”حضرات !!! سب کچھ فری، فری، فری۔۔۔“ یہ شخص مسجد میں کھڑا ہو کر کیا اعلان کر رہا ہے؟ ویڈیو نے سوشل میڈیا پر ایسا ہنگامہ برپا کیا کہ ہر کوئی غصے سے آگ بگولہ ہو گیا، دیکھ کرآپ بھی بے حد غصے میں آ جائیں گے

”حضرات !!! سب کچھ فری، فری، فری۔۔۔“ یہ شخص مسجد میں کھڑا ہو کر کیا اعلان کر ...
”حضرات !!! سب کچھ فری، فری، فری۔۔۔“ یہ شخص مسجد میں کھڑا ہو کر کیا اعلان کر رہا ہے؟ ویڈیو نے سوشل میڈیا پر ایسا ہنگامہ برپا کیا کہ ہر کوئی غصے سے آگ بگولہ ہو گیا، دیکھ کرآپ بھی بے حد غصے میں آ جائیں گے

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) مساجد میں لگے لاﺅڈ سپیکرز کے آزادانہ استعمال پر تو پابندی عائد ہو چکی اور اب انہیں صرف اذان دینے اور علاقے میں ہونے والے اہم واقعات جیسا کہ فوتیدگی وغیرہ سے متعلق اعلانات کیلئے استعمال کیا جاتا ہے لیکن ایک شخص نے اس کا ایسا استعمال کیا کہ سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا ہو گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔”میں کنوارہ پن بیچنا چاہتی ہوں اور مجھے اب تک۔۔۔“ پرتگال کی حسینہ نے کنوارہ پن بیچنے کا اعلان کیا تو اسے کتنے لاکھ ڈالرز کی پیشکش ملی اور وہ کتنی رقم لینا چاہتی ہے؟ تفصیلات نے ہر کسی کا سر شرم سے جھکا دیا 

سوشل میڈیاپر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک شخص کسی کمپنی کے ”سم کارڈ“ فروخت کرنے کیلئے کمپنی کی طرف سے ملنے والی آفرز کے بارے میں مسجد کے سپیکر سے اعلان کرتے ہوئے کہہ رہا ہے ”جس کے پاس شناختی کارڈ ہے وہ سم لے سکتا ہے۔ کمپنی کی طرف سے 5 روپے کا بیلنس فری ہے، واٹس ایپ فری ہے، اور تین دن کیلئے 2,000ایم بی بالکل مفت انٹرنیٹ ہے، سم کے کوئی پیسے نہیں، اعلان ختم ہوا۔“

اب معلوم نہیں کہ اس شخص پر کمپنی کی سمیں فروخت کرنے کا دباﺅ تھا یا پھر نوکری بچانے کی فکر، مگر اس ویڈیو نے سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپاکر رکھا ہے اور لوگ ملے جلے جذبات کا اظہار کر رہے ہیں۔

خوشحال خان نے لکھا ”اکثر پنجاب کے دیہات میں بھی مسجدوں میں کچھ اس طرح کے اعلان ہوتے ہیں جو میں نے فیصل آباد کے ایک چک میں خود سنے ہیں۔ رفیق قصائی کی دکان پر تازہ گوشت اور رزاق سبزی والے کی دکان پر تازہ سبزی آ گئی ہے، جس کو خریدنی ہو، خرید لے“

علی سلہری نے لکھا ”افسوس! مسجد اللہ کا گھر، خاص عبادت کیلئے جگہ۔ پر ہمارے ہاں مسجدوں کو کاروبار بنایا ہوا ہے اور شوبز والے نیم ننگے لوگوں نے شادیوں پر مسجدوں کا رخ کر لیا ہے۔ نماز کیلئے نہیں محض نکاح کے فوٹوسیشن کیلئے، یہ لوگ اور ناچنے گانے والے آخر کب تک مسجدوں کی بے حرمتی کریں گے؟

افسوس یہ مراثی مسجدوں کو سستی شہرت کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔ ان مراثیوں نے عبادت گاہ کو تفریح گاہ بنا لیا۔ یہی حال فیصل مسجد کا ہے جسے تفریح گاہ بنا دیا گیا ہے۔ پتہ نہیں انسانیت اور اخلاقیات کی تمام حدوں کو پار کرتے ہوئے کیسے آنکھوں پر پٹی بندھ جاتی ہے۔ اللہ انہیں اور ہم سب کو ہدایت دے۔۔۔ آمین“

اکرام اللہ نے لکھا ”اعلان کرنے والے تیرہ بیڑہ غرق ہو، یہ مسجد ہے تیرا گھر نہیں۔ خدا تجھے غارت کرے“

اعجاز نور نے لکھا ”جب آپ کو خوف خدا نہ ہو اور آپ اس قدر نڈر ہو جائیں کہ خدا کے گھر کی تکریم کو بھول جائیں تو تب یہ کام کرتے ہیں“

عمران رضا رانا نے لکھا ”مارکیٹنگ کا انتہائی گھٹیا طریقہ۔۔۔ ہمیں سوچنا چاہئے“

حسن حسین نے لکھا ”جس جاہل کے بچے نے ویڈیو بنائی ہے اس کو اسے دو چار تھپڑ رسید کرنے چاہئے تھے“

محمد خاور نے لکھا ”لکھ دی لعنت، مسجد کی انتظامیہ پر بھی جس نے ایسا اعلان کرنے کی اجازت دی“

شازیب ظہور نے لکھا ”پنجاب کے دیہاتوں میں شادی کے سدے، چوک میں کپڑوں کے سٹال اور کٹے ذبح ہونے کے اعلانات مسجد کے سپیکر سے ہوتے ہوئے میں نے بھی سنے ہیں“

مزید : ڈیلی بائیٹس /علاقائی /پنجاب /لاہور