انضمام الحق نے فواد عالم کا معاشی قتل کیا ، راشد لطیف سکواڈ سے اخراج پر نالاں

انضمام الحق نے فواد عالم کا معاشی قتل کیا ، راشد لطیف سکواڈ سے اخراج پر نالاں

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)قومی ٹیم کے سابق کپتان اور مایہ ناز وکٹ کیپر راشد لطیف نے دورہ انگلینڈ اور آئرلینڈ کے لیے اعلان کردہ قومی سکواڈ پر سلیکشن کمیٹی کی قابلیت پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔انہوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں 55.35 کی اوسط کے حامل فواد عالم کے قومی اسکواڈ سے مستقل اخراج پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔راشد لطیف نے کہا کہ جب قومی ٹیم کی بیٹنگ لائن کو تجربے کی اشد ضرورت تھی تو ایسے میں فواد کو کیوں منتخب نہیں کیا گیا۔میرا انضمام الحق سے سیدھا سا سوال ہے۔ جب مشکل کنڈیشنز میں ہونے والے تین ٹیسٹ میچوں کے لیے فواد سلیکٹرز کی حکمت عملی کا حصہ نہیں تھے تو انہیں دورے سے قبل لگائے گئے کیمپ میں کیوں طلب کیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ آپ تصور کریں کہ فواد عالم نے اپنا آخری ٹیسٹ میچ 2009 میں کھیلا تھا جب وہ صرف 23 سال کے تھے۔ مجھے انہیں دیکھ کر بہت تکلیف ہوتی ہے کیونکہ انضمام الحق سے قبل نیشنل سلیکشن کمیٹی کے دیگر سربراہان محسن حسن خان، محمد الیاس اور ہارون رشید نے بھی اعلیٰ سطح پر قومی ٹیم کی نمائندگی کے فواد عالم کے حق کو ان سے چھین لیا۔ یہ ایسا ہے کہ جیسے کسی سنگین جرم میں ملوث مجرم کو سزائے موت دی گئی ہو۔ آج کل ایک ٹیسٹ پلیئر کو جتنا معاوضہ دیا جا رہا ہے اسے دیکھتے ہوئے انضمام الحق نے فواد عالم کا معاشی قتل کیا۔ انہوں فخر زمان کے انتخاب پر خدشہ ظاہر کیا کہ بائیں ہاتھ کے بلے باز آئرلینڈ اور انگلینڈ کی کنڈیشنز میں جدوجہد کریں گے۔جب اظہر علی اور سمیع اسلم کے ساتھ تیسرے اوپنر کے طور پر امام الحق موجود تھے تو آخر فخر کو بیک اپ کے طور پر کیوں ٹیم میں رکھا گیا جبکہ تین اوپنرز کافی تھے؟۔ سلیکشن کمیٹی کی جانب سے چوتھے اوپنرز کے انتخاب سے ٹیم کا توازن خراب ہوا ہے۔ مجھے یہ بات بھی سمجھ نہیں آئی کہ انضمام نے آئندہ سال ہونے والے ورلڈ کپ کو مدنظر رکھتے ہوئے کھلاڑیوں کو انگلش کنڈیشنز کا تجربہ فراہم کرنے کی بات کیوں کی۔ جن کھلاڑیوں کو منتخب کیا گیا ہے ان میں سے کتنے کھلاڑی ورلڈ کپ میں موجود ہوں گے؟۔ کیونکہ اظہر علی، اسد شفیق اور سمیع اسلم یقیناً ورلڈ کپ اسکواڈ کا حصہ نہیں ہوں گے۔

اور میرا نہیں خیال کہ فخر زمان ان ٹیسٹ میچوں میں کھیل سکیں گے تو آخر اس بیان کی کیا منطق ہے کیونکہ ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی20 مکمل طور پر مختلف فارمیٹ ہیں۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی