شام، کیمیائی حملہ نہیں ہوا، لوگ آکسیجن کی کمی سے متاثر ہوئے: برطانوی صحافی

شام، کیمیائی حملہ نہیں ہوا، لوگ آکسیجن کی کمی سے متاثر ہوئے: برطانوی صحافی
شام، کیمیائی حملہ نہیں ہوا، لوگ آکسیجن کی کمی سے متاثر ہوئے: برطانوی صحافی

  

لندن (ویب ڈیسک)سینئر برطانوی صحافی رابرٹ فسک نے انکشاف کیا ہے کہ شام میں حکومت کی جانب سے دومہ شہر پر کیمیائی حملہ نہیں کیا بلکہ وہاں کے لوگ آکسیجن کی کمی کی وجہ سے متاثر ہوئے تھے نہ کہ کیمیکلز کی وجہ سے۔

یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

شامی شہر دومہ کے دورے کے بعد رابرٹ فسک نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ مقامی لوگ ایسے مقامات پر پناہ کیلئے چھپے تھے جو گندگی سے بھرے تھے اور جہاں آکسیجن کی سطح بہت کم تھی جس کی وجہ سے ان کی حالت خراب ہوئی۔ یاد رہے کہ فسک ان چند مغربی رپورٹرز میں سے ہیں جنہوں نے القاعدہ رہنما اسامہ بن لادن کا انٹرویو کیا تھا۔ اپنے دورہ شام کے دوران رابرٹ فسک نے 58 سال کے مقامی ڈاکٹر عاصم راہبانی کا بھی انٹرویو کیا جنہوں نے کئی متاثرین کا علاج کیا۔

ڈاکٹر راہبانی کا کہنا تھا کہ دنیا بھر کے ٹی وی چینلوں پر جو ویڈیو دکھائی جا رہی ہے جس میں شامی افراد کی حالت زار دکھائی جا رہی ہے وہ اصل میں کوئی کیمیائی حملہ نہیں تھا بلکہ لوگ آکسیجن کی کمی کی وجہ سے سانس لینے میں دشواری کا سامنا کر رہے تھے۔ رابرٹ فسک کے مطابق انہوں نے 20 سے زائد مقامی لوگوں سے بات کی اور کسی کو یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ مغربی ممالک نے میزائل حملہ کیوں کیا۔

رابرٹ فسک نے سوال اُٹھایا کہ ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ دومہ شہر کے جو لوگ ترکی کے پناہ گزین کیمپوں میں پہنچے وہ گیس حملے کی بات کرتے ہیں لیکن جو لوگ دومہ میں رہتے ہیں اور یہاں موجود ہیں انہیں ایسے کسی گیس حملے کا علم ہی نہیں۔

مزید : برطانیہ