بچیاں حوالگی کیس ، عدالت کا بچیوں کو تین ماہ کیلئے غیر ملکی ماں کے ساتھ رکھنے کا حکم ، خرچہ والد اٹھائے گا: چیف جسٹس

بچیاں حوالگی کیس ، عدالت کا بچیوں کو تین ماہ کیلئے غیر ملکی ماں کے ساتھ رکھنے ...
بچیاں حوالگی کیس ، عدالت کا بچیوں کو تین ماہ کیلئے غیر ملکی ماں کے ساتھ رکھنے کا حکم ، خرچہ والد اٹھائے گا: چیف جسٹس

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ نے بچے حوالگی کیس کی سماعت کے دوران لیتھوانیا کی خاتون کو تین ماہ تک اپنی بچیوں کے ساتھ رہنے کی اجازت دے دی اور حکم دیا ہے کہ اس کے تمام اخراجات بچیوں کا والد اٹھائے گا۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں بینچ نے بچیوں کی حوالگی سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا غیر ملکی خاتون میمونہ نے جمشید کیلئے اپنا مذہب چھوڑا اور مسلمان ہوئیں یہ بات طے شدہ ہے کہ بچیوں کو د بئی سے اغوا کیا گیا کیوں نہ بچیوں کے والد کو تین ماہ کیلئے جیل میں رکھا جائے اور اس کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائے۔ چیف جسٹس نے بچیوں کے والد کے خلاف پولیس کو مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا تاہم وکیل کی درخواست پر چیف جسٹس نے حکم واپس لے لیا۔

عدالت نے بچیوں کو تین ماہ کیلئے والدہ کے ساتھ رکھنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ والد پچھلے 20 روز کی طرح بچیوں کو والدہ سے لے کر سکول چھوڑ کر آئے اور واپس پھر والدہ کے پاس چھوڑ کر آئے،بچیوں کا والد بچیوں اور ان کی والدہ کے ساتھ رہنے کے اخراجات اٹھائے، گارڈین جج والدین اور بچیوں کے ساتھ رہنے کی نگرانی کرے۔ سپریم کورٹ نے کیس کی مزید سماعت 3 ہفتوں کیلئے ملتوی کردی۔

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں لتھوانیا کی ایک نومسلم خاتون میمونہ سپریم کورٹ میں پیش ہوئی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ گوجرانوالہ کا رہائشی جمشید 7 سال پہلے ان کی تین بیٹیوں کو پارک تک لے جانے کا بہانہ بنا کر پاکستان بھاگ آیا جس کے بعد سے اس نے اپنی بیٹیوں سے ملاقات نہیں کی ۔ گزشتہ سماعت پر عدالت نے بچیوں کو ان کی والدہ کے ساتھ رکھنے کا حکم دیا تھا۔

مزید : اہم خبریں /قومی /علاقائی /اسلام آباد