چارسدہ میں اہلسنت کا 33 واں سالانہ جلسہ دستار بندی کا اہتمام

چارسدہ میں اہلسنت کا 33 واں سالانہ جلسہ دستار بندی کا اہتمام

چارسدہ (بیورو رپورٹ) جامعہ محمودیہ ترنگزئی میں اہلسنت والجماعت کے زیر اہتمام 33واں سالانہ جلسہ دستاربندی وتقسیم انعامات کی پروقار تقریب کا اہتمام ۔ تقریب میں فارع التحصیل 30حفاظ کرام اور ناظرہ خوانوں میں انعامات تقسیم کئے گئے۔ دینی مدارس اسلام کے قلعے ہیں اور انکی نظریاتی سرحدات کی محافظ ہے 70سال سے بیرونی عناصر نے پاکستان کو کمزور کرنے کی سعی کی لیکن ان دینی مدارس کی برکت سے وہ کامیاب نہ ہوسکیں۔ڈپٹی کمشنر منتظر خان ۔ تفصیلات کے مطابق جامعہ محمودیہ ترنگزئی میں سالانہ دستاربندی و تقسیم انعامات کی پروقار تقریب منعقد ہوء جس میں ڈپٹی کمشنرچارسدہ منتظر خان ، جید علمائے کرام مولانا عزیز الرحمان ہزاروی،نی مدرسہ مولنامسعودالرحمن درانی ، مفتی مولانا نجیب اللہ فاروقی، مولانا حق نواز ،طلباء،اہل علاقہ اور میڈیا کے نمائندگان نے کثیر تعداد میں شرکت کی ،با،اہل علاقہ اور صحافیو ں نے بھی کثیر تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر منتظر خان نے فارع التحصیل 30 حفاظ کرام اور ناظرہ قرآن خوانوں میں انعامات تقسیم کی۔مدرسہ کی طرف سے حسن کارکردگی پر ڈپٹی کمشنر چارسدہ کو اعزازی شیلڈ بھی دی گئی۔ جلسہ دستاربندی سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر چارسدہ منتظر خان ،بانی مدرسہ جامعہ محمودیہ مولانا مسعود الرحمن درانی ، مولانا عزیز الرحمان ہزاروی ، مفتی نجیب اللہ فاروقی ،مولانا حق نواز درانی نے جامعہ محمودیہ کے دینی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ایک قدیم مذہبی درسگاہ ہے جو علم کی فروغ اور اشاعت میں مصروف عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ دینی مدارس اسلام کے قلعے ہیں اور انکی نظریاتی سرحدات کی محافظ ہے اور ملک کی بقاء اور حفاظت کیلئے سرگرم عمل ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان کو بیرونی خطرات کاسامنا ہے اور بیرونی اسلام دشمن عناصر انکی اساس اور بنیاد وں کو کمزور کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور ہمارے قدرتی ومعدنی وسائل پر قبضے کے مذموم کوشش کر رہے ہے لیکن ان کے یہ کوشش کبھی کامیاب نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ 70سال سے بیرونی عناصر نے پاکستان کو کمزور کرنے کی سعی کی لیکن ان دینی مدارس کی برکت سے وہ کامیاب نہ ہو سکے ۔انہوں نے کہاکہ اس وقت مغربی دنیا 150بلین ڈالر کے ذریعے ملک میں افراتفری اور ان کو تقسیم کرنے کیلئے خرچ کر رہے ہے جب کہ ہمارے مجموعی بجٹ 114ارب ڈالر ہے جو لمحہ فکریہ ہے۔انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ بچوں کو علم کی روشنی سے منور کرنے کیلئے مدارس میں داخل کر وائیں ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر /رائے