ہاؤسنگ اربن ڈویلپمنٹ اینڈ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ میں کرپشن کا راج

ہاؤسنگ اربن ڈویلپمنٹ اینڈ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ میں کرپشن کا راج

لاہور(سٹاف رپورٹر) ہاؤسنگ اربن ڈویلپمنٹ اینڈ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کا محکمہ اس اونٹ کی مانند بنتا جا رہا ہے جس کی کوئی کَل سیدھی نہیں ۔نیچے سے اوپر تک کرپشن کا دور دورہ ہے اور اربوں روپے کی ترقیاتی سکیمیں پاس کروانے کے عوض کروڑوں روپے کے نذرانے معمول ہیں ۔ وزیر اعلیٰ اور چیف سیکرٹری کی ہدایات کو پس پشت ڈال کر سنیارٹی لسٹ ڈسٹ بن میں پھینکتے ہوئے 30ویں نمبر کے افسر کو کسی پوسٹ پر لگانے سے ایک شخص کو چار چار چارج دینے تک سروس رولز کی خلاف ورزی اس محکمے کا طرہ امتیاز ہے ۔ کرپشن ، بے ضابطگیوں اور بدعنوانیوں کی شکایات پر نیب نے نوٹس لے کر ریکارڈ طلب کیا تو محکمے کے سیکرٹری رکاوٹ بن گئے اور ریکارڈ دینے کی بجائے سفارشیں تلاش کرنے لگے ۔روزنامہ’’ پاکستان‘‘ کی طرف سے اس حوالے سے کی گئی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ محکمہ ہاؤسنگ اربن ڈویلپمنٹ میں بھاری مالیت کی ترقیاتی سکیمیں ایکسین سے ایس ای اور سیکرٹری تک باقاعدہ کمیشن کے بعد منظورکی جاتی ہیں اور اس مقصد کے لئے منظور نظر اور من پسند افسروں کو اہم عہدوں پر تعینات کیا گیا ہے ، 19فروری 2016ء کو جاری کی گئی سنیارٹی لسٹ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے تیسرے نمبر کے ایکسین سلمان یوسف کو 3اہم عہدے ڈائریکٹر ڈیزائن نارتھ ، ایڈیشنل سیکرٹری ٹیکنیکل اور پروجیکٹ ڈائریکٹر خادم اعلیٰ آب صحت پروجیکٹ تعینات کر دیا گیا اسی طرح محمد ایوب جو مذکورہ سنیارٹی لسٹ کے مطابق 16ویں نمبر پر ہیں کو سپرنٹنڈنگ انجینئراور چیف انجینئر نارتھ کا چارج دیا گیا ۔ ذرائع نے بتایا کہ ترقیاتی سکیم پاس کروانے کا طریقہ کار یہ ہے کہ سکیم کی تیاری کے بعد ڈائریکٹر ڈیزائن نارتھ اسے چیک کرنے کے بعد فارورڈ کرتا ہے جس کے بعد چیف انجینئر نارتھ ایڈیشنل سیکرٹری ٹیکنیکل کو بھجواتا ہے جو اس کی منظوری دیتا ہے پھر سیکرٹری ہاؤسنگ اس کو حتمی طور پر پاس کر دیتا ہے یہ تمام عہدے ایک یا دو مخصوص افسروں کے پاس ہیں اور وہی سارے چارج بھی سنبھالے ہوئے ہیں جسے ترقیاتی سکیم کو چیک کرنا ہے منظوری بھی اسی نے دینی ہے یوں وہی قاتل ، وہی شاہد اور وہی منصف ہے ۔ اسی بنا پر کئی سکیموں میں گھپلوں کی شکایات منظر عام آئیں اور نیب کے ایڈیشنل ڈائریکٹر رانا محمد علی نے پہلے 18اکتوبر 2016ء کو انکوائری کا حکم دیا پھر 31اکتوبر کو ریکارڈ سمیت پیش ہونے کا تحریری مراسلہ بھیجا لیکن اسے محکمہ ہاؤسنگ اینڈ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے بااثر افسران خاطر میں نہ لائے اس کے بعد کئی دیگر انکوائریاں بھی منظر عام پر آئیں لیکن محکمانہ ذرائع کا کہنا ہے کہ ذمہ دار افسروں کی اعلیٰ حکام تک رسائی آڑے آتی رہی اور کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہو سکی ۔ نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ ہم نے لاہور ،منڈی بہاؤ الدین ، حافظ آباد ، نارووال، جہلم، سیالکوٹ اور راولپنڈی میں واسا سیکرٹری ہاؤسنگ اربن ڈویلپمنٹ اینڈ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ میں گھپلوں کی شکایت پر تحقیقات کا آغاز کر رکھا ہے ریکارڈ مانگا گیا ہے لیکن تاحال ہمیں موصول نہیں ہوا ۔نیب ذرائع نے بتایا ہے کہ ہم غزالی اینڈ کمپنی نامی ایک فرم کے خلاف تحقیقات کر رہے ہیں اور حیران کن امر یہ ہے کہ یہ کمپنی قائم مقام ایس ای لاہور محمد ایوب کی ملکیت ہے ۔اس حوالے سے محکمے میں رجسٹرڈ ٹھیکے داروں سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ہم کئی بار مطالبہ کر چکے ہیں کہ جن افسروں پر کرپشن کے الزامات ہیں انہیں عہدے سے ہٹا کر انکوائری کی جائے تاکہ وہ تحقیقات پر اثر انداز نہ ہو ں اس حوالے سے 2دسمبر 2016ء کو محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی نے چیف سیکرٹری پنجاب کی جانب سے تمام سیکرٹریز کو ایک مراسلہ بھی ارسال کیا تھا جس میں ہدایت کی گئی تھی کہ کسی بھی ایسے افسر کو پوزیشن آف اتھارٹی پر نہ لگایا جائے جس کے خلاف انکوائری زیر تکمیل ہو اس مراسلے میں یہ بھی تحریر تھا کہ اہم مناسب پر تعیناتی کے لئے اس امر کا خاصا خیال رکھا جائے کہ کسی دوسرے افسر کی سنیارٹی متاثر یا بائی پاس نہ ہو ، سروس ریکارڈ درست ہو اس کی تعیناتی کی مدت کے حوالے سے جاری پالیسی اور کوالیفیکیشن کا بھی خیال رکھا جائے ۔محکمانہ ذرائع نے بتایا ہے کہ HUD & PHED میں ان تمام ہدایات کی کھلم کھلا خلاف ورزی جاری ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ محکمہ لاوارث ہے اور یہاں چیک اینڈ بیلنس کا کوئی نظام ہی نہیں ۔ اس حوالے سے جب قائم مقام ایس ای لاہور محمد ایوب سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ تمام الزامات بے بنیاد ہیں ہم سے نیب نے کوئی ریکار ڈطلب کیا اور نہ ہی ہمارے خلاف کوئی انکوائری زیر سماعت ہے اگر آپ کچھ جاننا چاہتے ہیں تو مجھے پہلے خبر بھجوا دیں میں اس کا مطالعہ کرنے کے بعد کوئی رائے دوں گا ویسے میڈیا والے بادشاہ لوگ ہوتے ہیں اپنا قلم جیسے چاہیں استعمال کریں ۔

ہاؤسنگ اربن

Back t

مزید : صفحہ اول