ووٹ: جادو کی چھڑی

ووٹ: جادو کی چھڑی
ووٹ: جادو کی چھڑی

  

کیا پاکستان کو ٹھیک کرنے کے لئے کسی کے پاس جادو کی چھڑی ہے، جادو کی چھڑی اس لئے کہا ہے کہ جس انداز سے ملک کو مسائل کی دلدل میں اتار دیا گیا ہے، آسان نظر نہیں آتا کہ اسے دلدل سے نکال لیا جائے گا، البتہ کوئی جادو کی چھڑی ہو تو شاید یہ معجزہ ہو جائے، ایسے میں چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار جب یہ کہتے ہیں کہ قوم دیکھے گی ہم ملک کو دلدل سے کیسے نکالتے ہیں تو لگتا ہے ان کے ہاتھ میں بھی کوئی جادو کی چھڑی آچکی ہے، ملک کی کون سی کل سیدھی ہے جس کی امید پر دوسرے شعبوں کے ٹھیک ہوجانے کی امید رکھی جائے، نظامِ سیاست بھی اپنی جڑیں مضبوط نہیں کرسکا اور آج بھی دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کسی وقت بھی اس کی بساط لپیٹ دی جائے گی، اکثر لوگ سوال کرتے ہیں کہ آئندہ انتخابات میں کیا عمران خان کو کامیابی ملے گی، پھر ساتھ ہی یہ سوال بھی داغتے ہیں کہ کیا وہ ملک کے حالات کو بہتر بنانے میں کامیاب رہیں گے، کیا وہ ایک کامیاب حکمران ثابت ہوں گے، اب ان سوالوں کا کیا جواب دیا جاسکتا ہے، وقت سے پہلے تو صرف پیش گوئی کی جاسکتی ہے اور پیش گوئیوں میں آج کل شیخ رشید کا طوطی بول رہا ہے، ان کی پیش گوئیوں کے مقابلے میں بھلا کون پیش گوئی کرسکتا ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ عمران خان کا ایک بڑی اکثریت سے جیتنا ان کے حکمران بننے کی بنیادی شرط ہے، وہ اگر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی سے تحریکِ انصاف میں آنے والوں کے ذریعے ایک بڑی اکثریت حاصل کرنا چاہتے ہیں، تو یہ خواہش خواب و خیال بھی ثابت ہوسکتی ہے، عوام میں انہوں نے جگہ تبدیلی کے نعرے سے بنائی ہے، اگر اس تبدیلی کو وہی پرانے چہرے اچک لیتے ہیں تو عوام شاید ان سے مایوس ہوجائیں۔

اس مفروضے میں کس حد تک سچائی ہے کہ نگران حکومتیں بنتے ہی مسلم لیگ ن ٹوٹ پھوٹ جائے گی، اس کے تمام حمایتی تتر بتر ہوجائیں گے اور اکثر حامی مسلم لیگ (ن) کی ٹکٹ پر نہیں بلکہ آزاد حیثیت سے لڑنے کو ترجیح دیں گے اس کی وجوہات ماورائی قسم کی ہیں، مثلاً یہ کہ مسلم لیگ (ن) کے موجودہ ارکانِ اسمبلی نواز شریف کی نا اہلی کے بعد سے خاصی مایوسی کا شکار ہیں، انہیں نیب کے حوالے سے بھی اپنا مستقبل خطرات کا شکار نظر آتا ہے، تو کیا وہ نگران حکومتوں کے بنتے ہی نئے گھونسلوں کی طرف پرواز کر جائیں گے، پیپلز پارٹی پہلے ہی بے اثر نظر آتی ہے، مسلم لیگ (ن) منظر سے غائب ہوجائے گی اور صرف تحریک انصاف میدان میں ہوگی، توکیا گلیاں سنجیاں ہوجائیں گی اور درمیان میں مرزا یار مزے سے گھوم رہا ہوگا۔

مگر ایسا بھلا کیونکر ہوسکتا ہے، نواز شریف انتخابی سیاست سے آؤٹ ہوئے ہیں سیاست میں تو پوری طاقت سے موجود ہیں، ان کا ووٹ بنک بھی ہے اور 2018ء کے انتخابات میں انہیں ہمدردی کا ووٹ ملنے کی بھی امید ہے، ایسے میں میدان کھلا ملنے کی تھیوری کچھ زیادہ لگا نہیں کھاتی، البتہ یہ ضرور ہے کہ وہ انتخابی مہم میں بلند باگ دعوے نہیں کرسکتے، مثلاً لوڈشیڈنگ کے حوالے سے دعویٰ گرمیاں آتے ہی جھاگ کی طرح بیٹھ گیا ہے، اب اگر وہ انتخابی مہم میں لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لئے مزید پانچ سال مانگتے ہیں تو ان کا بہت مذاق اڑایا جائے گا، ان کے پاس گھوم پھر کر صرف ایک ہی بات رہ جاتی ہے کہ وہ ووٹ کی عزت کے نام پر اپنی انتخابی مہم چلائیں، عوام اس سے متاثر ہوتے ہیں یا نہیں یہ تو وقت بتائے گا، تاہم یہ بھی لگتا ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز کو اب کم از کم میڈیا پر کھل کر ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ جاری رکھنے میں مشکل پیش آئے۔

’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا مطالبہ وہ عدلیہ، فوج اور اسٹیبلشمنٹ سے کرتے رہے ہیں کیونکہ سیاستدانوں کا تو یہ مسئلہ نہیں ہے، اب عدلیہ پر تنقید کا معاملہ عدالتی حکم سے گرفت میں آگیا ہے، فی الوقت عدالت عالیہ نے پیمرا کو حکم دیا ہے کہ وہ نواز شریف اور مریم نواز کے عدلیہ مخالف بیانات ٹی وی چینلوں پر نہ چلنے دے، اب ظاہر ہے یہ پیمرا کے لئے ایک پیچیدہ صورت حال ہے، لاہور ہائیکورٹ نے نواز شریف یا مریم نواز کی تقاریر پر پابندی نہیں لگائی بلکہ صرف یہ کہا ہے کہ ان کی عدلیہ مخالف تقاریر کو روکا جائے۔ آج کل جبکہ تقریریں لائیو کاسٹ ہوتی ہیں، ساری تقریر پر پابندی لگائے بغیر کیونکر اس امر کو یقینی بنایا جاسکتا ہے کہ ٹی وی پر عدلیہ مخالف بیان نہ چلے، اس لئے ٹی وی چینلوں کو یا تو وقفے کے ساتھ تقریر ٹیلی کاسٹ کرنا ہوگی یا پھر تقریر کا مکمل بائیکاٹ کرنا ہوگا، یاد رہے کہ جب لاہور ہائیکورٹ نے ایم کیو ایم کے قائد کی براہ راست تقریروں اور خطابات پر پابندی لگائی تھی تو اس میں یہ نہیں کہا تھا کہ الطاف حسین فلاں تقریر کرسکتے ہیں اور فلاں نوعیت کی تقریر نہیں کرسکتے بلکہ ان کی تقریر تو کیا تصویر اور آواز پر بھی پابندی عائد کردی گئی تھی، یہاں معاملہ دوسرا ہے، نواز شریف اور مریم نواز کو صرف عدلیہ مخالف تقاریر سے روکنے کے لئے حکم جاری کیا گیا ہے، ظاہر ہے یہ بہت مشکل کام ہے، براہ راست تقریر کرنے والا کسی وقت بھی کچھ کہہ سکتا ہے، ایسے میں اسے کیسے روکا جائے؟ سو امکان یہی ہے کہ پیمرا نواز شریف اور مریم نواز کی براہ راست تقاریر پر پابندی لگادے گا وگرنہ پیمرا کے چیئرمین کو توہین عدالت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

بنتے بگڑتے عجیب سیاسی منظر نامے میں کوئی امید کی کرن کیسے تلاش کرسکتا ہے؟ انتخابات امید کی کرن ہوتے ضرور ہیں کہ ان سے نئی قیادت اور حکومت قائم ہونے کا امکان ہوتا ہے، لیکن یہاں تو نیا کچھ بھی نہیں ہے، قحط الرجالی کا یہ عالم ہے کہ پارٹیوں کو امیدوار ہی نہیں ملتے اور وہ دوسری جماعتوں کے امیدوار توڑنے کی کوششوں میں غلطاں نظر آتی ہیں۔

ہم امید تو مٹی کے مادھو سے بھی باندھ لیتے ہیں، مثلاً اس وقت بہت سا زور اس نکتے پر لگایا جارہا ہے کہ ملک کا نگران وزیراعظم کون بنے گا، صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کون نامزد کرے گا، اور وہ کون ہوں گے؟ آج کل کے منظر نامے میں جب اسمبلی سے منتخب ہونے والے وزیراعظم کی کوئی حیثیت نظر نہیں آرہی تو ایک نگران وزیراعظم کی کیا ہوگی، اسے کٹھ پتلی کی طرح نچایا جائے گا، مگر نگران وزیراعظم کے انتخاب کے لئے گھمسان کا رن پڑا ہوا ہے۔ تحریک انصاف نے نام دے دیئے ہیں، اب پیپلز پارٹی اور حکمران جماعت کے ناموں کا انتظار ہے، نام سامنے آئیں گے تو نیا پنڈو را بکس کھل جائے گا، اعتراضات ہوں گے، کیڑے نکالے جائیں گے، گویا ایک طرح سے یہ تاثر دیا جائے گا کہ کوئی ایک شخص بھی ہمارے پورے انتخابی نظام کو تہہ و بالا کرسکتا ہے، اتنی مضبوط اور سرگرم عدلیہ اور جمہوریت کے ساتھ کمیٹڈ فوج کی موجودگی میں ایک نگران وزیراعظم کیا تیر چلا سکتا ہے، مگر چونکہ کوئی نہ کوئی ایشو پیدا کرنا ہے، اس لئے اور کچھ نہیں تو نگران سیٹ کے بارے میں ہی ایسا ابہام پیدا کرکے کام چلایا جاتا ہے، یہ سب کمزور جمہوریت اور نظامِ سیاست کی نشانیاں ہیں، مضبوط سیاسی نظام اور جمہوریت کی موجودگی میں کسی فرد واحد کی کوئی اہمیت نہیں ہوسکتی، مگر یہاں تو آخر وقت تک یہ کوشش کی جاتی ہے کہ کسی طرح نگران سیٹ اپ اپنی مرضی کا لا کر مطلوبہ نتائج حاصل کئے جائیں۔

35 پنکچرز کی کہانیاں سننے والی قوم شفاف انتخابی عمل کو ایک خواب سمجھتی ہے، ووٹ کی پرچی بیلٹ بکس مں ڈالنے تک ووٹر کو یقین نہیں ہوتا کہ اس نے جو فیصلہ دیا ہے اس کی کوئی اہمیت بھی ہوگی، ووٹ کو عزت دو والا معاملہ تو آج کی داستان ہے حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں عوام کو آخر دم تک معلوم نہیں ہوتا کہ انہوں نے جو فیصلہ دیا ہے اس کا احترام بھی کیا جائے گا یا نہیں۔

حالانکہ یہ بات عوام کے ذہن میں آ جانی چاہئے کہ ملک کو دلدل سے نکالنے کے لئے جادو کی اصلی چھڑی عوام کے پاس ہے، ہر پانچ سال بعد اب انہیں اپنے نمائندے منتخب کرنے کا موقع مل رہا ہے، پہلے تو یہ کہا جاتا تھا کہ پاکستان میں جمہوریت تسلسل کے ساتھ موجود نہیں رہتی اور درمیان میں فوجی آمریت آجاتی ہے، اب ایسا نہیں ہے، عوام کو مسلسل تیسری بار اپنے نمائندوں کے انتخاب کا موقع مل رہا ہے، اب انہیں بھی لائی لگ بننے سے باز آ جانا چاہئے، ووٹ کو جادو کی چھڑی سمجھیں جو ملک و قوم کی تقدیر بدل سکتی ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ اس چھڑی کا استعمال سوچ سمجھ کر کیا جائے، عام انتخابات گلی محلے کی سطح پر سوچنے کے لئے نہیں ہوتے بلکہ ان کا مقصد قومی سطح پر ملک کے حوالے سے سوچنا ہوتا ہے، جہاں ایک طرف انہیں اپنا نمائندہ سوچ سمجھ کر چننا چاہئے تو دوسری طرف اس جماعت کا بھی انتخاب کرنا چاہیئے جو بالغ نظر ہے اور جس کا مقصد ملک کو دلدل سے نکال کر خوشحالی کی طرف لے جانا ہے، ووٹ کو عزت دو تو ایک التجا ہے ایک مطالبہ ہے، لیکن ووٹ کو جادو کی چھڑی کے طور پر استعمال کرنا در حقیقت ایک فیصلہ ہے، جو قوم اور ملک کو اس خواب کی تعبیر دے سکتا ہے جو ستر برسوں سے تشنۂ تعبیر چلا آ رہا ہے۔

مزید : رائے /کالم