امریکی سپریم کورٹ نے تارکین وطن کو ملک بدر کرنے کا قانون مسترد کر دیا

امریکی سپریم کورٹ نے تارکین وطن کو ملک بدر کرنے کا قانون مسترد کر دیا

واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف) امریکی سپریم کورٹ نے منگل کی صبح تارکین وطن کو ملک بدر کرنے کے قانون کو کثرت رائے سے مسترد کردیا۔ 9 ججوں پر مشتمل فل بنچ میں چار کے مقابلے پر پانچ ججوں نے جرائم میں ملوث تارکین وطن کو ملک بدر کرنے کے قانون کو منسوخ کرتے ہوئے اپنے فیصلے میں اسے انتہائی غیر واضح قرار دیا۔ ٹرمپ انتظامیہ کو دھچکا پہنچانے والے اس حکم میں نئے جج نیل گورش نے فیصلہ کن کردار ادا کیا جنہوں نے چار لبرل ججوں کے ساتھ اپنا پانچواں ووٹ دے کر اس فیصلے کو ممکن بنا دیا۔ فل بنچ نے فیصلہ کرنا تھا کہ کونسا جرم پرتشدد شمار ہوگا جس کے نتیجے میں ملک بدری کا قانون حرکت میں آتا ہے۔ فل بنچ نے پرتشدد جرم کے بارے میں قانون کو غیر واضح قرار دیا جس کے بعد یہ قانون عملاً غیر موثر ہوگیا ہے۔ تازہ مقدمہ فلپائن سے تعلق رکھنے والے ایک تارک وطن جیمز ڈیمایا کے بارے میں تھا جو 1992ء میں 13 سال کی عمر میں امریکہ آیا تھا۔ اس پر نقب زنی کا الزام تھا۔ حکومت کا موقف تھا کہ اس جرم کی بنا پر اسے ملک بدر کیا جاسکتا ہے۔ امریکہ کی اعلیٰ ترین عدالت نے اپنے فیصلے میں بتایا کہ امیگریشن سے متعلق زیادہ تر جرائم پرتشدد نہیں ہیں اس لئے ان کی بنا پر انہیں ملک بدر نہیں کیا جاسکتا۔ سان فرانسسکو کی اپیل کورٹ نے اس ملزم کے جرم کو پرتشدد تسلیم نہیں کیا اور ملک بدری کے خلاف فیصلہ دیا۔ اب سپریم کورٹ نے اپیل کورٹ کے فیصلے کو منظور کرکے عام جرائم میں ملک بدری کا راستہ مستقل بند کردیا۔

ملک بدری مسترد

مزید : علاقائی