کوئی پاکستانی کسی دوسرے ملک کے حوالے نہیں کیا ، آفتاب شیرپاؤ

کوئی پاکستانی کسی دوسرے ملک کے حوالے نہیں کیا ، آفتاب شیرپاؤ

اسلام آباد (آئی این پی)سابق وفاقی وزیرِ داخلہ آفتاب شیرپاؤ نے جبری گمشدگیوں کی تحقیقات کے کمیشن کے سربراہ جسٹس(ر)جاوید اقبال کے بیان کو مستردکرتے ہوئے کہا ہے کہ جاوید اقبال کے انکشاف بے بنیاد ہیں میرے دور میں ایک بھی شخص غیر ملک کے حوالے نہیں کیا گیا۔منگل کوامریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں آفتاب شیرپا ؤ نے جسٹس (ر)جاوید اقبال کے انکشاف کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کے دور میں ایک بھی شخص غیر ملک کے حوالے نہیں کیا گیا۔میں جسٹس رجاوید اقبال کے کمیشن میں بھی اس بارے میں بیان دے چکا ہوں کہ اس میں وزارتِ داخلہ کا کوئی کام نہیں تھا اور نہ ہمارے وقت میں ایک شخص بھی کسی کے حوالے کیا گیا۔ اس سے پہلے جو کمیشن بنا تھا جسٹس رجاوید اقبال کی سربراہی میں، اس میں بھی ہم گئے تھے اور یہ بیان دیا تھا۔ پتا نہیں کہاں سے یہ بندے لے کر آئے ہیں۔ چار ہزار لوگ کوئی معمولی بات نہیں۔ بہت بڑی بات ہے۔ ایک شخص بھی کسی اور ملک کے حوالے کرنا، یہ تو خلاف قانون ہے اور یہ ہو ہی نہیں سکتا۔یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ 1999 میں فوجی بغاوت کے نتیجے میں اقتدار سنبھالنے والے جنرل پرویز مشرف اپنی خودنوشت میں خود یہ اعتراف کر چکے ہیں کہ انھوں نے سیکڑوں مشتبہ دہشت گرد گرفتار کیے اور 369 کو امریکہ کے حوالے کیا جس پر پاکستان کو لاکھوں ڈالر کی انعامی رقم بھی حاصل ہوئی۔اس بارے میں آفتاب شیرپا کا کہنا تھا کہ امریکہ میں ستمبر 2001 کے دہشت گرد حملوں کے بعد جو صورتِ حال پیدا ہوئی، اس وقت پاکستان میں جنرل مشرف چیف ایگزیکٹو تھے اور اگر اس وقت کسی کو غیر ملک کے حوالے کیا گیا تو وہ ان کے علم میں نہیں۔مشرف نے جو کیا مجھے اس کا علم نہیں ہے۔ شروع میں 9/11 کے بعد جو صورتِ حال تھی اس وقت تو میں نہ وزیرِ داخلہ تھا اور نہ ہماری حکومت تھی اس وقت اگر انھوں (جنرل مشرف) نے دیا ہو تو کسی بنیاد پر دیا ہوگا۔ وہ ان کا معاملہ ہے۔ 2004 سے 2007 تک ایسا واقعہ ہی نہیں ہوا۔ ہم نے کس کو حوالے کرنا تھا؟ اس دوران میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ مشرف نے بھی کسی کو حوالے نہیں کیا۔ ان (جنرل مشرف) کے شروع کے دنوں کا مجھے علم نہیں اس کے ساتھ میرا کوئی تعلق نہیں۔سابق وزیرِ داخلہ نے کہا کہ اس بارے میں وزارتِ داخلہ کا ریکارڈ بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

مزید : صفحہ اول