سوات کے سب سے بڑے دوروزہ سائنس میلے کا افتتاح

سوات کے سب سے بڑے دوروزہ سائنس میلے کا افتتاح

سوات (بیورو رپورٹ)سوات کے سب سے بڑے دوروزہ سائنس میلے کا افتتاح سوات میں سکولوں کے طلبا کے لیے سب سے بڑے دو روزہ سائنس میلے (17, 18)کا آغازخادی ہال، مینگورہ میں منگل کے روزمنعقد ہوا۔ اس میلے کا مقصد علاقہ کے بچوں میں سائنس اور نئی تحقیق کے جذبے کو جلا بخشنا اور سکولوں میں میسر بہتر تعلیمی مواقعوں کو فروغ دینا ہے۔ میلے کاانعقاد ضلعی انتظامیہ سوات نے ادھیانہ، سوات ایجوکیشن ڈیپارٹنمنٹ اور پاکستان الائنس فار میتھ اینڈ سائنس کے تعاون سے کیا ، جس کا افتتاح کمشنر مالاکنڈ ڈویڑن سید ظہیر الاسلام نے کیا، ان کے ساتھ ڈی آئی جی مالاکنڈ ریجن اختر حیات خان گنڈاپوری ، ڈی سی سوات شاہد محمود، اے ڈی سی محمد طاہرخان، اسسسٹنٹ کمشنر ہیڈ کوارٹر شہاب خان اور پارلیمینٹیر ین بھی موجود تھے۔میلے کے پہلے روز شائقین کی ایک بڑی تعداد نے میلے کا رخ کیا۔ ڈسٹرکٹ سوات سے تقریبا 130 سے زائد سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کے 5000 لڑکوں اور 1500 لڑکیوں نے میلے میں لگے سٹالوں کا دورہ کیا۔ اساتذہ، بزنس مین، سائنسی ماہرین، سرکاری افسران اورپارلیمینٹیر ینز نے بھی میلہ میں شرکت کی اور طلبا کے تیار کردہ 100 سے زائد سائنسی ماڈلز کی نمائش دیکھی۔ اس نمائش میں طلبا نے جہاں سائنس اور ٹٰیکنالوجی کے لیے اپنی لگن کا اظہار کیا وہیں جدید سوچ بھی متعارف کروائی۔شمولیتی سیشنز اور براہ راست تجربات، جن میں سے کچھ میں روبوٹکس، ہائیڈرولکس، الیکٹرک سرکٹ اور آسان ریاضی فہم گائیڈ شامل تھے وہ مقامی تعلیمی اداروں کے طلبا اور ملک بھر سے آئی چھے سائنسسی تنظیموں لرن و بوٹس، سٹیمر، نیومیریکا، پاکستان سائنس کلب، اے زیڈ کارپس اور سبق کی جانب سے جانب سے پیش کیے گئے۔ مقامی سائنس و ریاضی کی تنظیموں نے بھی اپنے کام کی نمائش کی اور بتایا کہ سکولوں میں نصاب اور عملی پڑھائی کے درمیان موجود دوری کو کس طرح سے ختم کیا جا سکتا ہے۔قوموں نے ریاضی او سائنس کے ذریعے اپنے شہریوں کو بہتر آمدن سے مضبوط بنایا اور اپنی معیشت کو ترقی دی ہے۔ ریاضی اور سائنس کی تعلیم نہ صرف پاکستانی معاشی ترقی کے خواب کا اہم جزو ہے بلکہ یہی وہ صلاحیت ہے جس کے ذریعے لوگوں کو مقامی و بیرونی خطرات سے محفوظ کیا جا سکتا ہے۔ سوات جو کہ 09۔2007 سے انتہا پسندی اور تشدد کے نشانے پر تھا اور یہاں لڑکیوں کے لیے تعلیم کے مواقع سکڑ گئے تھے اب یہاں حالات بہتری کی جانب گامزن ہیں۔ لڑکے اور لڑکیاں اب دوبارہ سکولوں میں جا رہے ہیں اگرچہ مخصوص چیلنجز کا تاحال سامنا ہے جن میں سے ایک برے تعلیمی نتائج ہیں کیونکہ جماعت پنجم کے 40.2 فیصد طلبا اردو و پشتو میں کہانی نہیں پڑھ سکتے ہیں جبکہ جماعت پنجم کے صرف 44 فیصد طلبا ہی دو ہندسی تقسیم کر سکتے ہیں۔ معیار کو مدنظر رکھ کر اٹھائے گئے ایسے اقدامات طلبا کو سازگار ماحول فراہم کرتے ہیں جہاں وہ اعلی معیاری تعلیم کو حاصل اور اپنی شخصیت کا حصہ بنا سکیں۔ اس کے علاوہ کمرہ جماعت میں ریاضی اور سائنس پر دی گئی زیادہ توجہ خصوصا سوات شہر اور عموما صوبہ خیبر پختونخوا میں بڑے پیمانے پر میسر مواقعوں سے فائدہ اٹھانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ نیشنل اکیڈیمی آف ینگ سائنٹسٹ کی زیر سرپرستی پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ 1036 طلبا نے بیک وقت سٹرابیری سے ڈی این نکال کر قومی ریکارڈ قائم کیا۔ اس کے علاوہ 955 طلبا نے ہاتھوں کی زنجیر بنا کر ڈی این اے بھی تشکیل دیا۔ یہ ریکارڈ پاکستان بک آف ریکارڈز میں درج کیے جائیں گے۔ عوام کے لیے یہ نمائش کل بروز بدھ بھی مفت جاری رہے گی۔ مزید معلومات کے لیے رابطہ کیجئیے

مزید : پشاورصفحہ آخر /رائے