گولی کا خول یا بلی کا بچہ

گولی کا خول یا بلی کا بچہ
گولی کا خول یا بلی کا بچہ

  

جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائش گاہ میں جس طرح پستول کی گولیوں کے خول ملے ہیں اس طرح اندرون شہر گھروں میں بلی کے بچے ملا کرتے ہیں ، ایک صحن کے کونے سے اور دوسرا کچن کی دیوار کے پاس سے!۔۔۔اس خاموشی سے تو گھروں میں چوہے داخل نہیں ہوتے جس خاموشی سے جج صاحب کے گھر میں گولیوں کے خول داخل ہوئے ہیں!

ویسے ہو سکتا ہے کہ جج صاحب کی رہائش گاہ کے اردگرد کسی گھر میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی تاحیات نااہلی کا جشن منایا جا رہا ہو اور اس دوران کسی نے ہوائی فائرنگ کی ہو اور کسی گولی کا خول جج صاحب کے صحن میں جا گرا ہو۔ جہاں تک مختلف اوقات میں گولیوں کے خول گرنے کا تعلق ہے تو ممکن ہے کہ رات کو جشن منانے والوں کا دل نہ بھرا اور کسی منچلے نے صبح سویرے باقی ماندہ فائر کھولے ہوں، چونکہ گولی چلنے کی آواز اہل محلہ میں سے کسی کو سنائی نہیں دی اس لئے ممکن ہے کہ یہ شغل کسی سائلنسر لگے پستول سے کیا گیا ہو۔ ویسے شادی بیاہ کے موقع پر کی گئی فائرنگ پر تو علاقہ پولیس فوری پہنچتی ہے اور سب سے پہلے دولہے کو ڈالے میں بٹھاتی ہے تاکہ اس کے رشتے داروں سے بھاری مال بٹور سکے!

سچی بات تو یہ ہے کہ گولی کا خول گولی نہیں ہوتا ہے، گولی تو بارود کا نام ہوتا ہے ۔ ممکن ہے گولی چلانے والے نے بارود جھاڑ کر پھانک لیا ہو اور خالی خول اچھال دیا ہو۔ اگر کسی کا خیال ہے کہ جج صاحب کو ڈرانے کی کوشش کی گئی ہے تو موجودہ عدلیہ ہرگز ڈرنے والی نہیں ہے۔ اگر یہ عدلیہ ڈرنے والی ہوتی تو اس کے لئے نہال ہاشمی کی تقریر کافی تھی جس بیچارے کا مرونڈا بنا دیا گیا ہے، جو جج صاحبان نہال ہاشمی سے نہ ڈرے ہوں وہ گولی کے خول سے کیونکر ڈریں گے؟

جسٹس عظمت سعید کے بعد عمران خان دوسرے شخص ہیں، جنہوں نے نون لیگ پر سیسلین مافیا ہونے کا الزام لگایا ہے۔ جسٹس صاحب کی حد تک تو بات قابل فہم تھی، مگر عمران خان یہ بیان خود سے نہیں دے سکتے ہیں ، وہ تو اوٹ پٹانگ بیانات دینے میں مشہور ہیں ، یقیناًان سے یہ ٹیکنیکل بیان کسی نے دلوایا ہے!

حیرت یہ ہے کہ پشاور ہائیکورٹ بار اور کوئٹہ ہائی کورٹ بار نے کوئی مذمتی بیان جاری نہیں کیا اور اگر کیا تو پیشگی معذرت کہ ہماری نظر سے ایسا بیان نہیں گزراہے۔ ایسا لگتا ہے کہ دو نوں باریں ابھی تک جسٹس دوست محمد اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا غم نہیں بھلا سکی ہیں ۔ بہرحال چیف جسٹس صاحب نے وکلاء سے ہڑتال واپس لینے کا کہہ دیا، اچھا کیا وگرنہ اگر اگلے روز معاملہ صرف لاہور اور اسلام آباد تک ہی محدود رہتا تو وکلاء کے بارے میں یہ تاثر بنتا کہ وہ تقسیم ہوگئے ہیں۔ پتہ نہیں جسٹس اعجازلاحسن کے دل پر کیا بیتی ہوگی کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے لئے ملک بھر سے ہڑتال کی آوازیں آنے لگی تھیں مگر ان کی باری سب کو سانپ سونگھ گیا۔ویسے چیف صاحب کو چاہئے تھا کہ وہ ہڑتال ہونے دیتے ، پہلے کون سا نچلی عدالتوں میں کوئی کام ہوتا ہے کہ جس کا ہرج ہوتا!

جسٹس اعجازالاحسن اگرچہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف نیب مقدمات میں مانیٹرنگ جج ہیں مگر وہ بے وجہ نیب مقدمات میں دخل نہیں دے رہے ہیں ، اس لئے ان سے نون لیگ کو وہ رنج نہیں ہوسکتا جس کا اظہار شام کو ٹی وی چینلوں پر زمین و آسمان کے قلابے ملانے والوں نے کیا۔ جج صاحب نے تو نون لیگ کو گاڈ فادر یا سیسلین مافیا بھی نہیں کہا ، پھر ان کے گھر پر کوئی فائرنگ کیوں کرے گا۔ ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ کرے کوئی بھرے کوئی، کہے کوئی سہے کوئی!

جہاں تک نون لیگ کی قیادت کا تعلق ہے تو وہ گولیاں چلانے سے زیادہ منہ سے گولے پھینکنے میں مہارت اختیار کرگئے ہیں، جن کی زد میں اس وقت ملک کا ہربڑا ادارہ ہے۔ان سے گولیاں چلانے کی توقع کرنا ایسے ہی ہے جیسے امان اللہ سے کسی کے گھر کے باہر کھڑے ہوکر دھمکیاں دینے کی توقع کی جائے، امان اللہ تو اپنے گھر کے سامنے کسی کو دھمکیاں نہیں دے سکتے!۔۔۔ویسے بھی نواز شریف تین مرتبہ وزیر اعظم پاکستان بن چکے ہیں ، وہ جانتے ہیں کہ جیل جانے سے ان کی سیاسی عزت افزائی میں اضافہ ہوگا، ایسے میں اگر اشارہ ان کی طرف ہے تو اس کا مقصد سوائے اس فائدے کو جلد اٹھانے کے اور کیا ہوسکتا ہے؟

مزید : رائے /کالم