وزیر اعظم عباسی نے قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کی تجویز کیوں نہیں مانی ؟

وزیر اعظم عباسی نے قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کی تجویز کیوں نہیں مانی ؟
وزیر اعظم عباسی نے قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کی تجویز کیوں نہیں مانی ؟

  

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

فرزند راولپنڈی نے ایک بار پھر کہا ہے کہ انتخابات نومبر میں ہوتے دیکھ رہا ہوں۔ دو دن پہلے وہ ان کا انعقاد دسمبر میں دیکھ رہے تھے، کچھ پتہ نہیں چند دن بعد وہ مزید کیا کچھ دیکھ لیں یا کیا کہہ دیں اس لئے ان کے ارشاد گرامی کو ایک طرف رکھ کر یہ دیکھنا چاہئے کہ انتخابات کے بروقت انعقاد میں آخر کیا رکاوٹ ہے؟ اور جن لوگوں کو یہ نومبر میں نظر آتے ہیں انہیں جولائی کے وسط میں کیوں نظر نہیں آتے؟ اگر تو اس میں ضعف بصارت کا قصور ہے تو اس کا کوئی علاج نہیں کیونکہ بینائی دھندلا جائے تو چیزیں صاف نظر نہیں آتیں البتہ اگر حالات کو بنظر غائر دیکھا جائے تو یہ تیزی سے بروقت انتخابات کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تک کہہ چکے ہیں کہ انہیں انتخابات میں ایک دن کی تاخیر بھی گوارا نہیں۔ ویسے اگر مستقبل کے متعلق بات کرنے کیلئے ماضی کوئی حوالہ ہے تو 2013ء کے انتخابات کی بات کرلیتے ہیں۔ یہ انتخابات ملتوی کرانے کی بھی پوری کوشش کی گئی تھی لیکن کسی کو کامیابی نہ ہوئی۔ سیاسی حالات پر نظر رکھنے والوں کو معلوم ہے کہ اس وقت بھی عام انتخابات کے متعلق شکوک و شبہات پھیلائے جا رہے تھے۔ بہت سے لوگوں کی یہ خواہش بھی تھی کہ انتخابات وقت پر نہ ہوں اس عالم میں اچانک قائد انقلاب طاہر القادری کینیڈا سے لاہور میں وارد ہوئے اور مینار پاکستان گراؤنڈ میں جلسہ کرکے کچھ مبہم سے مطالبات پیش کرکے اس وقت کی حکومت کو منظور کرنے کا الٹی میٹم دے دیا بصورت دیگر اسلام آباد کی جانب مارچ اور پھر وہاں دھرنے کا اعلان کردیا۔ مطالبات منظور نہ ہوئے تو اسلام آباد کی جانب مارچ اور پھر دھرنا دے دیا گیا، لیکن صرف چار دن کے بعد دھرنا اٹھالیا گیا۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے بعض وزرا اور سیاسی رہنماؤں کو ان کی خدمت میں بھیجا، ان کے مطالبات سنے اور انہیں ماننے کا اعلان کیا۔ آج تک معلوم نہیں ہوسکا کہ پھر ان مطالبات کا کیا بنا البتہ ڈاکٹر طاہرالقادری یہ درخواست لے کر سپریم کورٹ جاپہنچے کہ انتخابات ملتوی کردیئے جائیں۔ ان سے پوچھا گیا کہ آپ کی جماعت تو انتخابات میں حصہ نہیں لے رہی (اس وقت تک ان کا یہی فیصلہ تھا اور ان کی جماعت الیکشن نہیں لڑ رہی تھی) اس لئے انتخابات ہوں یا نہ ہوں آپ ان سے کیسے متاثر ہوتے ہیں؟ ان کا موقف یہ تھا کہ یہ سیاست کا وقت نہیں ریاست بچانے کا زمانہ ہے۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ اس کے بعد یہ دور کب ختم ہوا اور نیا دور کب آیا۔ اتنا معلوم ہے کہ جب عمران خان نے 2014ء کا دھرنا دیا تو وہ بھی اس دن دھرنے کیلئے اسلام آباد پہنچ گئے۔ دونوں کا سفر لاہور سے شروع ہوا، دھرنا اسلام آباد میں دیا گیا، 76 روز کے بعد طاہرالقادری نے دھرنا اٹھالیا جبکہ عمران خان 126 روز تک بیٹھے رہے۔ دونوں دھرنوں کی طوالت کا ریکارڈ تو ضرور بنا لیکن اس سے انہیں حاصل کیا ہوا یہ کسی کو معلوم نہیں کیونکہ دھرنوں کے ذریعے وہ نوازشریف سے تو استعفا نہ لے سکے اور اگر 2017ء میں نوازشریف نااہل ہوئے تو ان میں دھرنوں کا کوئی کردار نہیں تھا، یہ نااہلی سپریم کورٹ کے حکم پر ہوئی البتہ اس کے بعد انہوں نے متعدد بار یہ کہا کہ حکومت جا رہی ہے جو ابھی تک نہیں گئی بدستور موجود ہے یہاں تک کہ چند روز قبل قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کرکے ان کے ساتھ نگران وزیراعظم کے معاملے پر بات چیت کی تو انہیں تجویز دی کہ 31 مئی کو اسمبلی کی مدت ختم ہو رہی ہے لیکن آپ 30 مئی کو اسمبلی توڑنے کی ایڈوائس دیدیں۔ وزیراعظم نے یہ تجویز نہیں مانی، اب آپ پوچھ سکتے ہیں کہ ایک ہی دن کی تو بات ہے تجویز کو ماننے میں کیا امر مانع ہے تو اس کی وضاحت یوں بنتی ہے کہ وزیراعظم کو یہ آئینی اختیار تو حاصل ہے کہ وہ کسی بھی وقت صدر کو اسمبلی توڑنے کی ایڈوائس دے سکتے ہیں اور صدر مملکت اس مشورے پر 48 گھنٹے کے اندر اندر عمل کرنے کے پابند ہیں، یہ مدت گزر جائے تو اسمبلی ختم سمجھی جاتی ہے، ایسی صورت میں نوے دن کے اندر انتخابات کرانا ضروری ہوتا ہے جبکہ دوسری صورت یہ ہے کہ اگر اسمبلی اپنی مدت پوری کرے تو پھر الیکشن ساٹھ دن کے اندر کرانا ہوتے ہیں۔ عام طور پر اینکر اور تجزیہ نگار اس فرق کو ملحوظ نہیں رکھتے اور نوے اور ساٹھ دن کو گڈمڈ کردیتے ہیں۔ اب فرض کریں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی خورشید شاہ کی یہ ’’بے ضرر‘‘ سی تجویز مان لیتے تو اس سے یہ فرق پڑتا کہ جو انتخابات ساٹھ دن میں ہونے ہیں وہ نوے دن والی کیٹگری میں چلے جاتے اور یوں عین ممکن ہے کہ نگران حکومت ان انتخابات کو جولائی کی بجائے اگست تک لے جاتی، حالانکہ الیکشن کمیشن نے اپنی تیاریاں ہر لحاظ سے مکمل کی ہوئی ہیں۔ ووٹروں کی فہرستیں آویزاں کردی گئی ہیں، اگر کسی اہل ووٹر کا نام فہرست میں نہیں تو وہ اپنا نام درج کراسکتا ہے، حلقہ بندیوں پر اعتراضات کی سماعت ہو رہی ہے، بیلٹ پیپر کے بارے میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ وہ ایسے کاغذ پر چھاپے جائیں گے جس کی نقل ممکن نہیں ہوگی اور اگر کوئی ایسا کرے گا تو فوراً پکڑا جائے گا۔ یہ سارے اقدامات بروقت الیکشن کیلئے ہی تو ہیں، اس کے باوجود بعض لوگوں کی یہ خواہش ضرور ہے کہ انتخابات موخر ہو جائیں تو ان کی خواہشوں پر پابندی تو نہیں لگائی جاسکتی۔ اب تک تو کوئی طاہرالقادری یہ درخواست لے کر سپریم کورٹ نہیں گیا کہ انتخابات ملتوی کردیئے جائیں لیکن ہمیں یقین ہے کہ اگر کوئی جائے گا تو فیصلہ وہی ہوگا جو 2013ء میں ہوا تھا کیونکہ قانون کا اپنا راستہ ہوتا ہے وہ خواہشات کا اسیر نہیں ہوتا۔

تجویز

مزید : تجزیہ