پاکستانی جیلوں میں قید بھارتی جاسوس

پاکستانی جیلوں میں قید بھارتی جاسوس
پاکستانی جیلوں میں قید بھارتی جاسوس

  

پاکستان میں گزشتہ چند برسوں میں درجنوں بھارتی جاسوس پکڑے گئے۔ اِن میں سے کئی ایسے ہیں جو اپنی سزائیں مکمل کرکے واپس لوٹ گئے اور بعض آج بھی جیلوں میں قید ہیں۔

پنجاب کی مختلف جیلوں میں 209غیرملکی قیدی بند ہیں،ان میں سے 64 اپنی سزا پوری کر چکے ہیں، لیکن ان کے ممالک رابطے کے باوجود اپنے شہریوں کو واپس لینے کے لئے تیار نہیں۔

29بھارتی قیدی سزا پوری کرنے والوں میں شامل نئی دہلی واپس لینے کو تیار نہیں۔ 11بھارتی جاسوس بھی پنجاب کی جیلوں میں بند ہیں۔ 90غیر ملکی قیدی ایسے ہیں جن کے کیس مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔

52 کو عدالتوں نے مختلف سزائیں سنا رکھی ہیں، جبکہ 3کو عدالت نے سنگین جرائم پر سزائے موت سنائی جو قیدی اپنی سزا پوری کر چکے ہیں اور جیلوں میں بند ہیں،ان میں بھارتی قیدیوں کا کوئی والی وارث نہیں۔سزاپوری کرنے والوں میں بنگلہ دیش کے 17قیدی ہیں۔ پاکستان میں پکڑے جانے والے بھارتی ایجنٹوں کو مختلف نوعیت کی سزائیں سنائی جاتی رہی ہیں، تاہم آج تک صرف ایک جاسوس شیخ شمیم کو پھانسی دی گئی۔

دوسرا بھارتی جاسوس سربجیت سنگھ تھا جسے سزائے موت سنائی گئی، مگر وہ پھانسی پر چڑھائے جانے سے پہلے ہی جیل میں ایک قیدی کے حملے کرنے کی وجہ سے شدید زخمی ہوا اور لاہور کے جناح ہسپتال میں سات روز تک زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گیا تھا۔

بھارت نے آج تک اپنے کسی بھی جاسوس کے پکڑے جانے پر اتنا شور اور واویلا نہیں کیا جتنا کلبھوشن کو سزا سنائے جانے کے بعد دیکھنے میں آرہا ہے۔ کئی جاسوس تو ایسے تھے، جنہوں نے کئی سال پاکستانی جیلوں میں گزارے اور جب واپس بھارت گئے تو اِن کی حکومت نے پہچاننے سے بھی انکار کر دیا۔

وہ لوگ آج کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں،جبکہ کئی ایجنٹوں اور اُن کے خاندانوں کو مراعات سے نوازا بھی گیا۔ پاکستان میں گرفتار کئے جانے والے چند بھارتی جاسوسوں کے بارے میں خود بھارتی ذرائع ابلاغ نے رپورٹس شائع کی ہیں۔ اِن میں سے کئی ایجنٹ ایسے ہیں جو رہا ہوکر واپس جاچکے ہیں، جبکہ چند ایک آج بھی پاکستان کی جیلوں میں قید ہیں۔

کلبھوشن یادو سمیت چند ایسے بھارتی جاسوس ہیں، جن کے بارے میں پاکستانی عوام بہت کچھ جانتے ہیں اور اُن کے ناموں سے بھی واقف ہیں، جن میں کشمیر سنگھ اور سربجیت سنگھ سب سے نمایاں ہیں، لیکن کئی ایسے ہیں، جن کے بارے تفصیلات پاکستانی میڈیا میں شائع نہیں ہو سکی ہیں۔ ملٹری عدالت نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادو کو سزائے موت سنا دی ہے۔

کلبھوشن کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی مکمل ہونے پر مجرم قرار دیتے ہوئے پاکستان آرمی ایکٹ 1952ء کے سیکشن 59 اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923ء کے سیکشن 3 کے تحت سزائے موت،پاکستان میں جاسوسی، انتشار پھیلانے پر سنائی گئی۔

کلبھوشن سے پہلے بھی بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے کئی ایجنٹ گرفتار ہو چکے ہیں،جن میں 23سالہ رویندرا کو شک نامی بھارتی خفیہ ایجنٹ 1975ء میں پاکستان میں گرفتار ہوا۔

رویندرا کو بہت اعلیٰ تربیت دے کر بھیجا گیا تھا۔اس نے کئی سال ایک پاکستانی شہری کی حیثیت سے گزارے۔ نبی احمد شاکر کی خفیہ شناخت کے ساتھ رویندرا نے یہاں شادی بھی کی اور اس کے یہاں بچے بھی تھے۔

1983ء میں یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گرفت میں آیا۔رویندرا کو سزائے موت سنائی گئی تھی،تاہم بعدمیں سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس سزا کو عمر قید میں تبدیل کردیا تھا۔ یہ بھارتی جاسوس1999ء میں ٹی بی کے مرض میں مبتلا ہوکر ملتان جیل میں جہنم واصل ہوا۔

بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے افسر سربجیت سنگھ عرف منجیت سنگھ کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے لاہور اور فیصل آباد میں 1990ء میں ہونے والے بم دھماکوں میں 14 افراد کے جاں بحق ہونے کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

سربجیت سنگھ لاہور کی جیل میں قید تھا جہاں 26 اپریل 2013ء کو جیل میں ایک قیدی نے اس پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوا اور چھ دن بعد ہسپتال میں زیر علاج رہ کر دم توڑ گیا۔ایک اور بھارتی جاسوس سرجیت سنگھ پاکستان میں جاسوسی کے الزام میں گرفتار ہوا اور اسے ملٹری عدالت سے سزائے موت سنائی گئی تھی، تاہم اس نے اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان سے رحم کی اپیل کی، اس کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا گیا تھا۔ سرجیت سنگھ تقریبا تیس سال پاکستانی جیل میں قید رہا اور سزا کاٹ کرواپس بھارت لوٹ گیا۔

رام راج نامی بھارتی جاسوس کو 18 ستمبر 2004ء کو پاکستان میں داخل ہونے پر پاکستان کے ایک خفیہ ادارے نے اگلے ہی دن دھر لیا تھا۔ یہاں کی عدالتوں نے اسے چھ سال کی سزا سنائی۔ پاکستان میں آٹھ سال اپنی سزا مکمل کرنے کے بعدوہ بھی بھارت واپس لوٹ گیا۔

بلویر نامی بھارتی جاسوس 1971ء میں پاکستان میں داخل ہوا اور 1974ء میں گرفتار ہوا۔ بلویر کو 12 سال قید کی سزا سنائی گئی اور سزا کاٹنے کے بعد 1986ء میں بلویر کو رہا کر کے واپس بھارت بھیج دیا گیا۔

ست پال کو 1999ء میں بھارتی خفیہ ایجنسی نے کارگل جنگ کے زمانے میں پاکستان بھیجا،جہاں اسے خفیہ اداروں نے گرفتار کر لیا تھا۔ پاکستانی جیل میں قید اس بھارتی جاسوس کی ایک سال بعد جیل میں طبعی موت واقع ہوئی۔اس کی میت واپس بھارت بھیج دی گئی تھی۔

کشمیر سنگھ نامی جاسوس کو پاکستان کے خفیہ اداروں نے گرفتار کیا تھا تاہم حکومتِ پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بہتری کی نیت سے اسے انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر رہا کر کے واپس بھارت روانہ کردیا تھا۔

’’را‘‘ کے جاسوس رام پرکاش کو 1994ء میں پاکستان بھیجا گیاتھا۔ 1997ء میں بھارت واپس جاتے وقت وہ گرفتار ہوا اور اسے 10 سال کی سزا سنائی گئی۔

مزید : رائے /کالم