100اور 50والے اشٹام پیپر نایاب ، جعلساز مافیا بلیک میں فروخت کرنے لگا

100اور 50والے اشٹام پیپر نایاب ، جعلساز مافیا بلیک میں فروخت کرنے لگا

لاہور(عامر بٹ سے )صوبائی دارالحکومت میں اشٹام پیپر کی قلت، جعلسازوں کی چاندی لگ لگئی، جبکہ خزانہ برانچ کے اہلکارو ں نے 50روپے والے اشٹام پیپر کی کاپی15،15ہزار روپے میں بلیک میں فروخت کرتے ہوئے دنوں میں لاکھوں روپے کمائے۔ بورڈ آف ریونیو کا شعبہ ٹیکسز برانچ میں اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل خزانہ برانچ کے اہلکاروں اور جعلسازوں کے خلاف تاحال قانونی کارروائی کرنے سے قاصر نظر آئے روز نامہ پاکستان کے سروے کے دوران معلوم ہوا کہ صوبائی دارالحکومت میں50,100روپے کے اشٹام کی خود ساختہ قلت ہونے کے باعث نایاب ہونے والے اشٹام پیپرز بلیک میں فروخت کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے، شہری محمد قاسم، رمضان ،اویس، اخلاق، تنویر نے آگاہی دی کہ 50روپے والے اشٹام پیپرز کی کاپی روٹین میں5ہزارروپے کی دی جاتی تھی مگر اب وہ کاپی 15,15ہزار روپے میں بلیک میں فروخت کی گئی ہے۔ اس طرح 100روپے والے اشٹام بھی بلیک میں 18ہزار روپے میں بیچے گئے ہیں جوکہ پہلے10ہزار روپے میں فروخت کی جاتی تھی سائلین محمد اختر،فاروق شرجیل اور محمد رضا نے انکشاف کیا ہے کہ ضلع کچہری، کینٹ کچہری اور ماڈل ٹاؤن کچہری میں 50 اور 100روپے کے جعلی اشٹام پیپرزکی کاپی اندھا دھند بنیادوں پر سرعام فروخت کی جارہی ہے جس کی تمام تر اطلاعات ملنے کے باوجود خزانہ برانچ کا عملہ خاموش بیٹھا ہے بلکہ بعض خزانہ برانچ کے اہلکار بھی اس جعلسازی کے کاروبار میں شریک ہیں دوسری جانب ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل راؤ امتیاز کا کہنا ہے کہ جعلسازی میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائیگی اور بلیک میں فروخت کرنے والے ملازمین کے خلاف تحقیقات کا آغاز کردیا جائے گا۔

اشٹام

مزید : میٹروپولیٹن 1