این اے 130میں انتخابی سرگرمیوں کا آغاز ، امید واروں کی ٹکٹوں کیلئے کوششیں تیز

این اے 130میں انتخابی سرگرمیوں کا آغاز ، امید واروں کی ٹکٹوں کیلئے کوششیں تیز

لاہور(دیبا مرزا سے) ملک بھر کی طرح لاہور کے پرانے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 130اور نئے حلقہ این اے 128میں بھی حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) اورتحریک انصاف نے اندرون خانہ الیکشن کی تیاریوں کا سلسلہ شروع کردیا ہے اور آئندہ الیکشن لڑنے کے خواہش مند امیدواروں نے پارٹی ٹکٹوں کے حصول کے لئے بھی جدوجہد شروع کردی ہے ابتدائی طور پر اس حلقہ سے تحریک انصاف کی طرف سے دو مضبوط امیدوار سامنے آئے ہیں جن میں ملک عثمان حمزہ اعوان ہزاروں کی تعداد میں رجسٹرڈ ووٹرز کی مکمل حمایت رکھتے ہیں جبکہ اعجاز ڈیال جو اس سے قبل بھی تین مرتبہ الیکشن لڑ چکے ہیں وہ بھی ایک مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آگئے ہیں ۔دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کی طرف سے موجودہ ایم این اے شیخ روحیل اصغر کا نام لیا جارہا ہے جبکہ ان کے ساتھ (ن) لیگ کے ایم پی ایز کے امیدواروں میں عوامی نمائندے کے طور پر راشد کرامت بٹ جو کہ اسی حلقہ سے چیئرمین یونین کونسل بھی ہیں کا نام لیا جارہا ہے اسی طرح سے پیپلز پارٹی کی طرف سے اس قومی اسمبلی کے حلقہ سے لاہور کے جنرل سیکرٹری و چیئرمین یونین کونسل لکھو ڈہر اسرار بٹ کا بطور امیدوار نام لیا جارہا ہے اسی طرح سے اس حلقہ کی صوبائی نشستوں سے مسلم لیگ (ن) کی طرف سے عمران اکرم بٹ‘ ملک منصب فرمائش امیدوار کے طور پر بھی سامنے آئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق یہ حلقہ مجموعی طور پر ساڑھے سات لاکھ کی آبادی پر مشتمل ہے اس حلقہ سے موجودہ ایم این اے سہیل شوکت بٹ ہیں جن کا تعلق (ن) لیگ سے ہے لیکن نئی حلقہ بندیوں کے بعد اب ان کا حلقہ تبدیل ہو چکا ہے اور اب (ن) لیگ کی طرف سے موجودہ ایم این اے شیخ روحیل اصغر کا نام یہاں سے سامنے آیا ہے اسی طرح سے ان کے ساتھ صوبائی نشست پر مضبوط امیدوار میں چیئرمین یونین کونسل راشد کرامت بٹ کا نام نمایاں ہے جبکہ (ن) لیگ کی ہی طرف سے عمران اکرم بٹ اور ملک منصب فرمائش بھی متحرک ہیں ۔دوسری جانب پی ٹی آئی کے ملک عثمان حمزہ اعوان اعوان برادری کے دس سے بارہ دیہاتوں کے متفقہ امیدوار ہیں کیونکہ یہ سب اعوان برادری سے تعلق رکھتے ہیں اور اسی وجہ سے یہاں سے ملک غلام حبیب اعوان جو کہ عثمان حمزہ کے کزن بھی ہیں وہ بھی اعوانوں کے ووٹوں کے بل بوتے پر ایم پی اے منتخب ہو گئے تھے اسی طرح سے اعجاز ڈیال جن کو یہاں کی ڈیال برادری کی مکمل حمایت اور سپورٹ حاصل ہے وہ بھی ایک مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آئے وہ اب تک تین مرتبہ الیکشن لڑ چکے ہیں لیکن تینوں مرتبہ ہی ہار ے ہیں ۔یہاں پر یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ 2002 اور 2008کے عام انتخابات میں اس نشست کو پیپلز پارٹی کی ثمینہ گھرکی جیتنے میں کامیاب ہوئی تھیں لیکن سال 2013کے انتخابات میں (ن) لیگ کے سہیل شوکت بٹ نے ان کو شکست دیدی تھی لیکن اب پیپلز پارٹی کی طرف سے اسرار بٹ کا نام لیا جارہا ہے تو چونکہ وہ بھی لاہور تنظیم کے جنرل سیکرٹری ہیں اور وہ پیپلز پارٹی کے واحد چیئرمین ہیں جو کہ بلدیاتی الیکشن جیتنے میں کامیاب ہو ئے تھے اس لئے سیاسی طور پر ان کو بھی ایک مضبوط امیدوار قرار دیا جا سکتا ہے ۔اس حلقہ کی اہم آبادیوں میں جلو موڑ‘ اتوکے اعوان‘ بھسین گاؤں‘ مناواں‘ گوجران ۃانڈو‘ لکھو ڈہر‘ ستح گڑھ‘ داروغہ والا‘ سلامت پورہ ‘ مومن پورہ سمیت دیگر آبادیاں شامل ہیں ۔

حلقہ

مزید : میٹروپولیٹن 1