مشال خان قتل کیس ،سزا یافتہ ملزموں کی اپیلیں سماعت کیلئے منظور

مشال خان قتل کیس ،سزا یافتہ ملزموں کی اپیلیں سماعت کیلئے منظور

پشاور(نیوزرپورٹر)پشاورہائی کورٹ کے جسٹس قلندرعلی خان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پرمشتمل دورکنی بنچ نے عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے طالبعلم مشامل خان قتل کیس میں ملوث ملزموں کی بریت کے خلاف اورسزایافتہ ملزموں کی سزامیں ا ضافے کے لئے دائراپیلیں سماعت کے لئے منظورکرلی ہیں اورضمانت پررہا ہونے والے ملزموں سمیت تمام ملزموں کو انسداددہشت گردی کی عدالت میں ضمانتی مچلکے داخل کرنے کے احکامات جاری کردئیے ہیں جبکہ اپیلوں کی حتمی سماعت تک تمام ملزموں کے بیرون ملک سفرپربھی پابندی عائد کردی ہے عدالت عالیہ کے فاضل بنچ نے مشال خان کے والد محمداقبال خان اورخیبرپختونخواحکومت کی جانب سے دائرایک ہی نوعیت کی اپیلوں کی سماعت کی اس موقع پر اقبال خان کی جانب سے محمدایازخان ایڈوکیٹ جبکہ صوبائی حکومت کی جانب سے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل میاں ارشد جان پیش ہوئے اورعدالت کو بتایاگیاکہ مشال خان قتل کیس میں انسداددہشت گردی ایبٹ آباد کی عدالت نے 26ملزموں کوبری کردیاہے جن کی بریت کاکوئی جواز نہیں بنتاتھاکیونکہ بری ہونے والے ملزموں کے خلاف ٹھوس شہادتیں ریکارڈ پرموجود ہیں جنہیں نظرانداز کیاگیاہے لہذاان کی بریت کالعدم قرار دی جائے جبکہ ملزم عمران کو مقدمے میں زیردفعہ302کے تحت سزائے موت دی گئی ہے جبکہ باقی دفعات میں اسے بری قرار دیاگیاہے لہذاان دفعات کے تحت بھی ملزم عمران کو سزادی جائے اسی طرح جن پانچ ملزموں کو عمرقید کی سزا دی گئی ہے مقدمے میں نامزد تمام ملزموں پریکساں ذمہ داری عائد ہوتی ہے لہذاان کی عمرقید سزائے موت میں تبدیل کی جائے اورجو ملزم ضمانت پررہا ہوچکے ہیں ان کی ضمانت منسوخ کی جائے عدالت عالیہ کے فاضل بنچ نے اپیلوں پر ابتدائی دلائل کے بعد یہ اپیلیں باقاعدہ سماعت کے لئے منظورکرتے ہوئے تمام ملزموں کو مردان کی انسداددہشت گردی کی عدالت میں ضمانتی مچلکے داخل کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے انہیں ملک میں موجود رہنے کی ہدایت کردی۔

مزید : کراچی صفحہ اول