قومی کتاب میلے کی جھلکیاں

قومی کتاب میلے کی جھلکیاں

O۔۔۔ کتاب میلے کے شرکاء سماعت گاہ کے اسٹیج کا وہ حصہ دیکھنے کے لیے آتے رہے۔جہاں پچھلے سال ایک شاعرہ فرزانہ نازگِر کر جاں بحق ہو گئی تھی۔

O۔۔۔اس سال کے قومی کتاب میلے سے بھی ایک موت وابستہ ہو گئی۔ ماؤتھ آرگن بجانے والے ایک مشہور فنکارشمس حیدر میلے سے گھر جاتے ہوئے راستے میں ٹریفک حادثے کا شکار ہو گئے اور جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

O۔۔۔بعض بک ایمبسیڈر کہتے رہے کہ ان کے لیے کتابوں کی خریداری کی حدریڈرز کلب کے عام ممبر سے زیادہ یعنی دس ہزار روپے ہونی چاہیے۔

O۔۔۔این بی ایف نے افتتاحی تقریب میں صدر مملکت کے لیے خصوصی شیلڈ تیار کرائی تھی جو انھیں عرفان صدیقی نے پیش کی لیکن تقریب کے بعد جب تمام سفیرانِ کتاب کھانا کھانے بیٹھے تو صدر صاحب کی شیلڈ وہاں موجود تھی۔ ان کا سٹاف شیلڈ لے جانا بھول گیا تھا۔

O۔۔۔اس بار میلے میں عالمی یوم کتاب کا ذکر نہیں کیا گیا۔

O۔۔۔جہاز کے ذریعے سے آنے والے سفیرانِ کتاب کو ائرپورٹ سے لانے کے لیے گاڑیاں اور عملہ متحرک تھا لیکن راولپنڈی ریلوے اسٹیشن پر آنے والے سفیرانِ کتاب کو لانے لے جانے کا کوئی بندوبست نہ تھا۔

O۔۔۔این بی ایف نے قومی کتاب میلے میں شرکت کے لیے آنے والے سفیرانِ کتاب کی خاطر داری کے لیے اکادمی ادبیات اور دیگر اداروں سے بھی عملہ طلب کر رکھا تھا۔

O۔۔۔اس سال قومی کتاب میلے کے اشتہارات اخبارات میں نہیں چھپے۔

O۔۔۔وزیراعظم کے مشیر عرفان صدیقی اور این بی ایف کے ایم ڈی انعام الحق جاوید عام کارکنوں کی طرح میلے میں ہر وقت موجود رہے۔

O۔۔۔کتاب خوانی کی محفل میں عدیل برکی کو بہت زیادہ داد ملی۔ وہ کھانے کی محفلوں میں شاعروں ،ادیبوں اور سفیرانِ کتاب کے ساتھ مل کر گانے گاتے رہے۔

O۔۔۔بک اسٹالز کی الاٹمنٹ شفاف بنانے کے لیے قرعہ اندازی کی گئی۔

مزید : ایڈیشن 2