قائمہ کمیٹی اجلاس: رانا افضل کے قاسم نون کو لوٹا کہنے پر جھڑپ، گالیوں کا آزادنہ تبادلہ

قائمہ کمیٹی اجلاس: رانا افضل کے قاسم نون کو لوٹا کہنے پر جھڑپ، گالیوں کا ...

اسلام آباد (صباح نیوز) رانا قاسم نون قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفی دینے کے اعلان کے باوجود قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قواعد ضوابط کے اجلاس کی صدارت کرنے پارلیمینٹ ہاؤس پہنچ گئے اسمبلی کی مدت ختم ہونے تک مراعات لینے کے متمنی ہیں، وزیر مملکت برائے خزانہ رانا افضل نے لوٹے کے ریمارکس سے نوازدیا شدید جھڑپ ہوگئی تصادم ہوتے ہوتے رہ گیا، پارلیمینٹ کے محافظوں کو طلب کرنے کی نوبت آگئی جس پر رانا افضل غصے میں کمیٹی اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے ، جھڑپ رانا افضل کی فیصل آباد کی انتظامیہ کے خلاف تحریک استحقاق کو بغیر کسی کاروائی کے نمٹانے کی وجہ سے ہوئی ہے دونوں جانب سے گالیوں کا تبادلہ بھی ہوا اجلاس میں موجود بیوروکریٹس پارلیمینٹرینز کی لڑائی سے محظوظ ہوتے رہے جب کہ قائمہ کمیٹی نے وزارت داخلہ کو تمام اراکین پارلیمینٹ کو مساوی سیکورٹی دینے اور ضابط کار سے متعلق وزراتی کمیٹی میں چاروں صوبوں کے آئی جیزپولیس کو شامل کرنے کی سفارش کردی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق جنوبی پنجاب محاذکے رہنما رانا قاسم نون قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفی کے اعلان کے باجودقومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قواعدو ضوابط کا اجلاس کی صدارت کے لئے پارلیمینٹ ہاؤس پہنچ گئے تاکہ مراعات برقراررہ سکیں ۔اجلاس میں وزیر مملکت برائے خزانہ رانا افضل کی طرف سے سابق ڈی سی او فیصل آباد نورالامین مینگل کے خلاف ایک ہسپتال کی کی زمین کی ملکیت سے متعلق تحریک استحقاق کے معاملہ پر غور کیا گیا انتظامیہ کے مطابق زمین طبی مقاصد کے لئے الاٹ کی گئی بعدازاں کارباری مقاصد کے لئے استعمال کی جانے لگی اور کمرشل عمارتیں بھی بن گئیں۔چیئرمین کمیٹی راناقاسم نے کہاکہ یہ معاملہ کافی پرانا ہے، ڈھائی سال سے نتیجہ نہیں نکلا،کیا نوٹس رانا افضل کے نام پر بھجوایا گیا گیا تھا کہ تحریک استحاق آگئی یا نوٹس ہسپتال کے نام پر ہے ۔رانا افضل نے کہاکہ نوٹس میرے نام پرجاری ہوا،رانا قاسم نے کہاکہ ڈی سی او نے آپ سے معافی مانگی تھی میں کوئی عدالت نہیں ہوں کہ ڈی سی او کو ٹانگ دوں۔ تحریک استحقاق کو نمٹادیا اور کہا کہ میں تحریک کو ڈسپوزآف کرتا ہوں جس پر رانا محمد افضل طیش میں آگئے انہوں نے کہاکہ معافی قانونی معاملہ نہیں ہے، ایسا کرکے آپ خود کو مزید داغدار کریں گے ۔ رانا قاسم نون بھی برہم ہوگئے اور آگے کہا تم مجھے ایسا کہہ رہے ہو۔ تم نے تو اپنے باپ کے خلاف مقدمات درج کرائے تھے ۔ جس پر رانا محمد افضل نے کہاکہ تم تو ہو ہی لوٹے تم کسی پر کیا بات کرو گے،جس پر چیئرمین کمیٹی نے غصے میں کہاکہ تم بکواس کر رہے ہو، یہاں سے دفع ہو جاو، دوسری طرف سے بھی کہا گیا کہ تم بھی بہت بکواس کر رہے ہو۔ تاہم رانا افضل غصے میں میں لال پیلے ہوتے ہوئے کمیٹی اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے ، اجلاس می شیخ صلاح الدین کی سیکیورٹی واپس لینے کے معاملہ پر غور کیا گیا۔شگفتہ جمانی نے کہا کہ آج اس اجلاس میں بیٹھ کر بہت تکلیف ہوئی ہے سب سیاستدانوں کو برا بھلا کہتے ہیں بیوروکریسی سیاستدانوں کی تضحیک کرتی ہے۔ نجف عباس سیال نے کہاکہ میرا تعلق منی کراچی سے ہے اور مقابلہ سپہ صحابہ سے ہے، آپ خود سپہ صحابہ والے ہیں آپکو کیا خطرہ ہے۔کمیٹی نے آئی جی پنجاب کی عدم حاضری پر برہمی کا اطہار کرتے ہوئے اظہار وجوہ جاری کر دیا ۔کمیٹی نے وی آئی پی کلچر کے خاتمے کی بھی سفارش کردی وی آئی پیز کے لئے سگنلز پر ٹریفک کو نہ روکنے کی بھی سفارش کردی ،کمیٹی نے ارکان پارلیمنٹ کو سکیورٹی دینے کے لئے کمیٹی قائم کرنے کی سفارش کردی ۔

مزید : صفحہ آخر