اسلام آباد میں شاعروں، ادیبوں اور کتابوں کا 4 روزہ میلہ

اسلام آباد میں شاعروں، ادیبوں اور کتابوں کا 4 روزہ میلہ

اسلام آباد میں نیشنل بک فاؤنڈیشن کے زیراہتمام منعقد ہونے والا کتاب میلہ اب ایک تہوار بنتا جا رہا ہے جس میں ملک بھر سے وہ ادیب، شاعر، فنکار، اداکار، صحافی، کالم نگار اور ماہرین تعلیم شرکت کرتے ہیں جو فروغ کتاب کے سلسلے میں کسی نہ کسی طرح کوئی کردار ادا کرتے ہیں۔ اسلام آباد اور گرد و نواح میں رہنے والوں کے لیے یہ میلہ دلچسپی کا پورا سامان لیے ہوتا ہے۔ اس میلے سے عام لوگوں کا کتاب اور حرف و قلم سے تعلق مضبوط ہوا ہے۔ جب عام لوگ اپنے پسندیدہ ادیبوں، شاعروں اور مصنفین کو اپنے درمیان پاتے ہیں تو ان کی مسرت دوچند ہو جاتی ہے۔ لوگ خواہ کچھ بھی کہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ میلہ نہایت شستہ اور کوثر و تسنیم میں دھلی نثر لکھنے والے کالم نگار عرفان صدیقی اور مزاحیہ شاعری اور مشاعروں سے شہرت پانے والے شاعر ڈاکٹر انعام الحق جاوید کی دلچسپی اور توجہ سے پاکستان کا ایک مقبول اور مستند تہوار بننے میں کامیاب ہوا ہے۔ محترم عرفان صدیقی ،شاہ کے مصاحب ضرور ہیں لیکن کسی نے کبھی انہیں اتراتے پھرتے نہیں دیکھا بلکہ سچ یہ ہے کہ قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن کا سربراہ اور وزیراعظم کا مشیر بننے کے بعد، اہل قلم سے ان کا تعلق مزید مضبوط ہوا ہے۔ نیشنل بک فاؤنڈیشن کے منیجنگ ڈائریکٹر اور ہمارے دوست ڈاکٹر انعام الحق جاوید کا بھی یہی عالم ہے۔ انہوں نے ملک بھر کے کتاب دوستوں کو ڈھونڈ ڈھانڈ کر ایک پلیٹ فارم پر جمع کر دیا ہے۔ این بی ایف جو کبھی چند لوگوں کے اردگرد گھومتا تھا، آج ایک عوامی ادارہ بن چکا ہے۔ اس ادارے کے سارے دروازے ہر آدمی کے لیے کھلے ہیں۔ وہ 2014ء میں ایم ڈی بنے تو انہوں نے مجھ سے رابطہ کیا۔ بولے: ’’لاہور میں این بی ایف کسی بھوت بنگلے کی طرح گوشہ گم نامی میں پڑا ہوا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ لاہور کا ہر وہ آدمی جسے مطالعے کا شوق ہے وہ این بی ایف کے نام، کام اور مقام سے آگاہ ہو جائے۔‘‘

اپنی خواہش کی تکمیل کے لیے انہوں نے مجھے لاہور میں بک ایمبیسیڈر مقرر کر دیا۔ لاہور پریس کلب میں منعقد ہونے والی اس تقریب میں بھی بطور خاص آئے جو اہل صحافت نے کتاب دوستی کی تحریک میں جان ڈالنے کی سچی کاوش اور کوشش کو تسلیم کرنے کے لیے برپا کی تھی۔ لاہور آفس کی انچارج محترمہ نزہت اکبر کے تعاون اور ان کے اسٹاف کی دن رات کی محنت سے اہل لاہور این بی ایف سے یوں منسلک ہوئے کہ اب شاید ہی کوئی ایسا شخص ہوگا جو اس ادارے کی کتابوں سے مستفید نہ ہوتا ہو۔ ڈاکٹر انعام الحق جاوید نے اس بھوت بنگلے کو شادمان کے گندے نالے کے کنارے سے اٹھا کر عین شہر کے بیچوں بیچ، ایوان اقبال میں لاکھڑا کیا اور میں آج بھی صلہ و ستائش کی تمنا کے بغیر اس ادارے کے لیے کام کر رہا ہوں۔

اسی نیشنل بک فاؤنڈیشن کے زیراہتمام نواں قومی کتاب میلہ اسلام آباد کے پاک چائنا فرینڈشپ سنٹر میں 6 اپریل کی صبح شروع ہوا اور 9 اپریل کی شام ختم ہوا۔ پہلے یہ قومی کتاب میلہ، عالمی یوم کتاب کی مناسبت سے 23 اپریل کے آس پاس کی تاریخوں میں منعقد ہوتا تھا لیکن اس بار اس میلے میں عالمی یوم کتاب کا ذکر گول کر دیا گیا۔ پچھلے میلے تین دن جاری رہتے تھے، اس دفعہ ایک دن کا اضافہ کر دیا گیا۔ ملک بھر سے آئے ہوئے تمام سفیران کتاب کو چار دن علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے ہاسٹلوں، اکادمی ادبیات پاکستان کے رائٹرز گیسٹ ہاؤس اور کچھ ہوٹلوں میں ٹھہرایا گیا۔ میں اپنے دو بچوں احسن بشیر اور جواد بشیر کے ساتھ گیا تھا۔ نام ور گلوکار، شاعر اور کتاب دوست عدیل برکی کی رفاقت نے اوپن یونیورسٹی کی اس خاموش قیام گاہ کو بھرپور زندگی بخش دی تھی۔ 6 اپریل کی صبح پاک چائنا فرینڈشپ سنٹر میں منعقد ہونے والی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے نکلے تو اسلام آباد کی سڑکوں کے کھمبوں پر تمام سفیران کتاب کی تصویریں لگی ہوئی تھیں۔ گویا یہ اس بات کا اظہار تھا کہ ہمارے اصل ہیرو یہی لکھنے پڑھنے والے لوگ ہیں۔ افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی صدر مملکت سید ممنون حسین تھے۔ سیکورٹی اہلکار، افتتاحی تقریب کے موقع پر ضرورت سے زیادہ الرٹ ہوتے ہیں جس کے باعث ادیبوں، شاعروں کو خاصی مشکل اٹھانا پڑتی ہے لیکن اس سال ایسا نہیں ہوا۔ تمام لوگ نہایت آسانی سے مرحلہ وار اس سماعت گاہ میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے جس میں یہ تقریب منعقد ہونا تھی۔ واقعہ یہ ہے کہ بہت سے سفیران کتاب پچھلے سال کے تلخ تجربے کے پیش نظر افتتاحی تقریب میں آئے ہی نہیں۔ صدر صاحب کے رخصت ہو جانے کے بعد وہ کتاب میلے میں آئے اور مختلف کمروں میں منعقد ہونے والی تقریبات میں بھرپور طریقے سے شریک ہوئے۔

اس سال تقریباً ڈیڑھ سو کے قریب کتاب دوستوں کو سفیر کتاب مقرر اور میلے میں مدعو کیا گیا تھا جن کے نام یہ ہیں: مسعود اشعر، عطا الحق قاسمی، شاہد صدیقی، مسعود مفتی، زاہدہ حنا، منیر بادینی، فتح محمد ملک، احسان اکبر، حلیم قریشی، آغا محمد ناصر، ابدال بیلا، فاطمہ حسن، ایوب بلوچ، حفیظ خان، سید گلزار حسنین، حمیرا اشفاق، سعد اللہ شاہ، لیلیٰ زبیری، توصیف تبسم، قاسم بگھیو، اسلم کمال، محمود شام، رفیع الدین ہاشمی، مبین مرزا، عنایت اللہ فیضی، نذیر تبسم، ذوالفقار احمد چیمہ، خالد شریف، مقصود جعفری، فہمیدہ تبسم، فاروق عادل، فاخرہ بتول، محبوب ظفر، محمد حمید شاہد، محمد مدثر احمد، نجم عباس نقوی، افتخار عارف، عکسی مفتی، ریاض مجید، سید تابش الوری، اصغر ندیم سید، محمد یوسف خشک، راجہ محمد اکرام اعظم، مظہر برلاس، یاسر پیرزادہ، سید سردار احمد پیرزادہ، عبدالرزاق صابر، فاضل جمیلی، فیصل مشتاق، ندیم شفیق ملک، اکبر حسین اکبر، محمد طاہر، ناصرہ زبیری، کشور ناہید، سعید الٰہی، خواجہ رضی حیدر، سرفراز شاہد، خالد مسعود، قیصرہ علوی، غضنفر مہدی، ساجد حسین ملک، روبینہ خورشید عالم، اختر شمار، جمال ناصر، لبنیٰ ظہیر، سید شمعون ہاشمی، آصف بھلی، سبینہ ذاکر، زرفشاں عدنان، نگار نذر، طاہر جان، انجان اورک زئی، صغرا صدف، عائشہ مسعود ملک، عقیل عباس جعفری، زاہد منیر عامر، فرخ سہیل گوئندی، نیلوفر اقبال، فوزیہ چودھری، قرۃ العین رضوی، فریدہ حفیظ، وحید احمد، نسیم سحر، راشد نور، شاکر حسین شاکر، ناصر علی سید، ہارون الرشید تبسم، اسلم سحر، ناصر بشیر، ممتاز احمد شیخ، رخشندہ نوید، منصور آفاق، جبار مرزا، افضال احمد، فواد نیاز، محمد فیصل، مرزا حامد بیگ، ایوب خاور، سہیل ساجد، عباس تابش، طاہرہ ملک، عدیل برکی، یوسف عالمگیرین، مسافر لودھی، سلطان خلیل، مرتضیٰ نور، آصف نور، عزیر احمد، رؤف طاہر، جواد جعفری، اجمل نیازی، امجد اسلام امجد، الطاف حسن قریشی، انور شعور، شکیل عادل زادہ، وسعت اللہ خان، رؤف پاریکھ، اباسین یوسف زئی، افسر ساجد، وحید الرحمن، شاہد وارثی، ندیم ظفر صدیقی، حنیف عابد، ناہید منظور، صوفیہ بیدار، رضی الدین رضی، خورشید احمد ندیم، ذوالقرنین جمیل، ارشد جبار پراچہ، خلیل طوقار، غضنفر ہاشمی، صابر رضا، صغیر اسلم، نصر ملک، شوکت فہمی، الماس شبی، امان اللہ خان، بینا گوئندی، ارشد فاروق، سائرہ علوی، قمر ریاض، فہیم الدین ہاشمی، مروت احمد، انیس اختر اور ارشد سعید۔ ان احباب میں سے بیشتر میلے میں موجود تھے، چند ایک غالباً اپنی مصروفیات کے باعث نہیں آ سکے۔

افتتاحی تقریب تلاوت کلام پاک اور نعت مبارک سے شروع ہوئی۔ ہم سب کی ہردلعزیز شخصیت اور شاعر محبوب ظفر اور قرۃ العین رضوی نے نظامت کا فرض ادا کیا۔ سب سے پہلے صدر ممنون حسین نے کتاب پرچم لہرایا۔ اس کے بعد مختلف سکولوں کے بچوں نے کتاب نغمہ ’’کتابوں کی دنیا سلامت رہے‘‘ پیش کیا۔ اس روز چونکہ حکومت پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں جاری ہندوستانی فوج کے مظالم کے خلاف یوم یکجہتی کشمیر کا اعلان کر رکھا تھا اس لیے ہال میں موجود تمام حاضرین کرام کو بازوؤں پر باندھنے کے لیے سیاہ پٹیاں دی گئی جو سب نے باندھ لیں۔ اسٹیج پر صدر مملکت سید ممنون حسین کے دائیں بائیں عرفان صدیقی، ڈاکٹر انعام الحق جاوید، انجینئر عامر حسن اور خلیل طوقار بیٹھے تھے۔ ڈاکٹر انعام الحق جاوید نے نہایت اختصار سے این بی ایف کی کارکردگی بیان کی۔ انہوں نے بتایا کہ اس سال 125 بک اسٹال لگائے گئے ہیں۔ ستر سے زائد ادبی اجلاس ہوں گے۔ انہوں نے یہ بتا کر سب کو حیران کر دیا کہ پچھلے سال 33 کروڑ روپے کی کتابیں فروخت ہوئیں۔ انہوں نے شہر کتاب کا ذکر بھی کیا اور صدر مملکت کو مخاطب کرکے معصومانہ التجا کی کہ سی ڈی اے سے کہا جائے کہ شہر کتاب کو چلنے دیا جائے، ہمیں اس سلسلے میں تنگ نہ کیا۔ ڈاکٹر صاحب نے یہ بھی بتایا کہ اس برس این بی ایف کے کارڈ پر سبسڈائزڈ کتابوں کی خریداری کی حد 5 سے 6 ہزار روپے کر دی گئی ہے۔

وزیراعظم کے مشیر اور قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن کے سربراہ عرفان صدیقی نے کہا: ’’ملک بھر کے تمام علمی، ادبی، ثقافتی اور تاریخی اداروں کو ایک چھتری تلے لانے کا آئیڈیا صدر ممنون حسین نے دیا اور انہی نے اس خاکسار کو اس ڈویژن کی سربراہی کے لیے چنا۔ پچھلے سال تین دن کے کتاب میلے میں ایک کروڑ اسی لاکھ کی کتابیں فروخت ہوئیں۔ تین لاکھ سے زیادہ لوگوں نے میلے میں شرکت کی۔ سابق وزیراعظم میاں نوازشریف نے ڈویژن کے لیے پچاس کروڑ روپے کا انڈوومنٹ فنڈ قائم کیا۔ نیشنل بنک آف پاکستان میں یہ رقم رکھ دی گئی ہے اور اس سے ملنے والے منافع سے قومی کتاب میلہ اور دیگر بڑی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں‘‘۔

صدر مملکت سید ممنون حسین نے کہا: ’’ہم نے علمی و ادبی سرگرمیوں کو قومی زبان اردو سے منسلک کر دیا ہے۔ این بی ایف مصنفین کی خوش حالی کے لیے کام کرے۔ مصنفین کا استحصال کسی بھی صورت میں نہیں ہونا چاہیے۔ ادارہ پبلشروں کے لیے ایک مثال ہونا چاہیے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ مصنف کو اپنی جمع پونجی سے کتاب چھپوانا پڑے۔

چار روزہ قومی کتاب میلے میں صرف کتابیں نہیں بیچی جا رہی تھیں بلکہ اہلِ ادب کی تسکین کے لیے ایک ہی وقت میں بہت سی ادبی تقریبات بھی جاری تھیں۔ کتاب خوانی کی کئی نشستیں ہوئیں لیکن یہ نشستیں اپنے مقاصد کے حصول میں اس لیے ناکام رہیں کہ کتاب خوانی اور میزبانی کے لیے موزوں شخصیات کا انتخاب نہیں کیا گیا تھا۔ کتاب خوانی کی ایک محفل میں پروگرام سے ہٹ کر ایک صاحب کو ڈاکٹر عطش درانی صاحب کی کتاب کا ایک صفحہ پڑھنے کے لیے دیا گیا لیکن ان کا تلفظ اتنا غلط تھا کہ مجھے بیچ میں ٹوکنا پڑا۔ البتہ ہمارے دوست اور مشہور گلوکار عدیل برکی نے ترک زبان کی ایک مختصر کہانی سناکر حاضرین سے خوب داد حاصل کی۔ چنانچہ انھیں مزید پڑھنے سے روک دیا گیا۔ اس طرح اردو کی مقبول صنفِ سخن غزل پر بات چیت کے لیے رکھے گئے مکالمے میں دو محترم مزاحیہ شاعروں سرفراز شاہد اور عزیز فیصل کو بات کرنے کو کہا گیا تو جلیل عالی نے اعتراض کیا کہ سنجیدہ غزل کی اس محفل میں مزاحیہ شاعروں کا کیا کام؟ اس محفل کی میزبانی پچھلے سال بھی عائشہ مسعود ملک کے پاس تھی اس سال بھی وہی میزبان تھیں۔ عائشہ مسعود ملک این بی ایف کے کئی پروگراموں کی میزبانی کرنے کے لیے موزوں ہوں گی لیکن خالص غزل پر مکالمہ کروانا ان کے بس کی بات نہیں لگتی۔

میلے کے تیسرے دن مرکزی سماعت گاہ میں بین الاقوامی مشاعرہ ہوا، جس کی صدارت سینئر شاعر ڈاکٹر توصیف تبسم نے کی۔ مہمانانِ خصوصی ڈاکٹر نذیر تبسم، انور شعور اور سید تابش الوری تھے۔ مشاعرے کی نظامت پچھلے سال کی طرح اس سال بھی برادرم محبوب ظفر نے کی۔ انہوں نے مشاعرے میں تقریباً ستر شاعروں کو بُھگتایا۔ اس مشاعرے کی خوبی یہ تھی کہ ہر شاعر نے مختصر کلام پڑھا۔ دوسری خوبی یہ تھی کہ کسی شاعر نے حفظِ مراتب کے معاملے پر شور نہیں مچایا، بلکہ ہر شاعر چاہتا تھا کہ اسے پہلے پڑھوایا جائے۔ شروع میں پڑھنے والے فائدے میں رہے۔ انھیں بہت زیادہ سامعین میسر آئے۔ آخر میں کلام پڑھنے والے شاعروں نے خالی کرسیوں کو کلام سنایا۔

پاک چائنا سنٹر میں منعقد ہونے والے اس میلے میں ایک استقبالیہ بنایا گیا تھا جہاں پڑی کرسیوں پر ہر وقت نامور ادیب اور شاعر براجمان رہتے تھے۔ حتیٰ کہ این بی ایف کے ایم ڈی ڈاکٹر انعام الحق جاوید بھی احباب کے ساتھ یہیں بیٹھے رہتے ۔ استقبالیے پر میلے کے شرکاء کے لیے بہت سے بروشر رکھے گئے تھے۔ انھیں قرعہ اندازی کے ذریعے انعامات دیے جا رہے تھے۔ مختلف تقریبات کے لیے وقتاً فوقتاً اعلانات کیے جا رہے تھے۔ مسلم لیگی راہ نما راجہ ظفر الحق اور پاکستان تحریکِ انصاف کے لیڈر شبلی فراز کو بھی میں نے استقبالیے پر کھڑے دیکھا۔ موٹروے پولیس اور نیشنل ہائی وے نے مشترکہ طور پر ایک اسٹال لگا رکھا تھا جہاں لوگوں کو ٹریفک قوانین سے آگاہ کیا جا رہا تھا۔ ہلال احمر کی طرف سے میڈیکل کیمپ لگایا گیا تھا۔ پاکستان پوسٹ نے یادگاری ٹکٹوں کی نمائش کا اہتمام کر رکھا تھا۔

اختتامی تقریب کے مہمانِ خصوصی صدر آزاد کشمیر سردار مسعود احمد خان تھے۔ اسٹیج پر ان کے ساتھ ڈاکٹر انعام الحق جاوید، عرفان صدیقی، عبدالمجید نیازی اور تابش الوری براجمان تھے۔ ڈاکٹر انعام الحق جاوید نے اس چہار روزہ میلے کے بارے میں قمر لدھیانوی کا یہ شعر سنا کر خوب داد سمیٹی:

زندگی میلہ ہے، میلے میں قرینہ کیسا

اتنا محتاط ہی رہنا ہے تو جینا کیسا

تب مجھے بھی اس چہار روزہ میلے کے بارے میں یہ شعر یاد آئے:

عمر دراز مانگ کے لائے تھے چار دن

دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں

اک فرصتِ گناہ ملی وہ بھی چار دن

دیکھے ہیں ہم نے حوصلے پروردگار کے

اک دوسرے سے اپناپتا پوچھے نہیں

میلے میں جان بوجھ کے کھوئے ہوئے ہیں لوگ

یہاں عرفان صدیقی صاحب نے جو گفتگو کی اس سے لگتا تھا کہ یہ ان کی نگرانی میں ہونے والا آخری کتاب میلہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ افراد آتے جاتے رہتے ہیں لیکن ہم نے ایک روایت قائم کر دی ہے اور ہمارے بک ایمبیسڈر اس روایت کے امین ہیں۔ صدر آزادکشمیر سردار مسعود احمد خان نے کہا: ’’ اگر ہم ایک مضبوط ریاست کے طور پر ابھرنے کے آرزو مند ہیں تو ہمیں کتابوں پر سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔کتاب چھاپنا آسان ہو گیا ہے ، لیکن ہمیں کتاب کا معیار بھی بلند کرنا ہوگا۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم کا تذکرہ بھی کیا اور کہا کہ کشمیری جلد آزادی کی منزل حاصل کر لیں گے‘‘۔

مزید : ایڈیشن 2