فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر407

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر407
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر407

  

’’بے گناہ ‘‘اردو فلم تھی ۔اس زمانے میں اردو فلمیں بہت زیادہ تعداد میں بن رہی تھیں ۔مظہر شاہ نے بھی چند فلموں میں کام کیا جن میں ممتاز ،مظلوم اور نائٹ کلب قابل ذکر ہیں مگر اردو فلموں میں وہ اپنی صلاحیتو ں کے جوہر نہ دکھا سکے ۔

پنجابی فلموں کا دور شروع ہوا تو ہر ایک کی توجہ اس طرف ہو گئی ۔فلم ساز اور ہدایت کار اسم ایرانی نے پنجابی فلم ’’بہروپیا‘‘شروع کی تو مظہر شاہ کو ولن کے کردار میں پیش کیا ۔اکمل اس فلم کے ہیرو تھے ۔عام طور پر فلموں میں ہیرو اور ہیروئن کی جوڑی ہوتی ہے مگر اس فلم میں اکمل اور مظہر شاہ کی جوڑی کو لوگوں نے بے انتہا مقبول کر دیا ۔اس کے بعد تو یہ عالم تھا کہ ہر فلم میں یہ دونوں ایک ہی ساتھ کاسٹ کیے جاتے تھے ۔اس جوڑی نے فلم کی صنعت میں بے پناہ شہرت اور کامیابیاں حاصل کیں اور انہیں پنجابی فلموں میں لازم و ملزوم سمجھا جانے لگا۔

’’چاچاجی‘‘ ’’ملنگی‘‘ ’’جگری یار‘‘ ان کی اس دور کی کامیاب فلمیں تھیں ۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر406 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اکمل اور مظہر شاہ اصلی زندگی میں گہرے دوست تھے۔ایک دوسرے کے بغیر انہیں چین نہیں آتا تھا۔ان دونوں نے 25سے 34 فلموں میں ایک ساتھ کام کیا اور بے انتہا مقبولیت حاصل کر لی تھی ۔اس زمانے میں ان کی فلمیں کامیابی کی ضمانت سمجھی جاتی تھیں اور یہ دونوں ہیرو اور ولن کے لیے لازم اور ملزوم بن گئے تھے۔بلکل اسی طرح جس طرح بعد کے دور میں سلطان راہی اور مصطفی قریشی پنجابی فلموں مین لازم ملزوم بن گئے تھے۔

مظہر شاہ نے اردو فلموں میں کام کیا مگر وہ بلند مرتبہ نہ حاصل کر سکے جو انہیں پنجابی فلموں میں ملا تھا ۔ان کی فلموں میں ممتاز،نائٹ کلب ،مظلوم ،بے خبر اور زمین کا چاند شامل ہیں ۔ان میں سے کوئی بھی قابل ذکر کامیابی حا صل نہیں کر سکی ۔اس لیے انہیں اردو فلموں میں پذیرائی نہیں مل سکی ۔

ایک زمانے میں قومی زبان اردو میں بہت ساری فلمیں بنا ئی جاتی تھیں اور ملک کے طول و عرض میں ان کو بہت مقبولیت اور کامیابی حاصل کرتی تھیں ۔مگر پھر پنجابی فلموں کو جب پذیرائی ملی تو وہ بھی کافی تعداد میں بننے لگیں ۔

ان کی پہلی بے حد کامیاب فلم ’’بہروپیا ‘‘تھی جس کے ہدایت کار اسلم ایرانی تھے۔اس فلم میں انہوں نے اکمل کو ہیرو اور مظہر شاہ کو ولن کے طور پہ کاسٹ کیا تھا ۔’’بہروپیا ‘‘کی نمایاں کامیابی نہ صرف ان ادا کاروں کو استاد بنا دیا بلکہ ان کی جوڑی بھی مقبول ہو گئی ۔اس سے پہلے وہ دونوں فلم ’’بچہ جمہورا ‘‘میں بھی یکجا ہوئے تھے۔مگر یہ فلم سپرہٹ نہ ہوئی تھی ۔فلم ’’مظلوم ‘‘میں بھی انہوں نے ایک ساتھ کام کیا تھا مگر وہ کہتے ہیں نہ کامیابی سے بڑھ کرکوئی چیز کامیابی نہیں ہوتی ۔تو یہی معاملہ ان دونوں کے ساتھ پیش آیا ۔’’بہروپیا ‘‘ایک سپرہٹ فلم تھی جس نے ان دونوں کو بھی اسٹار بنا دیا تھا ۔اس کے بعد تو اس جوڑی کی کامیاب فلموں کی قطار ہی لگ گئی ۔جگری یار،ملنگی،چاچاجی ان دونوں کی سپرہٹ اور یادگار فلمیں ہیں ۔فلم ’ہتھ جوڑی‘ نے بھی کامیابی کے نئے ریکارڈ قائم کیے اور بعض چھوٹے شہروں میں بھی کامیابی کے نئے ریکارڈ قائم کیے اور بعض چھوٹے شہروں میں بھی سلور جوبلی منائی۔

’’رن مرید‘‘ان دونوں کی آخری فلم تھی ۔اس کی وجہ یہ تھی کہ اس فلم کی نمائش سے پہلے ہی اکمل وفات پا گئے تھے۔یہ فلم اکمل کی وفات کے بعد ریلیز ہوئی تھی ۔اکمل کا ساتھ کیا چھوٹا قسمت نے بھی مظہر شاہ کا ساتھ چھوڑ دیا ۔ذاتی طور پر بھی مظہر شاہ کو انکی جوانی کی موت کا صدمہ پہنچا۔اور ان کی یاد میں وہ پھوٹ پھوٹ کر روئے اور یہ زخم زندگی بھر رستارہا۔

اور جب تک زندہ رہے تب تک ان کا ذکر کر کے روتے رہے ۔یہ سچ ہے کہ اسکرین پہ یہ دونوں جانی دشمن حقیقت میں ایک دوسرے کے دکھ سکھ کے ساتھی اور گہرے دوست تھے۔فلموں کی شوٹنگ کے علاو ہ فارغ اوقات یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ گزارتے تھے۔

فلموں میں مظہر شاہ کی دو خصوصیات فلم بینیوں کے لیے پر کشش تھیں ۔ایک تو ان کی زور دار بھڑک اور دوسرا ان کا تکیہ کلام۔ہر فلم میں ان کا ایک تکیہ کلام ضرور ہوتا تھا جو فلم دیکھنے والوں کی زبانوں میں چڑھ جاتا تھا۔جنے ڈاڈے نال ویر پایا ۔اودھی ماں نے وین پایا۔۔۔۔یا پھر ،ٹبّر کھا جاواں تے ڈکار تک نہ لا ں ، یعنی پوراخاندان کھا جاؤں پر ڈکا نہ لوں ۔حزیں قادری اس زمانے میں پنجابی فلموں کی کہانیا ں اور مکالمے لکھتے تھے اور کیا خوب لکھتے تھے ۔وہ ڈھونڈ ڈھونڈ کر اس طرح کے کردار تلاش کرتے تھے اور بہت خوبصورت مکالمے لکھتے تھے۔ان کے لکھے ہوئے کرداراور مظہر شاہ کی زبان سے ادا کیے گئے تکیہ کلام بے حد مقبول ہوتے تھے اور آج تک دیکھنے والوں کو یاد ہیں ۔

مظہر شاہ نے زیادہ تر فلمیں اسلم ایرانی ،ایم جے رانا اور وحید ڈار کے ساتھ کی تھیں ۔ یہ تینوں پنجابی فلموں کے اچھے ہدایت کار اور فلم ساز تھے ان کی ساری فلمیں ہی زیادہ تر ہٹ ہوتی تھیں ۔

مظہر شاہ نے تیس سال فلموں میں کام کیا ہے اور اس دورانیے میں ڈھائی سو سے زائد فلموں میں کام کیا ۔وہ ان اداکاروں میں تھے جن کا نام سن کرہی انکے پرستار فلم دیکھنے آجاتے تھے۔فلم اچھی ہو یا بری لیکن مظہر شاہ کی اداکاری ان کو ہمیشہ پسند آتی تھی ۔مظہر شاہ کی اداکاری کا ایک مخصوص انداز تھا ۔اس میں ان کا کوئی قصور نہ تھا ۔اگر فلمیں ایک سی کہانیوں پر بنائی جائیں اور ایک ہی جیسے کردار ادا کرنے کو ملیں تو اداکار ایک ہی حد تک محدود ہو کر رہ جاتا ہے لیکن مظہر شاہ کی با رعب جوشیلی آواز ،ادائیگی کا والہانہ انداز ہر فلم میں بھلا لگتا تھا ۔انہوں نے فلم ساز کی اہمیت سے چار یا پانچ فلمیں بنا ئیں تھیں ۔ان میں بعض فلموں میں انہوں نے ہیرو کا کردار ادا کیا تھا ۔’’سردار سائیں ‘‘میں وہ ہیرو تھے اور سلطان راہی ولن کے کردار میں تھے۔فلم ’’محرم دل دا ‘‘میں انکی ہیر وئن رانی تھیں ۔فلم ضدی میں بھی وہ ہیرو تھے اور ان کی ہیروئن عالیہ تھیں ۔کجلا اور بابل دیا ں گلیان بھی انکی ذاتی فلمیں تھیں ۔ان کی بطور فلم ساز آخری فلم ’’گنگا سنگھ ‘‘تھی جو آج تک ریلیز نہ ہو سکی۔وجہ یہ ہے کہ اس وقت رنگین فلموں کا وقت شروع ہو چکا تھا اور ان کی فلم بلیک اینڈ وائٹ تھی ۔اس میں کچھ حصہ خوبی تقدیر کا بھی تھا ۔دراصل انکا دور زوال شروع ہو چکا تھا ۔ ایک طویل عرصے تک پنجابی فلموں میں حکمرانی کرنے کے بعد انکے دوسرے حریف میدان میں آگئے تھے اور وہ پس منظر میں چلے گئے تھے ۔کچھ فلم سازوں کی بھیڑ چال نے بھی انہیں نقصان دیا ۔(جاری ہے)

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر408 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ