نواز شریف ، مریم کی تقاریر پر پابندی نہیں لگائی ، ہائیکورٹ کے حکم کی غلط رپورٹنگ ہوئی : چیف جسٹس

نواز شریف ، مریم کی تقاریر پر پابندی نہیں لگائی ، ہائیکورٹ کے حکم کی غلط ...

اسلام آباد (آئی این پی،آن لائن ) سپریم کورٹ نے عدلیہ مخالف تقاریر سے متعلق از خود نوٹس خارج کر دیا، چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے میں نواز شریف اور مریم نواز پر پابندی نہیں لگائی گئی،آرٹیکل19کے تحت عدلیہ کیخلاف تقاریر روکنے کا حکم دیا گیا تھا، عدالت نے حکم کچھ اور دیااور رپورٹنگ کچھ اور ہوتی رہی، پیمرا نے جھوٹی اور بے بنیاد خبر پر کوئی نوٹس نہیں لیا،بنیادی حقوق کو کم نہیں کریں گے،جھوٹ بول کر عدلیہ کو بدنام کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ، نواز شریف اور مریم نواز نے جو تقریر کرنی ہے یہاں آ کر کرلیں، جسٹس شیخ عظمت نے کہا کہ جس نے غلط خبر دی اس ’’سورس ‘‘ کا پتہ چلنا چاہیے،کیا پیمرا کو کوئی آ کر بتائے گا کہ اپنا کام کرے، پیمرا کوئی یتیم خانہ لگتا ہے،کیا کیس کی تحقیقات ایف آئی اے سے کروائیں؟ جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ غلط خبر دینا عدلیہ پر حملے کے مترادف ہے، پیمرا نے شکایات پر کیا نوٹس لیا؟۔منگل کو سپریم کورٹ میں عدلیہ مخالف تقاریر پر پابندی پر از خود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی، چیف جسٹس ثاقب نثار نے مختلف اخبارات میں شائع خبروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اخباروں میں غلط خبریں چھپی ہوئی ہیں، پابندی کہاں لگی ہے، ایگزیکٹو ممبر پیمرا کہاں ہیں؟ ہر کوئی فیصلے پر الگ رائے دے رہا ہے، پیمرا چیئرمین کہاں ہیں؟ قائم مقام چیئرمین پیمرا عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس نے کہا کہ یہ کیا ہوا کہ پیمرا اور عدلیہ کو گالیاں نکالنا شروع کر دیں، عدالت نے آرٹیکل 19اور 68 کے تحت پیمرا کو کام کرنے کا حکم دیا، پیمرا نے آرٹیکل 19کے تحت آج تک کیا کیا ہے؟پیمرا عرصے سے معاملات کو طول دے رہا ہے، کیا پیمرا کے پاس اختیار نہیں ہے؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ 2017سے پیمرا کے پاس شکایات ہیں، پیمرا ریگولیٹر ہے، پیمرا نے ان شکایات کا کیا نوٹس لیا؟ جسٹس شیخ عظمت سعید نے استفسار کیا کہ کیا پیمرا کو کوئی آ کر بتائے گا کہ اپنا کام کریں؟ عدالت نے حکم کچھ اور جاری کیا رپورٹنگ کچھ اور ہوتی رہی، کسی نے منظم طریقے سے یہ سب کچھ کیا ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب آپ کیا چاہتے ہیں کہ نفرت انگیز تقاریر شروع ہو جائیں، تقریر اور تنقید سے کبھی نہیں روکا، جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ پیمرا کوئی یتیم خانہ لگتا ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پیمرا مکمل طور پر بے بس نظر آتا ہے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ خبر کو توڑ مروڑ کر چلایا گیا، پیمرا نے کیا ایکشن لیا۔ قائم مقام چیئرمین پیمرا نے عدالت کو بتایا کہ پیمرا نے غلط خبر پر ایکشن لیا ہے، چینل کو فوری طور پر نوٹس جاری کریں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتی حکم میں نواز شریف اور مریم نواز پر پابندی کا کہیں نہیں کہا، کون اس معاملے کو تحقیقات کرے گا؟ کس نے یہ خبر بنا کر میڈیا کو دی؟ ایک چینل پر غلطی ہو سکتی ہے، تسلیم نہیں کر سکتا کہ عدالت کے رپورٹر یہ غلط خبر دے سکتے ہیں، کس نے اصل خبر کو تبدیل کرالیا؟پیمرا کی طرف سے وہ وکیل پیش ہوا جو نواز شریف کا وکیل تھا، سلمان اکرم راجہ آپ کو نوٹس جاری کریں گے، آج آپ کا لائسنس معطل کرتے ہیں، آپ کس طرح پیمرا کی طرف سے پیش ہوئے، کیا آپ کا پیمرا کی طرف سے پیش ہونا مفادات کا ٹکراؤ نہیں؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے عدالت کو بتایا کہ پیمرا کی طرف سے کافی عرصے سے پیش ہو رہا ہوں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ (ن) لیگ کی طرف سے بھی آپ پیش ہوئے، ٹی وی پر آپ کمنٹس کرتے ہیں سلمان اکرم نے کہا کہ عدالت سے معافی چاہتا ہوں، اپنا وکالت نامہ واپس لیتا ہوں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کا لائسنس معطل کریں گے، سلمان اکرم نے کہا کہ پیمرا کی طرف سے اس لئے پیش ہوا کہ ان کا پہلے سے وکیل ہوں۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ عدالت کے حکم میں کیا غلطی ہے؟ لاہور ہائیکورٹ کا حکم بالکل درست ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل صاحب آپ فیصلہ پر کیا کہتے ہیں، عدالتی حکم میں نواز شریف اور مریم نواز پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ ایک اخبار یا ٹی وی کی طرف سے غلطی ہو سکتی ہے، سب اخبارات میں غلط خبر شائع ہوئی، کس سے تحقیقات کروائیں، کیا ایف آئی اے سے تحقیقات کروائیں؟ کل شام سے بغیر عدالتی آرڈر پڑھے ڈھول پیٹا جارہا ہے، ہائیکورٹ کے احکامات کو سمجھنے کے لئے کسی انگریزی کے استاد کی خدمات لیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں ریاست کی طرف سے کسی تحفظ کی ضرورت نہیں، یہ قوم ہمارا تحفظ کرے گی، سپریم کورٹ کے دروازے پر آ کر گالیاں دی گئیں تین روز سے سب واقعات کا پتہ کروا رہا ہوں، خواتین کو سپریم کورٹ کون لے کر آیا،یہ تاثر دیا گیا کہ ہائیکورٹ نے نواز شریف اور مریم نواز کو آف ایئر کرنے کا حکم دیا ہے، عدالت نے پیمرا کو عدلیہ مخالف تقاریر کی درخواستوں کو نمٹانے کا حکم دیا، بنیادی حقوق کو کم نہیں کریں گے، جھوٹ بول کر عدلیہ کو بدنام کرنے کا منصوبہ ہے، نواز شریف اور مریم نواز کی جانب سے کوئی پیش نہیں ہوا، نواز شریف اور مریم نواز نے جو تقریر کرنی ہے یہاں آ کر کریں، سپریم کورٹ نے توہین آمیز تقاریر سے متعلق نوٹس نمٹا دیا۔

مزید : صفحہ اول