بلوچستان کوتعلیم نہیں تاج محل چاہئے 

بلوچستان کوتعلیم نہیں تاج محل چاہئے 
بلوچستان کوتعلیم نہیں تاج محل چاہئے 

  

مجھے آج جلدی ایک سیمینار کے لئے جانا تھا کیونکہ کمرے سے نکلتے ہوئے کافی دیر ہوچکا تھا۔ میں تیزی کے ساتھ اپنی بائیک چلا رہا تھا ۔ وقت کے پابند ہوتے ہوئے آج کافی لیٹ تھا۔ مین شاہراہ پر چلتے ہوئے مجھے اچانک رکنا پڑا۔ 

دوپہر کے بارہ بج رہے تھے۔ مین شاہراہ پر دو بچے معصوم چہرے کے ساتھ کچرہ کنڈی سے سامان نکال کراپنے شاپر میں بھر رہے تھے۔ ایک عجیب احساس ہورہا تھا کیونکہ چند منٹ پہلے کمرے سے نکلتے ہی مجھے وہ بینرز واضح نظر آئے تھے جس پر ایک ہی نعرہ درج تھا کہ ’’پڑھے گا بلوچستان، بڑھے گا بلوچستان‘‘

شاید یہ نعرہ ان بچوں کے لئے نہیں تھا۔ مجھے ایسا لگا کہ ہم اس سلوگن کے ساتھ مسقبل کی حکمت عملی طے کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔

انہی سوچوں سے نکل نہیں آیا تھاکہ میں بچوں سے مخاطب تھا کیوں سکول نہیں جاتے ہو؟ اس عمر آپ لوگوں کو سکول میں ہونا تھا نہ کہ یہاں ؟

پھر ذہن میں بار بار ایک سوال گونجتا رہا کہ یہ معاشرہ جب نعروں پر یقین رکھتی ہے تو بچے سکول کی بجائے فٹ پاتھوں پر ہوں گے،اور یہی طبقاتی نظام چلتا رہے گا۔

پھر احساس ہوا کہ شاید غربت کے ہاتھوں بے بس یہ بچے سکول کی بجائے چائلڈ لیبر کا شکار ہیں۔ میں تو دو بچوں کی بات کررہا تھا۔ مگر اقتدار کے ایوانوں میں براجمان عوام کے نمائندے خود یہ اعتراف کررہے تھے کہ اس وقت صرف بلوچستان سے لاکھوں بچے سکول ایج کے ہوتے ہوئے سکولوں سے باہر ہیں۔

انکو یہ احساس کون دلائے گا؟ کہ عوام کی ووٹ سے اقتدار کے ایوانوں میں مزہ لوٹتے لوٹتے آپ کو اس قوم کے بچوں اور بچیوں کا خیال کیوں نہیں آیا؟

پھر خیال آیا کہ ہم آج بھی ماضی سے نکل نہیں آئے ہیں۔جب مغرب آکسفورڈ اور ہارڈورڈ یونیورسٹی کی سنگ بنیاد رکھ رہا تھا تو ہم نے تاج محفل بناکر دنیا کو یہ ثابت کر دکھایا کہ محبت بھی ایک چیز ہوتی ہے۔ فرق صرف اتنا تھا کہ مغرب نے محبت کی خاطر یونیورسٹی بنائی۔ اور ہم نے اس وقت تاج محل۔ کیونکہ انکا خیال تھا کہ کینسر کسی اور کی جان نہ لے۔ ہم نے تاج محفل بناکر یہ ثابت کردیا کہ ہم کو تعلیم نہیں بلکہ تاج محفل کی ضرورت ہے۔

میں خیالات کی دنیا سے نکل کر یونیورسٹی کے ہال میں پہنچ چکا تھا جہاں پائیدار ترقی اور نوجوان کی رول پر ایک سیمینار جاری تھا۔ کافی جوش اور ولولہ سے لیکچر دئیے جارہے تھے۔ لگ تو ایسا رہا تھا کہ اس سیمینار کے ختم ہوتے ہی سارے نوجوانوں کو انکی ذمہ داریاں سونپ کر انکی خدمات حاصل کیا جائے گا۔

راہ چلتے مسافروں کی طرح مجھے سکون نہیں آرہا تھا میں ایک سانس میں درجنوں سوال کرنا چاہتا تھا۔ مجھے آج ان لوگوں کو یہ بتانا تھا کہ ہم صرف باتیں کرتے ہیں عمل کرنا نہیں جانتے۔

ہال سے نکلتے وقت مجھے کچھ سوالوں کا جواب درکار تھا ۔ سوچ رہا تھا کہ کن سے اپنے سوالوں کی جواب ڈھونڈو؟۔۔۔ کون ہے اس سماج میں جو انسان کی درد سمجھ سکتا ہے؟پھر یاد آیا کہ ہال میں موجود کسی سے پوچھ لو؟ جو پائیدار ترقی اور نوجوانوں کے کردار پر خوبصورت لیکچر دے چکا ہے۔

سر! آپ سے کچھ پوچھنا ہے۔ میں بار بار ایک ہی بات دہرا رہا تھا۔ مگر صاحب کو شاید جلدی تھی۔کیونکہ اس کا کام لیکچر دے کر اپنی ذمہ داری پورا کرنا تھا ۔

مرسڈیز کار میں سوار اب وہ جارہا تھا اور میں دکھ بھری نگاہوں سے اس کو دیکھ رہا تھا۔

لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہال اب خالی ہوچکا تھا۔ ہال کے ایک کونے میں تنہائی کے ساتھ اداس بیٹھ کر اپنی سوالوں کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کررہا تھا۔

پھر اچانک خیال آیا کہ ہمیں ایک اور تاج محل کی ضرورت ہے۔

۔

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ