جناب شاہد خاقان عباسی وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان کا پیغام

جناب شاہد خاقان عباسی وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان کا پیغام

قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن کے زیر نگرانی نیشنل بک فاؤنڈیشن کے نویں سالانہ قومی کتاب میلے کے موقع پر پیغام دیتے ہوئے مجھے بے حد خوشی محسوس ہو رہی ہے۔ نیشنل بک فاؤنڈیشن ایک تسلسل اور عزم صمیم کے ساتھ کتاب میلے کی اس مستحکم روایت کو شاندار طریقے سے آگے بڑھا رہا ہے اور کتاب دوستی کے پیغام سے لوگوں کے دلوں کو منور کر رہا ہے۔

قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن نے مختصر عرصے میں اپنے زیرانتظام علمی، ادبی اور تاریخی و ثقافتی اداروں میں ایک نئی روح پھونک دی ہے اور یہ پہلو طمانیت بخش ہے کہ اب یہ ادارے اپنے مقاصد کے لیے عزم نو کے ساتھ سرگرم عمل ہو چکے ہیں۔

قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن اور نیشنل بک فاؤنڈیشن کتاب کے ذریعے جہالت کے خلاف برسرپیکار ہیں اور نوجوانوں کو پرامن انقلاب کی نوید دے رہے ہیں۔

میں نیشنل بک فاؤنڈیشن کی کتب بینی کے فروغ کے پس منظر میں اعلیٰ کارکردگی اور نویں قومی کتاب میلے کے انعقاد پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں اور حکومت کی جانب سے مکمل تعاون کا یقین دلاتا ہوں۔

نیشنل بک فاؤنڈیشن: ایک مختصر جائزہ

نیشنل بک فاؤنڈیشن کا کتب بینی اور عادات مطالعہ کے فروغ سمیت مفید و معیاری، معلوماتی اور کم قیمت علمی، ادبی اور نصابی کتابوں کی اشاعت کے بنیادی مقاصد کے حصول کا پرعزم سفر تقریباً 46 برسوں پر محیط ہے۔ اس ادارے نے ایک تسلسل کے ساتھ اپنے مشن کے حصول کے لئے دائرہ کار کو بیرون ملک تک بڑھایا اور لاتعداد یاد رہ جانے والے علمی کام کیے۔ بالخصوص گزشتہ چار برسوں میں این بی ایف نے ’’امن انقلاب بذریعہ کتاب‘‘ کے پیغام آفریں نعرے کے تحت کردار سازی، شخصیت سازی، قومی یگانگت کے فروغ، بہتر اور مثالی معاشرے کی تشکیل اور پاکستان کے سافٹ امیج کو ابھارنے کے لیے وضع کردہ نئے نظام کے تحت کتابوں کی اشاعت اور قارئین تک ان کی ترسیل کے عمل میں سرعت سے ترقی کی جس کے باعث ملک بھر میں قائم نیشنل بک فاؤنڈیشن کی 24 آؤٹ لیٹس سے شائقین کتب نے لاکھوں کی تعداد میں کروڑوں روپے کی کتب خریدیں۔ صدر دفتر اسلام آباد میں پاکستان میں اپنی نوعیت کے پہلے نیشنل بک میوزیم کا قیام عمل میں لایا گیا جسے دیکھنے والے "A place of wisdom & wonder" کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ (اس میوزیم کے لیے سونے کے پانی اور جواہرات کے رنگوں سے ہاتھ کے لکھے ہوئے قرآن پاک کے 23 قدیم، قیمتی اور نایاب نسخے اور دیگر قدیمی کتب اور مخطوطے دسمبر 2014ء میں پروفیسر زاہد بٹ سے مفت عطیے میں حاصل کیے گئے جن کا اصل ہدیہ تقریباً 10 ملین روپے بنتا ہے)۔ مائی بک شیلف (جہاں سے لوگ روزانہ اپنی پسند کی کتابیں مفت لے جاتے ہیں اور رکھ بھی جاتے ہیں)، وال آف آٹوگراف، مختلف ایمبیسیوں کے مالی تعاون سے قائم کیے گئے نظامی گنجوی کارنر، حافظ شیرازی کارنر، کیموس کارنر، ابن خلدون کارنر اور ’’کوچہ کتاب‘‘ میں کتاب محراب بنوائے گئے۔ نیشنل بک پارک، یکی سنگی کتاب (ایک پتھر سے بنی 6 ٹن وزنی Stone Book)، بک وال کلاک، وال آف آنر، ’’شہر کتاب‘‘ اور دیگر کئی منصوبوں کا آغاز بھی اسی دور میں کیا گیا۔ ’’این بی ایف یونیورسٹی بک شاپس‘‘ کے منصوبے، ریلوے اسٹیشنوں اور ایئرپورٹس پر ٹریولرز بک کلبز کی تزئین نو اور دیگر مرکزی اہمیت کے مقامات بشمول موٹروے کے سی مارٹس پر این بی ایف بک شیلف، کلب بک شاپ اور ای بکس کے کامیاب آغاز کے باعث این بی ایف کے ان نتیجہ خیز منصوبوں سے ملک بھر کے عوام نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ ریڈرز بک کلب اسکیم کے نظام کو کمپیوٹرائزڈ کرکے اس کی ممبرشپ کے دائرے کو پورے ملک میں پھیلایا گیا اور اس سکیم کے تحت 2017-18ء میں کتابیں خریدنے والوں کو ساڑھے تین کروڑ روپے کی سبسڈی دی گئی اور ممبران کی خریداری کی حد 5 ہزار سے بڑھا کر 6 ہزار روپے کی گئی۔

18 ویں ترمیم کے بعد این بی ایف بطور فیڈرل ٹیکسٹ بک بورڈ بھی اپنی ذمہ داریاں بطریق احسن نبھا رہا ہے اور عالمی معیار کے مطابق بارہویں جماعت تک کی درسی کتب نئے گیٹ اپ اور صحت متن کے ساتھ ایف ڈی ای کے سکولوں اور کالجوں میں بروقت فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ این بی ایف علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی بعض کتب اور ٹیوٹا پنجاب کی کتابیں بھی شائع کر رہا ہے۔ بصارت سے محروم افراد کے لیے کراچی آفس میں بریل پریس کام کر رہا ہے جس کے ذریعے قرآن پاک، تیس پارے اور مختلف علمی کتابیں شائع کرکے مفت یا علامتی قیمت پر فراہم کی جاتی ہیں۔ اب اس سال کے اوائل میں بریل بکس کی تیز تر اشاعت کے لیے جدید کمپیوٹرائزڈ مشین لگائی گئی ہے اور جدید تقاضوں کے مطابق نئی کمپیوٹرائزڈ مشین کے حصول کے لیے 26.339 ملین روپے کا PC-1 منظور ہو چکا ہے۔ "Free Mind Prisoners Book Club" سکیم کے تحت جیل خانہ جات میں قیدیوں کے مطالعے کے لیے شیلف اور مفت کتابیں ڈسٹرکٹ جیل اڈیالہ، ڈسٹرکٹ جیل شاہ پور (سرگودھا)، ڈسٹرکٹ جیل جہلم، سنٹرل جیل ڈیرہ غازی خان، مظفر گڑھ جیل، سرگودھا جیل، قصور جیل، سنٹرل جیل لکی مروت اور ہائی سکیورٹی پرزن جیل ساہیوال میں فراہم کی گئیں۔ ایک اور سکیم "Supply of Books and Reading Material to other Countries" کے تحت بیرونی ممالک میں پاکستانی مشنز، ایمبیسیوں، پاکستان چیئرز اور یونیورسٹیوں کو (جن میں اردو پڑھائی جاتی ہے) ہر سال تقریباً 17 لاکھ روپے کی ایسی کتابیں بلا معاوضہ فراہم کی جاتی ہیں جو پاکستان کے روشن امیج اور پاکستانی ادب و ثقافت کو نمایاں کرنے میں ممد و معاون ہوتی ہیں۔ ہر سال قائداعظمؒ ، علامہ اقبالؒ اور تحریک پاکستان پر اردو، انگریزی یا کسی بھی پاکستانی زبان میں 16 سال تک کی عمر کے بچوں کے لیے چھپنے والی کتابوں پر مصنفین کو 50، 50 ہزار روپے کے نقد انعامات دیے جاتے ہیں۔ 2017-18ء میں چار لاکھ 70 ہزار روپے مالیت کے انعامات دیے گئے۔

مزید : ایڈیشن 2