زبان بندی والا دور نہیں رہا ، عوام کا فیصلہ نہ مانا تو انتشار پھیلے گا ، سب کو کہتا ہوں درگزر کر کے آگے بڑھیں : نواز شریف

زبان بندی والا دور نہیں رہا ، عوام کا فیصلہ نہ مانا تو انتشار پھیلے گا ، سب کو ...

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوزایجنسیاں) سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی پوری تاریخ ووٹ کی پامالی کے تماشے سے بھری پڑی ہے ،ووٹ کو عزت دو کا نعرہ تاریخی المیے نے جنم دیا۔ملک میں غیر مہذب پابندیاں نہیں لگائی جاسکتیں، لوگوں کی زبان بندی کی گئی، میری بھی زبان بندی کی گئی، ہم کسی کی زبان بندی نہیں کرسکتے، یاد رکھیں جتنی مرضی زبان بندی کرلیں جیت ہماری ہوگی۔اسلام آباد کی احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ میں عوام کی رائے کو بار بار کچلا گیا اور جمہوری قوتوں کو غیر جمہوری ہتھکنڈوں کا نشا نہ بنا یا گیا۔انہوں نے کہا کہ ممکن ہے کہ عوام کے فیصلے بعض حلقوں کو پسند نہ آئیں لیکن ان فیصلوں کو دل و جان سے تسلیم کیا جا نا چاہیے۔نوازشریف نے کہا کہ 'عوام کی بات نہ سنی گئی تو بڑے پیمانے پر انتشار دیکھ رہا ہوں، دنیا بدل گئی ہے ہمیں بھی بدلنا ہوگا، پرانی غلطیاں نہیں دہرانی چاہئیں'سابق وزیراعظم نے سوال اٹھایا کہ 'عدالتی فیصلے میں بتایا جائے کہ عدلیہ کے خلاف بات کرنے کا کیا مطلب ہے؟ بات کے بعد تحفظ کی گارنٹی نہیں ہے'۔نوازشریف نے کہا کہ 'ہمیں چھوڑ کر جانے والے ہمارے تھے ہی نہیں، آج جتنے محب وطن ہیں وہ غدار ہیں، میں چاہتا تھا کہ سب مل کر چلیں'۔انہوں نے مزید کہا کہ '2013 میں ہم نے رائے ونڈ روڈ کشادہ کرنے کا حکم دیا جس پر نیب کیس بن گیا، 1990میں موٹروے شروع ہوئی اس پر بھی ریفرنس بننا چاہیے، ایٹمی دھماکے کیے اس پر بھی میرے خلاف ریفرنس بنادیں'۔(ن) لیگ کے قائد کا کہنا تھا کہ 'افسوس کہ ملک میں دھرنے کرائے گئے، ہم نے درگزر کیا سمجھوتہ نہیں کیا اور جو درگزر کیا اس پر افسوس نہیں، دوسری طرف بھی درگزر کرنا چاہیے تھا،چاہتا ہوں کہ سب مل کر چلیں اور ابھی بھی سبق سیکھیں ۔ایک سوال کے جواب میں نوازشریف نے کہا کہ 'فاٹامیں عوام کو حقوق ملنے چاہئیں اور مسائل حل ہونے چاہئیں۔ چائنیز پاکستان کی محبت میں آئے ہیں مگر انہیں یہاں کے حالات پر تحفظات ہیں ۔دوسری طرف اسلام آباد میں وو ٹ کو عزت دو کے نام سے ہونے والے سیمینار میں خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ کچھ دنوں سے صحافی تاحیات نا اہلی پر رد عمل جاننا چاہتے تھے لیکن میں نے اس حوالے سے بیان نہیں دیا کیو نکہ میں نہ تو پٹیشنر تھا اور نہ ہی فریق ،اس کیس میں وکیل نے کہا تھا ہم فریق نہیں بنیں گے ،ہم جانتے ہیں جب عدالتی عمل خود ہی فریق بن جائے تو وکیل اور دلیل کسی کام کے نہیں رہتے۔انہوں نے کہا کہ لیگی امید واروں کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں ،لیگی شخصیات نیب کے بھی نشانے پر ہیں ، اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کر کے بڑ ی بڑی جماعتوں کو چھوٹے چھوٹے گروپس میں بانٹا جا رہا ہے تاکہ کٹھ پتلیوں کی حکومت بنائی جا سکے۔ان کا کہنا تھا کہ عدالتوں نے پاکستان میں لگنے والے تمام مارشل لاؤں کو قبول کر کے اسے جائز قرار دیا۔نواز شریف نے کہا کہ آج تک کسی وزیراعظم نے آئینی مدت پوری نہیں کی ،ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دیدی گئی ،بینظیر بھٹو کو قتل کرادیا گیا اور مجھے ہائی جیکر بنا کر اٹک قلعہ میں بند کردیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اس وقت حکومتی معاملات بھی عدالتی گرفت میں ہیں ،ایسے وقت میں جب 18لاکھ مقدمات تاخیر کا شکار ہیں او ر لوگوں کو عدالتوں سے سنگین نوعیت کی شکایات ہیں ،عدالتیں پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے قوانین کو بھی کالعدم قرار دے رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جس طرح سے مسلم لیگ (ن) کو امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اس میں صورتحال میں ملک میں منصفانہ ایکشن ہونا ممکن نہیں۔ میرے خلاف ہونیوالے فیصلے بتا رہے ہیں کہ مستقبل میں کیا ہونے جا رہاہے۔ بلوچستان میں عوامی منتخب حکومت کو الٹ کر ایک مصنوعی ڈھانچہ کھڑا کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجھ پر کرپشن ، بد عنوانی اور کک بیک کا کوئی الزام نہیں۔ جو سزا مجھے دی گئی ہے وہ حقیقت میں مجھے نہیں بلکہ عوام اور انکے دئیے گئے ووٹ کو دی گئی ۔ واجد ضیاء نے انکشاف کیا کہ میرے خلاف بننے والی جے آئی ٹی میں40لوگ شامل تھے ۔ قوم کو بتایا جائے کہ وہ 40لوگ کون تھے۔ پارٹی سے بیوفاقی کرنیوالے ٹکٹ کے مستحق نہیں ہیں۔ آئندہ الیکشن میں ایسے لوگوں کو ٹکٹ دیں گے جو بکنے والے نہیں ہیں ۔ وفاداریاں تبدیل کرنے والوں کو عبرت ناک سزا ملنی چاہیئے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ انتخابات بر وقت ہونگے۔ چیف جسٹس کا بیان خوش آئند ہے۔

نوازشریف

اسلام آباد (آئی این پی) جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ عدلیہ انصاف کی فراہمی کیلئے کردار ادا کر رہی ہے یا تحریک انصاف کیلئے کردار ادا کر رہی ہے،جج اگر معیار پر پورا نہیں اترتا تو ایسے جج کو اپنے خلاف بھی سوموٹو لینا چاہیے،پاکستان میں سب سے زیادہ جس کی پانامہ میں کمپنیاں ہیں وہ تو تحریک انصاف میں شامل ہو رہے ہیں، اگر ایک جج اپنے طور پر محسوس کرے کہ میرے سامنے کھڑے دو فریقوں میں سے کوئی مجھے جانبدار تصور کرے تو اس احتمال کے ساتھ وہ جج مقدمہ نہیں سنتا، اگر ایک فضاء بن جائے توہر چھوٹا بڑا یہ تاثر لے لے کہ اس وقت میرا جج فریق ہے تو وہ فیصلہ ملک کے اندر بھی متنازعہ ہو گااور دنیا کی کسی بھی عدالت میں وہ فیصلہ بطور نظیر نہیں پیش کیا جا سکتا، جب کوئی ادار ہ حکومت کی ذمہ داریاں ہاتھ میں لے لے تو وہاں ٹاکرا ہو جاتا ہے ، یہ چیزیں قابل قبول نہیں۔ وہ مسلم لیگ (ن) کے زیر اہتمام منعقدہ '' ووٹ کو عزت دو ''سیمینار سے خطاب کر رہے تھے ۔سیمینار سے نیشنل پارٹی کے صدر اور وفاقی وزیر میری ٹائم امور میر حاصل خان بزنجو نے بھی خطاب کیاان کا کہنا تھاکہ پی ٹی آئی والا ہمارے گلے میں پڑ گیا، اس نے ساری سیاست کا حلیہ ہی بگاڑ دیا، یہ کلچر ہمارا نہیں، ہم عدلیہ کا احترام کرتے ہیں مگر جوڈیشری اپنا احترام خود تو کرے،عوام کہہ رہی ہے کہ جوڈیشری کو نواز شریف کے علاوہ کوئی اور نظر نہیں آرہا،پوری سوسائٹی ایک دوسرے کے دست و گریباں ہے، بین الاقوامی طور پر ریاست کیلئے چیلنج بن رہے ہیں، کیا ایسے حالات میں ملک اس قسم کی چیزیں برداشت کر سکتا ہے۔عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ نواز شریف کو جتنا دیوار کے ساتھ لگا رہے ہیں ان کی اتنی ہی عزت بڑھ رہی ہے، ووٹ کے تقدس سے بات اب آگے بڑھ چکی ہے سکرپٹ بہت پہلے سے لکھا گیا جو بھی ہوا وہ بہت افسوسناک ہے،پارلیمنٹیرین کو کس بلاء نے کاٹا تھا کہ وہ عدالت میں جائے ، جب ہم خود اختیار کسی کو دیتے ہیں تو گلہ کس سے ہے، ہم نواز شریف کے اتحادی نہیں لیکن اس مسئلے پر ان کے ساتھ ہیں، عدالت ایسے فیصلوں میں نہ پڑے جس سے اس کی حیثیت متنازعہ نہ ہو،صرف سیاستدان ہی پاکستان کا مقدمہ لڑ سکتا ہے۔

ووٹ کو عزت دو

مزید : صفحہ اول