دل کی روشن آنکھیں

دل کی روشن آنکھیں
دل کی روشن آنکھیں

  

نپولین نے کہا تھا ناکامی کا لفظ میری ڈکشنری میں نہیں ہے۔ بھارتی فلم ’’چنائی ایکسپریس‘‘ میں شاہ رخ خان نے جب دپیکا سے کہا کہ ناکامی کا لفظ میری ڈکشنری میں نہیں ہے تو دپیکا نے کہا کہ کہاں سے خریدی ہے یہ بکواس ڈکشنری جس میں ناکامی لفظ ہی نہیں ہے۔

نپولین تاریخ کا حصہ ہیں، دپیکا فلم کا حصہ ہیں مگر سید سردار احمد پیرزادہ ہماری زندگی کا حصہ ہیں اور بہت ہی قابل فخر حصہ ہیں۔ آنکھوں کی روشنی جانے کے باوجود انہوں نے زندگی کی ڈکشنری سے عملی طور پر ناکامی کا لفظ نکال دیا۔

سید سردار احمد پیرزادہ ایک قومی اخبار کے کالم نویس ہیں۔ اے پی این ایس ان کی کالم نویسی کا لوہا مان کر انہیں ایوارڈ دے چکی ہے۔ اسلام آباد کے ایک ریڈیو پر خاصا مقبول پروگرام کرتے ہیں۔ ادارہ فروغ قومی زبان کے ایک علمی جریدے ’’اخبار اردو‘‘ کے مدیر اعلیٰ ہیں۔

ان کی متعدد کتابیں بھی شائع ہو چکی ہیں ۔سب سے بڑھ کر وہ ایک ایسے دوست ہیں جنہوں نے بہت سے دوستوں کو ان کی منزل تک پہنچنے میں مدد دی ہے۔

جن میں سے کئی خاصی شہرت بھی حاصل کر چکے ہیں۔ اسلام آباد سے خبر آئی ہے کہ نیشنل بک فاؤنڈیشن نے اپریل 2018ء میں ہونے والے نویں نیشنل بک فیسٹول میں سردار احمدپیرزادہ کو بک ایمبسیڈر مقرر کیا ہے اور ان کے پورٹریٹ اسلام آباد کی تمام اہم شاہراہوں پر نصب کر دیئے ہیں۔

ہم نیشنل بک فاؤنڈیشن کے افسران کو داد دیتے ہیں کہ انہوں نے اسلام آباد میں ایک ایسے علم اور کتاب دوست کو اپنا بک ایمبسیڈر مقرر کیا ہے جس کی آنکھیں نہیں بلکہ دل روشن ہے۔ وہ کتابوں کے عشق میں مبتلا ہے اور اس کے موبائل فون پر مسلسل کتابیں ڈاؤن لوڈ ہوتی رہتی ہیں اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے وہ ان کتابوں کو پڑھ اور سن سکتا ہے اور یہ کام وہ اتنی تیزرفتاری سے کرتا ہے کہ باقاعدہ حیرت ہوتی ہے۔

واقعات عالم ، تاریخ، سیاست غرض آپ کسی موضوع پر پیرزادہ سے گفتگو کر لیں وہ خود حیران ہوئے بغیر آپ کو حیرتوں کے سمندر میں دھکیل دیتا ہے۔

نرم دم گفتگو اور گرم دم جستجو پیرزادہ صاحب نے اپنی زندگی کی یہ کامیابیاں آنکھوں کی روشنی سے نہیں دل کی روشنی سے حاصل کی ہیں۔ ایک بیماری کی وجہ سے وہ بینائی سے محروم ہو گئے تھے۔

مگر وہ زندگی جینے کا ہنر سیکھ چکے ہیں اور ان کی کامیابیوں پر باقاعدہ فخر کیا جا سکتا ہے۔

سید سردار احمد پیرزادہ ہمارے کلاس فیلو ہیں۔ شعبہ صحافت پنجاب یونیورسٹی نے ہماری زندگی کو بہت کچھ دیا مگر سب سے خوبصورت اور قیمتی تحفہ پیرزادہ کی دوستی ہے۔ دورطالب علمی میں وہ رنگین شیشوں والی عینک لگاتے تھے۔

ہم اس عینک کو فیشن کا حصہ سمجھتے تھے مگر جب انہیں اس عینک کے ساتھ رات کے وقت بھی دیکھا تو شکوک پیدا ہوئے۔ ہمارے ایک استاد کا خیال تھا کہ شعبہ صحافت حکومت کی نظر میں بہت اہم ہے اس لئے وہ یہاں اپنے جاسوس داخل کراتی ہے۔

کئی ماہ تک ہم اپنی کلاس میں جاسوس تلاش کرتے رہے۔ پیرزادہ پر شبہ کرنے کی خاصی وجوہات تھیں۔خاصی مدت بعد پتہ چلا کہ پیرزادہ صاحب بینائی کے مسئلے کی وجہ سے عینک لگاتے تھے۔اس وقت ہم ان کی متعدد خوبیوں سے آگاہ ہو چکے تھے۔

ہم نے انہیں کبھی جاسوس نہیں سمجھا۔ مگر آج بھی ہمیں شبہ ہے کہ ان کا تعلق ان لوگوں سے ہو سکتا ہے جنہیں ممتاز مفتی اﷲ کے زیرو زیرو سیون کہتے تھے۔ وہ اس وقت بھی سب سے منفرد تھے۔

ان کی اکثر حرکات سے ایسا اندازہ ہوتا تھا جیسے وہ اس احساس میں مبتلا ہیں کہ ان کی ہر حرکت تاریخ کا حصہ بنے گی اور مستقبل کا مورخ ان کے متعلق معلومات اکٹھی کرنے شعبہ صحافت آئے تو اسے کوئی ایسی چیز نہ ملے جس سے ان کی عظمت پر حرف آنے کا خطرہ ہو۔ اس دور میں بھی لڑکوں کو لڑکیوں کو دوست بنانے کا شوق تھا مگر تب لڑکیاں اکثر لڑکوں کو بھائی بنا لیتی تھیں۔

ویسے جمعیت کے نوجوان اکثر یہ کہتے ہوئے پائے جاتے تھے کہ گھر والے شادی کے لئے زور دے رہے ہیں اور بہت سی بہنوں کے رشتے آ رہے ہیں۔تاہم ان لڑکیوں پرجن میں سے اب چند باقاعدہ نانی یا دادی کے عہدے پر فائز ہو چکی ہیں کسی کلاس فیلو نے یہ الزام نہیں لگایا کہ انہوں نے اپنے بچوں کو اپنے سابق کلاس فیلوز کو ماموں کہنے پر اکسایا ہو۔

مگر پیرزادہ صاحب کو متاثر ہونے کی بجائے متاثر کرنے کی عادت تھی۔ عام طور پر لوگ زلزلے اور سیلاب سے متاثر ہوتے ہیں مگر سچی بات ہے کہ چند ماہ میں ہی ہم پیرزادہ سے متاثر ہی نہیں ہوئے ان کی محبت میں بھی مبتلا ہو گئے اور گزشتہ 34 سال سے اس محبت کے اسیر ہیں۔عام طور پر لوگ اپنی خامیاں چھپاتے ہیں مگر پیرزادہ کو اپنی خوبیاں چھپانے کی عادت ہے۔

اپنی دوستی کے آغاز میں ہی ہمیں پتہ چلا کہ وہ بہت فراخدل ہیں۔ ہاسٹل میں ان کا کمرہ سب کے لئے کھلا تھا۔ وہ دوستوں کی خاطر تواضع کرکے خوش ہوتے تھے۔

کلاس روم کے برعکس وہ ہوسٹل میں لطیفوں پر دل کھول کر قہقہے لگاتے تھے۔ اکثر ایسے دوستوں کی مدد کرنے سے بھی باز نہیں آتے تھے جو دوستی کی کسی تعریف پر پورا اترنے کی کوشش نہیں کرتے تھے۔ وہ سمسٹرسسٹم کا مشینی دور نہیں تھا۔ سال کے بعد امتحان ہوتے تھے۔ جس میں کامیابی کے لئے یہ نادر نسخہ تجویز کیا جاتا تھا کہ بارہ میں سے دس ماہ یونیورسٹی لائف کو انجوائے کرو۔

گیارہویں مہینے نوٹس اکٹھے کرو۔ بارہویں مہینے امتحان دے دو۔فسٹ ڈویژن آ جائے گی۔ نوٹس بنانے کا کام اکثر لڑکیاں کرتی تھی اور ان سے اچھے بلکہ بعض صورت خواہرانہ تعلقات کا فائدہ یہ ہوتا تھا کہ نوٹس بروقت مل جاتے تھے۔ جو طلبا ایسا نہیں کرتے تھے وہ اکثر سیکنڈ ڈویژن میں ہی پاس ہوتے تھے۔

سردار پیرزادہ نے پنجاب یونیورسٹی میں بھرپور زندگی گزاری مگر پلیز بھرپور کا ترجمہ رنگین مت کیجئے گا۔ صحافت کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ اسلام آباد چلے گئے۔ مقتدرہ قومی زبان میں ملازمت اختیار کر لی۔

اس ادارے نے ان کے لئے روزگار کے دروازے ہی وا نہیں کئے بلکہ یہاں انہیں شریک حیات بھی مل گئیں۔ میں اپنی اہلیہ کے ساتھ ان کی شادی میں شرکت کے لئے اسلام آباد گیا۔

جس میں اسلام آباد کی متعدد اہم شخصیات موجود تھیں۔ حتیٰ کہ مولانا عبدالستار خان نیازی بھی خصوصی طور پر اس تقریب میں شرکت کرنے کے لئے آئے تھے۔

بھارتی فلم ’’تھری ایڈیٹ‘‘ میں ایک کردار کہتا ہے کہ اگر دوست فیل ہو جائے تو دکھ ہوتا ہے لیکن اگر وہ فسٹ آ جائے تو زیادہ دکھ ہوتا ہے۔ مگر سچی بات ہے پیرزادہ کی کامیابی کی کوئی خبر ملتی ہے تو حد سے زیادہ خوشی ہوتی ہے۔ پیرزادہ صاحب مقتدرہ قومی زبان میں افسر تھے۔ آج بھی وہاں افسر ہیں۔

اس ادارے میں افسر بھرتی ضرور ہوتے ہیں مگر یہ ادارہ اپنے افسروں کو ترقی سے محروم رکھنے کے لیے بھرپور جدوجہد کرتا ہے۔ وزیر خزانہ نجی محفلوں میں اس ادارے کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے یہ ضرور کہتے ہوں گے کہ مقتدرہ قومی زبان والے ان سے کچھ ڈیمانڈ نہیں کرتے اور بیس بیس سال افسروں کو ایک ہی گریڈ میں رکھ کر انہیں غیر معمولی صبر کرنے کی عادت میں مبتلا کرتے ہیں۔ یوں قومی خزانے پر کسی طرح بوجھ نہیں بنتے۔

جب بھی اسلام آباد جانا ہوتا ہے، پیرزادہ صاحب میرے میزبان ہوتے ہیں۔ اگر ہوٹل میں قیام کروں تو اصرار کے ساتھ کھانے پر ضرور بلاتے ہیں۔ ان کے گھر میں ہی معروف کالم نگار جاوید چودھری سے پہلی ملاقات ہوئی۔ پیرزادہ اپنے دوستوں سے مل کر بہت خوش ہوتے ہیں۔ وہ جاوید چودھری کی بھی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ دونوں میں بہت زیادہ دوستی تھی مگر اب ماشا اﷲ جاوید چودھری بہت بڑے ہو گئے ہیں۔

اتنے بڑے ہو گئے ہیں کہ اب ان کے پاس دوستوں کے لیے وقت نہیں ہوتا۔ تاہم ہماری دعا ہے کہ اﷲ ان کی عزت اور شہرت میں مزید اضافہ کرے اور دوستوں کے لئے نہیں تو کم از کم ان کے پاس اپنے لیے ضرور وقت باقی رہے۔ کیونکہ عزت اور شہرت انسان کو اکثر سرابوں کا تعاقب کرنے کی عادت میں مبتلا کر دیتی ہے۔

دور طالب علمی میں پیرزادہ کو بینائی کا مسئلہ تھا مگر چند سالوں بعد ان کی بینائی مکمل طور پر چلی گئی۔زندگی کے اس امتحان میں انہوں نے مایوسی کے اندھیروں میں جانے سے انکار کر دیا۔وہ باقاعدگی کے ساتھ کالم لکھتے ہیں۔

ان کے کالموں میں سادگی، برجستگی، بصیرت اور علم سے ملاقات ہوتی ہے۔ ان میں گہری فکر کی جھلک ملتی ہے۔ وہ معاشرتی، سیاسی، معاشی اور ایسے معاملات کو اپنے کالموں کا موضوع بناتے ہیں جو کسی نہ کسی طرح ہماری قومی زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔ کالم میں کسی واقعہ کو بیان کرتے ہیں تو گویا اس کی تصویر بنا دیتے ہیں۔سید سردار احمد پیرزادہ میرے دوست ہی نہیں ہیں، میرے ہیرو بھی ہیں۔ ان سے ملاقات ہوتی ہے۔

اپنی کوتاہیوں کا احساس ہوتا ہے ۔ ان کی آنکھوں میں روشنی نہیں مگر ان کا دل خوب روشن ہے۔ انہوں نے زندگی کا حق ادا کر دیا ہے۔ ان کے بھائی ان سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔

کہتے ہیں کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ ہماری بھابھی لبنیٰ پیرزادہ کے دونوں ہاتھ پیرزادہ کے ساتھ ہیں۔ وہ ہمیشہ زندگی سے مطمئن نظر آتے ہیں۔

وہ اپنے شوہر کی آنکھیں بن گئی ہیں۔ ان کا بیٹا سلمان پیرزادہ پاک فوج میں افسر ہے تو دوسرا بیٹا عثمان پیرزادہ عالمی سطح پر انفارمیشن ٹیکنالوجی میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہا ہے۔

اپنے روشن دل کے ساتھ پیرزادہ زندگی کی شاہراہ پر تیزی سے سفر کر رہا ہے۔ کسی شاعر نے اپنی محبوبہ کے لیے کہا تھا کہ تم جیسا تو کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔ سچی بات تو یہ ہے کہ پیرزادہ تو جیسا بھی کوئی دوسرا ہو ہی نہیں سکتا۔

مزید : رائے /کالم