیشان گورمانی اور سابق رکن اسمبلی صدیق خان بلوچ سمیت دوسری سیاسی شخصیات بھی موجود تھیں۔

اب دیکھا جائے تو ن لیگ بھی خود ہی جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کے مطالبے کو تسلیم کر رہی ہے ایسی صورت میں صوبہ بناؤ محاذ کس حد تک کامیاب ہوتا ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا مگر دوسری طرف اس خطے میں صوبہ بناؤ تحریک کے لئے جو سرائیکی تنظیمیں کام کر رہی تھیں انہوں نے وڈیروں اور ارکان اسمبلی پر مشتمل بھاری بھرکم صوبہ محاذ کا بھی خیر مقدم ہی کیا ہے اور اس کی مخالفت نہ کرنے کا فیصلہ بھی کر لیا ہے جبکہ دوسری طرف اس محاذ کو کاؤنٹر کرنے کے لئے اپنی تمام ایسی تنظیموں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کا کام بھی تیزی سے شروع کر دیا ہے جو سرائیکی قوم پرستی کی بنیاد پر صوبہ بنانے کے حق میں ہیں اور اس کا نام ’’سرائیگستان صوبہ محاذ‘‘ تجویز کر دیا ہے جس کے لئے قوم پرست رہنما مٹھن کوٹ سے خواجگان اور ظہور دھریجہ سر فہرست ہیں جو اس عزم کے ساتھ میدان میں آئے ہیں کہ وہ اس مقصد کے لئے تمام قوم پرست سرائیکی جماعتوں اور تنظیموں کو جمع کر لیں۔ ادھر رکن قومی اسمبلی جمشید خان دستی نے سرائیکی تنظیموں کو ملک دشمن قرار دیتے ہوئے انہیں انتشار پھیلانے کاملزم قرار دیاکہ سرائیکی علاقوں میں رہنے والی تمام قومیں ہمارا جسم و جان ہیں اس صوبے کا نام متفقہ طور پر رکھا جائے سرائیکی ضروری نہیں البتہ تخت لاہور سے آزادی اولین ترجیح ہے اور خطے کی پس ماندگی اور محرومیوں کا خاتمہ ضروری ہے۔ جمشید دستی کے اس بیان پر سرائیکی تنظیموں نے بھر پور احتجاج بھی کیا لیکن انہوں نے وضاحت کر دی کہ وہ صوبے کی تقسیم کے اور نیا صوبہ بنانے کے حق میں ہیں ابھی تک دونوں طرف سے خاموشی چھائی ہے ۔

ادھر سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے جنوبی پنجاب صوبہ بناؤ محاذ تشکیل دینے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں ہر سطح پر تعاون کا یقین دلایا ہے اور یہ بھی کہا کہ الگ صوبہ اب میری زندگی کا مشن ہے جبکہ پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کی حامی ہے اور یہ صوبہ بنا کر رہے گی کیونکہ آئندہ حکومت ہماری ہو گی اب سابق وزیر اعظم کا یہ دعویٰ کتنا سچ ثابت ہوتا ہے اس کے لئے وقت کا انتظار کرنا ہو گا کہ ان کی حکومت وفاق میں بنتی ہے کہ نہیں مگر ادھر تحریک انصاف کے وائس چیئر مین مخدوم شاہ محمود قریشی نے جنوبی پنجاب صوبہ کے حوالے سے سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور انہیں جنوبی پنجاب میں محرومیوں اور پس ماندگی کا ذمہ دار قرار دیا اور الزام عائد کیا کہ جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے میں پیپلز پارٹی کا کردار محض قرار دادوں تک محدود رہا ہے جبکہ ن لیگ نے اس خطے کی آواز کو دبانے کے لئے بہاولپور صوبہ کا نعرہ لگا کر تقسیم کرنے کی کوشش کی البتہ انہوں نے یہ انکشاف کیا کہ تحریک انصاف کی مرکزی مجلس عاملہ نے جنوبی پنجاب صوبہ کے قیام پر مکمل اتفاق کیا ہے جس کی تائید اور حمایت پیر آف پگارو نے بھی کی ہے اور وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے بھی اس پر مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے جبکہ جنوبی پنجاب صوبہ بناؤ محاذ کے ساتھ تحریک انصاف نے مل جل کر چلنے کا فیصلہ کیا ہے اور تحریک انصاف آئندہ بجٹ سیشن میں اس صوبے کے حوالے سے اپنا موقف بھی پیش کرے گی تاہم انہوں نے ن لیگ کی حکومت کی طرف سے چھٹے بجٹ کو ایوان میں پیش کرنے پر سخت الفاظ میں تنقید کی اور واضح کہا کہ آئین کی رو سے وہ ایسا نہیں کر سکتے پر تحریک انصاف آواز بلند کرے گی انہوں نے علی جہانگیر صدیقی کو امریکہ میں پاکستان کا سفیر نامزد کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

ادھر جنوبی پنجاب صوبہ بناؤ محاذ کے چیئر مین میر بلخ شیر مزاری نے واضح کیا کہ اس صوبے کا ہیڈ کوارٹر ملتان ہی ہو گا تاہم وقتی طور پر محاذ کا دفتر لاہور میں قائم کیا گیا ہے اب یہ بات کس حد تک درست ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن ایک بات واضح ہے کہ اس محاذ کی تشکیل کے بعد جو توقع تھی کہ بہت سے سیاسی پرندے اڑ کر ان کے گھونسلے میں بیٹھیں گے ایسا بالکل نہیں ہوا اب آگے کیا ہو گا اس کے لئے انتظار کرنا ہو گا۔

مزید : ایڈیشن 1