مختلف درخواستوں پر وفاقی، صوبائی حکومتوں سمیت متعدد افسروں و محکموں کو نوٹس

مختلف درخواستوں پر وفاقی، صوبائی حکومتوں سمیت متعدد افسروں و محکموں کو نوٹس

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے مختلف درخواستوں پر وفاقی و صوبائی حکومتوں سمیت متعدد افسروں اور محکموں کو نوٹس جاری کر ے جواب طلب کر لئے ۔ تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے ملک بھر میں سپیشل افراد کے لئے سہولیات کی فراہمی کے لئے درخواست پر وفاقی اورصوبائی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ہے ۔جسٹس انوارالحق نے مقامی وکیل اے ایس آرائیں کی درخواست پر سماعت کی، درخواست میں وفاقی حکومت، ایس ای سی پی، الیکشن کمشن اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔عدالت نے مدعاعلیہان کو 4مئی کے لئے نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ہے ۔دریں اثناء لاہور ہائی کورٹ نے آئی جی پنجاب کپٹن( ر ) عارف نواز کے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیاہے۔مسٹر جسٹس شمس محمود مرزا نے ٹوبہ ٹیک سنگھ کے محسن رضا کی درخواست پر سماعت کی۔درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ میرٹ پر آنے کے باوجود اسکو پنجاب ہائی وے پٹرولنگ میں پولیس کانسٹیبل بھرتی نہ کیا گیا۔عدالت نے اس کی درخواست دادرسی کے لئے آئی جی پنجاب پولیس کو بھجوا دی جس پر تاحال شنوائی نہیں ہوئی۔لاہور ہائی کورٹ نے شہری کو اسسٹنٹ ایجوکیٹر بھرتی نہ کرنے کے خلاف دائر درخواست پر سیکرٹری تعلیم پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیاہے۔ جسٹس شمس محمود مرزا نے منور حسن کی درخواست پر سماعت کی۔درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ میرٹ پر انے کے باوجود بھرتی نہیں کیا گیا،محکمے نے سیاسی بنیادوں پر امیدواروں کو بھرتی کیا۔درخواست گزار نے استدعا کی کہ عدالت ملازمت دینے کا حکم دے،عدالت نے کاروائی کرتے ہوئے سیکرٹری تعلیم سے جواب طلب کرلیاہے۔لاہور ہائی کورٹ نے شہری کو پنجاب پولیس میں بھرتی نہ کرنے کے خلاف دائر درخواست پرسیکرٹری پنجاب پبلک سروس کمیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیاہے،جسٹس شمس محمود مرزا نے فخر الزماں کی درخواست پر سماعت کی ۔عدالت نے فخرالزمان کا تقرر نہ کرنے پر سیکرٹری پنجاب پبلک سروس کمیشن کو آئندہ سماعت پر جواب داخل کروانے کی ہدایت کر دی ہے۔لاہور ہائی کورٹ نے ایڈمنسٹریٹر لاری اڈہ لاہورشاہد حسین قاسم کے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے ،جسٹس شمس محمود مرزا نے محمد شکیل اور دیگر 6 ٹرانسپورٹر زکی درخواستوں پر سماعت کی۔لاہور ہائی کورٹ نے ڈپٹی پوسٹ ماسٹر جنرل معظم منور کے خلاف دائرتوہین عدالت کی درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے ۔جسٹس شمس محمود مرزا نے مبارک علی کی درخواست پر سماعت کی درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ مبارک علی طویل عرصے سے محکمہ پوسٹ آفس میں بطور عارضی ڈاکیے کے طور پر کام کر رہا ہے ،عدالت کے حکم کے باوجود مبارک علی کو مستقل نہیں کیا جا رہا ہے۔عدالت نے یہ حکم 27 فروری 2018 ء کو جاری کیاجسے نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

مزید : صفحہ آخر